کیا آپ جانتے ہیں کہ ہنسنا آپ کی موت کا سبب بھی بن سکتا ہے؟

دنیا میں ایسے حقیقی واقعات پیش آ چکے ہیں جہاں ہنسی موت کی وجہ بن گئی

کیا آپ کو معلوم ہے کہ زیادہ ہنسنا جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے؟ سائنس بتاتی ہے کہ اگرچہ ایسے واقعات بہت نایاب ہیں، لیکن دنیا میں ایسے حقیقی واقعات پیش آ چکے ہیں جہاں ہنسی موت کی وجہ بن گئی۔ آئیے جانتے ہیں ہنسنے سے موت کیسے واقع ہو سکتی ہے۔

سائنس کے مطابق، بہت زیادہ ہنسنے سے بعض اوقات واقعی موت ہو سکتی ہے۔ اگرچہ یہ صورتحال بہت کم پیش آتی ہے، لیکن تاریخ میں ایسے چند واقعات ریکارڈ ہو چکے ہیں۔

مگر آخر ہنسی کے دوران ایسا کیا ہوتا ہے جو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے؟ آئیے تفصیل سے جانتے ہیں

دل کا دورہ:
اگر کوئی شخص دل کی کسی بیماری میں مبتلا ہو تو شدید ہنسی اس کے دل کی دھڑکن کو بے ترتیب یا تیز کر سکتی ہے، جو بعض صورتوں میں جان لیوا دل کے دورے کا سبب بن سکتی ہے۔

سانس بند ہونا (Asphyxiation):
بہت زیادہ ہنسنے کی صورت میں سانس کی نالی دب سکتی ہے، جس کے نتیجے میں سانس رکنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے اور انسان موت کا شکار ہو سکتا ہے۔

دماغی شریان پھٹ جانا (Brain Aneurysm):
شدید ہنسی دماغ میں دباؤ کو بڑھا سکتی ہے۔ اگر دماغ میں پہلے سے کوئی کمزور شریان (aneurysm) موجود ہو تو وہ پھٹ سکتی ہے، جو اچانک موت کا باعث بن سکتی ہے۔

کیٹاپلیکسی (Cataplexy):
کیٹاپلیکسی ایک نایاب بیماری ہے جس میں شدید جذباتی کیفیت (جیسے بہت زیادہ ہنسی) کی وجہ سے جسم کی طاقت اچانک ختم ہو جاتی ہے۔ بعض صورتوں میں یہ بے ہوشی یا پیچیدگیوں کے ساتھ موت کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

تاریخ میں ایسے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ مشہور قدیم یونانی فلسفی کرائسیپس (Chrysippus) کی 200 قبل مسیح میں موت اس وقت واقع ہوئی جب وہ ایک مزاحیہ منظر دیکھ کر اتنی زیادہ ہنسے کہ ان کی جان چلی گئی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین