فیصل آباد میں گرمی کے ساتھ ہی برتنوں کی طلب میں واضح اضافہ ریکارڈ

فیصل آباد کے ماہر کاریگر خاص قسم کی مٹی اور روایتی تکنیکوں سے مٹکے بناتے ہیں

گرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی فیصل آباد میں مٹی کے مٹکوں کی مانگ بڑھ گئی ہے۔ یہ مٹکے پانی کو قدرتی طور پر ٹھنڈا رکھتے ہیں اور اپنی خوبصورتی سے گھروں کی سجاوٹ بڑھاتے ہیں۔ مقامی کاریگر لاہور، کراچی اور دیگر شہروں کے لیے بھی مٹکے بنا رہے ہیں، جو ماحول دوست اور توانائی کے بحران میں مفید ہیں۔

فیصل آباد اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں گرمیوں کا موسم شروع ہوتے ہی مٹی کے مٹکوں کی مانگ میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔یہ مٹکے پانی کو قدرتی طور پر ٹھنڈا رکھتے ہیں اور نہ صرف فیصل آباد کے بازاروں میں فروخت ہو رہے ہیں بلکہ ملک کے دور دراز علاقوں میں بھی بھیجے جا رہے ہیں۔

فیصل آباد کے ماہر کاریگر خاص قسم کی مٹی اور روایتی تکنیکوں سے مٹکے بناتے ہیں جو پانی کو ٹھنڈا رکھنے کے ساتھ ساتھ مضبوط اور خوبصورت بھی ہوتے ہیں۔اب بازار میں سادہ مٹکوں کے علاوہ رنگین اور شیشے سے سجے مٹکے بھی مل رہے ہیں، جو گھروں کی سجاوٹ کو مزید خوبصورت بناتے ہیں۔

یہ مٹکے مختلف ڈیزائنوں، رنگوں اور سائز میں شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں بہت پسند کیے جا رہے ہیں۔خاص طور پر دیہات میں مٹی کے مٹکوں کا استعمال آج بھی روایتی طریقے سے ہوتا ہے۔

گرمیوں میں برقی آلات کے مقابلے میں مٹی کے مٹکوں میں رکھا پانی قدرتی طور پر ٹھنڈا اور ذائقے دار ہوتا ہے، جس کی وجہ سے دیہی علاقوں میں ان کی مانگ بدستور زیادہ ہے۔مٹکے بنانے والے کاریگروں کا کہنا ہے کہ گرمیوں میں ان کی محنت کا زیادہ معاوضہ ملتا ہے۔

کئی کاریگر پیشگی آرڈرز پر کام کر رہے ہیں اور مقامی مارکیٹ کے ساتھ ساتھ لاہور، سرگودھا، ملتان اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں بھی اپنے مٹکے بھیج رہے ہیں۔مٹی کے یہ مٹکے نہ صرف ماحول کے لیے محفوظ ہیں بلکہ توانائی کے بحران سے نمٹنے میں بھی مددگار ثابت ہو رہے ہیں

متعلقہ خبریں

مقبول ترین