امریکی صدر ٹرمپ کا پاک بھارت تناؤ پر بیان سامنے آگیا

پاکستان اور بھارت کو اپنے مسائل خود حل کرنے چاہئیں، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کوئی نئی بات نہیں ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاک-بھارت کشیدگی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک اپنے مسائل خود حل کریں۔ مقبوضہ کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں، لیکن ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ اس تنازعے میں براہ راست مداخلت نہیں کریں گے۔

مقبوضہ کشمیر کے پہلگام علاقے میں ہونے والے ایک بڑے حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اس صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو اپنے مسائل خود حل کرنے چاہئیں، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کوئی نئی بات نہیں ہے۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، "پاکستان اور بھارت اس مسئلے کو کسی نہ کسی طرح خود ہی حل کر لیں گے۔ ان کے درمیان ہمیشہ سے بڑا تناؤ رہا ہے۔” انہوں نے بتایا کہ وہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کو جانتے ہیں، لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ وہ ان سے براہ راست رابطہ کریں گے یا نہیں۔

پہلگام میں ہونے والا یہ حملہ گزشتہ 20 سالوں میں سب سے سنگین واقعہ مانا جا رہا ہے۔ اس میں 26 افراد ہلاک ہوئے۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر لگایا ہے، لیکن پاکستان نے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے۔

اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید خراب ہو گئے ہیں۔ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا ہے، جبکہ پاکستان نے بھارتی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کے درمیان تجارت بھی متاثر ہو رہی ہے۔

ٹرمپ نے مزید کہا، "دونوں ممالک کے درمیان کئی سو سالوں سے تناؤ چل رہا ہے، یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے۔” انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان اور بھارت سے اچھے تعلقات رکھتے ہیں، لیکن کشمیر کے تنازعے میں براہ راست مد رہنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے کہا کہ یہ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور امریکا اس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکا ابھی کشمیر کی صورتحال پر کوئی واضح موقف نہیں اپنا رہا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اس کشیدگی پر تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک سے اپیل کی کہ وہ صبر سے کام لیں اور حالات کو بہتر بنائیں۔

ٹرمپ کے بیان سے لگتا ہے کہ امریکا اس تنازعے میں ثالثی کرنے کے بجائے دونوں ممالک پر زور دے رہا ہے کہ وہ اپنے مسائل بات چیت اور پرامن طریقوں سے حل کریں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین