وہ دردناک وقت جب قادر خان مسجد کے باہر بھیک مانگنے پر مجبور ہو گئے

اپنی زندگی میں 400 سے زیادہ فلموں میں کام کیا۔ ان کی آخری فلم 2019 میں ریلیز ہوئی

معروف بالی ووڈ اداکار اور مکالمہ نگار قادر خان کی زندگی غربت سے شہرت تک کے سفر کی ایک متاثر کن کہانی ہے۔ بچپن میں وہ مسجد کے باہر بھیک مانگنے پر مجبور ہوئے، لیکن مشکل حالات سے لڑ کر انہوں نے 400 سے زائد فلموں میں کام کیا اور اپنی صلاحیتوں سے سب کے دل جیت لیے۔

مرحوم بالی ووڈ اداکار، مکالمہ نگار اور مصنف قادر خان کی زندگی جدوجہد اور کامیابی کی ایک ایسی داستان ہے جو سب کو متاثر کرتی ہے۔

بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق، امیتابھ بچن، گووندا اور دیگر بڑے ستاروں کے ساتھ کئی کامیاب فلموں میں کام کرنے والے قادر خان کا بچپن بہت غربت میں گزرا۔ انہیں نہ صرف پیسوں کی کمی کا سامنا تھا بلکہ سوتیلے والد کے ساتھ ان کے تعلقات بھی اچھے نہیں تھے۔

ان مشکل حالات کی وجہ سے قادر خان اور ان کے بہن بھائیوں کو کم عمری میں گھر سے بے دخل ہونا پڑا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہیں ممبئی کی سڑکوں پر بھیک مانگ کر اپنا پیٹ پالنا پڑا۔

ایک پرانے انٹرویو میں قادر خان نے اپنے مشکل دنوں کے بارے میں بتایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سوتیلے والد کی مار سہنی پڑی اور بہت کم عمری میں پیسے کمانے کے لیے مسجد کے باہر بھیک مانگنی پڑی۔

لیکن ان تلخ تجربات نے قادر خان کی شخصیت کو مضبوط کیا اور ان کے فن کو گہرائی دی۔ وہ غربت کی زندگی سے نکل کر نہ صرف ایک بہترین اداکار بنے بلکہ ایک مشہور اسکرین رائٹر کے طور پر بھی پہچان بنائی۔

قادر خان نے اپنے کیریئر کا آغاز 1973 میں کیا اور اس کے بعد وہ کئی فلموں سے منسلک رہے۔ ان کی فلم "خوددار”، جسے انہوں نے خود لکھا اور ڈائریکٹ کیا، تین بھائیوں کی کہانی ہے جو زندگی کی مشکلات کی وجہ سے سڑکوں پر آ جاتے ہیں۔

اسی طرح فلم "سپنوں کا مندر” میں انہوں نے "مولا بابا” نامی ایک نابینا فقیر کا کردار ادا کیا۔ یہ کردار کہانی کا اہم حصہ تھا اور اسے ان کے بچپن کے تجربات سے متاثر سمجھا جاتا ہے۔

قادر خان نے اپنی زندگی میں 400 سے زیادہ فلموں میں کام کیا۔ ان کی آخری فلم 2019 میں ریلیز ہوئی۔ اس کے بعد وہ کینیڈا میں انتقال کر گئے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین