بھارتی اداکار اور بی جے پی رہنما پریش راول نے دعویٰ کیا کہ گھٹنے کی چوٹ سے صحت یابی کے لیے پیشاب پینے سے انہیں فائدہ ہوا۔ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا، لیکن ڈاکٹروں نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پیشاب پینا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے بھی راول کے دعوے پر سوالات اٹھائے ہیں۔
بھارت کے معروف اداکار اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما پریش راول کا ایک بیان گزشتہ کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہو رہا ہے۔
یہ وائرل ویڈیو پریش راول کے ’انڈیا ٹوڈے‘ گروپ کو دیے گئے ایک انٹرویو کی ہے، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ گھٹنے کی چوٹ سے ٹھیک ہونے کے لیے انہوں نے اپنا پیشاب پیا، جس سے انہیں فائدہ ہوا۔
پریش راول اس طرح کا دعویٰ کرنے والے پہلے بھارتی نہیں ہیں۔ اس سے پہلے بھارت کے سابق وزیراعظم مرارجی ڈیسائی بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنا پیشاب پیتے تھے۔
لیکن پریش راول کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ’دی لیور ڈاکٹر‘ کے نام سے مشہور ڈاکٹر سائریک ابی فلپس نے کہا کہ پیشاب پینا صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
بھارت میں سوشل میڈیا پر کئی صارفین پریش راول کے دعوے پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے لکھا کہ پریش راول اپنے بیان سے نوجوانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔
پریش راول کا دعویٰ کتنا سچا ہے؟ ہم نے اس بارے میں ڈاکٹروں سے بات کی ہے، لیکن اس سے پہلے ہم یہ جانتے ہیں کہ پریش راول نے اپنے انٹرویو میں کیا کہا۔
پریش راول نے بتایا کہ ممبئی میں راج کمار سنتوشی کی فلم ’گھاتک‘ کی شوٹنگ کے دوران وہ گھٹنوں کے بل گر گئے تھے۔ اس وقت ناناوتی ہسپتال قریب ہی تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ناناوتی ہسپتال میں اداکار اجے دیوگن کے والد اور سٹنٹ ماسٹر ویرو دیوگن کسی اور سے ملنے آئے ہوئے تھے۔پریش راول نے بتایا کہ ہسپتال میں ویرو دیوگن نے انہیں مشورہ دیا کہ صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے اپنا پیشاب پی لیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام جنگجو یہ کام کرتے ہیں، اس سے کوئی پریشانی نہیں ہوتی اور کبھی کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ پریش راول نے بتایا کہ اگلی صبح انہوں نے خود کو ذہنی طور پر اس کے لیے تیار کیا اور سوچا کہ وہ پیشاب کو بیئر کی طرح پی لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ کام 15 دن تک کیا اور جب ایکس رے رپورٹ آئی تو ڈاکٹر حیران رہ گئے۔
پریش راول نے دعویٰ کیا کہ وہ اس چوٹ اور درد سے جلد ٹھیک ہو گئے، جسے ٹھیک ہونے اور دوبارہ کام شروع کرنے میں عام طور پر دو سے ڈھائی ماہ لگتے ہیں۔
پریش راول نے کہا کہ پیشاب پینے کی اس تھراپی کو ’شیومبو‘ کہتے ہیں۔ لیکن ڈاکٹروں نے بی بی سی کو بتایا کہ پریش راول کا یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔





















