بالی ووڈ کے سپر اسٹار شاہ رخ خان نے برسوں تک کشمیر جانے سے گریز کیا کیونکہ ان کے والد کی وصیت تھی کہ وہ کشمیر ان کے بغیر نہ دیکھیں۔ 2012 میں فلم ’جب تک ہے جان‘ کی شوٹنگ کے لیے وہ پہلی بار کشمیر گئے، جہاں انہوں نے یش چوپڑا کی ہدایت پر یہ عہد توڑا اور اسے اپنی زندگی کا سب سے خوبصورت تجربہ قرار دیا۔
بالی ووڈ کے شہنشاہ شاہ رخ خان، جو دنیا بھر میں گھوم چکے ہیں، نے برسوں تک کشمیر جانے سے گریز کیا۔ اس کی وجہ ان کے والد کی ایک خاص وصیت تھی۔
یہ بات 2012 میں مشہور ٹی وی شو ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ کی ایک خاص قسط میں سامنے آئی، جہاں شاہ رخ اپنی فلم ’جب تک ہے جان‘ کی تشہیر کے لیے اداکارہ کترینہ کیف کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔
شو کے دوران میزبان امیتابھ بچن نے بتایا کہ ’جب تک ہے جان‘ وہ پہلی فلم ہے جس کی شوٹنگ شاہ رخ نے کشمیر میں کی۔ اس پر شاہ رخ کے چہرے پر سنجیدگی چھا گئی اور انہوں نے اپنے دل کی بات شیئر کی، جو ان کے مرحوم والد سے جڑی تھی۔
شاہ رخ نے بتایا کہ ان کے والد نے ان سے کہا تھا کہ وہ زندگی میں تین جگہیں ضرور دیکھیں استنبول، روم اور کشمیر۔ لیکن انہوں نے یہ بھی نصیحت کی کہ استنبول اور روم تو اکیلے دیکھ لینا، مگر کشمیر میرے بغیر نہ جانا۔ بدقسمتی سے شاہ رخ کے والد کا انتقال اس وقت ہو گیا جب وہ صرف 15 سال کے تھے، اور یہ وصیت ان کے دل میں گہرائی سے سمایہ گئی۔
دوستوں اور گھر والوں نے کئی بار کشمیر جانے کی فرمائش کی، حتیٰ کہ گھر والے چھٹیاں منانے کشمیر گئے، لیکن شاہ رخ نے ہمیشہ خود کو روک لیا۔ کشمیر نہ جانے کا فیصلہ سیاسی یا جغرافیائی حالات کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ یہ ان کے والد کی وصیت کی عزت تھی۔
یہ عہد شاید ہمیشہ برقرار رہتا، لیکن فلم ’جب تک ہے جان‘ کی شوٹنگ کے دوران ہدایتکار یش چوپڑا، جنہیں شاہ رخ اپنا باپ مانتے تھے، نے کہا کہ ’’بیٹا، ہم کشمیر میں شوٹ کریں گے۔‘‘ اس وقت شاہ رخ کے لیے انکار کرنا ممکن نہ تھا کیونکہ وہ یش چوپڑا کو اپنے والد کی طرح مانتے تھے۔
جب شاہ رخ پہلی بار کشمیر پہنچے اور ہیلی کاپٹر سے گلمرگ کی طرف جا رہے تھے، تو برسوں کی اداسی خوشی میں بدل گئی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں شوٹنگ کرنا ان کی زندگی کے سب سے خوبصورت لمحات میں سے ایک تھا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ’جب تک ہے جان‘ نہ صرف شاہ رخ کی کشمیر میں پہلی فلم تھی، بلکہ یہ عظیم ہدایتکار یش چوپڑا کی آخری فلم بھی تھی۔ بدقسمتی سے فلم کی ریلیز سے چند ہفتے پہلے اکتوبر 2012 میں یش چوپڑا کا انتقال ہو گیا۔
شاہ رخ کے والد میر تاج محمد خان کا انتقال 1981 میں کینسر کی وجہ سے ہوا، جب شاہ رخ صرف 15 سال کے تھے۔ چند سال بعد 1991 میں ان کی والدہ لطیف فاطمہ خان بھی ذیابیطس کی بیماری سے انتقال کر گئیں۔ شاید یہ دکھ اور محرومیاں ہی شاہ رخ کو ایک حساس، وفادار اور جذباتی انسان بناتی ہیں، جنہوں نے اپنے والد کی بات کو نہ صرف دل سے لگایا بلکہ اپنی روح میں سمو دیا۔





















