یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ کافی پینے سے جسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معمول کی مقدار میں کافی پینا ڈی ہائیڈریشن کا باعث نہیں بنتا۔ کافی میں موجود کیفین کا اثر جسم عادی ہو جانے پر کم ہو جاتا ہے، اور کافی خود پانی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دیتی ہے۔
لوگوں میں یہ عام خیال پایا جاتا ہے کہ کافی پینے سے جسم میں پانی کی کمی یعنی ڈی ہائیڈریشن ہوتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مناسب مقدار میں کافی پینا جسم کو نقصان نہیں پہنچاتا۔
کافی میں کیفین ہوتا ہے، جو ہلکا سا ڈائیوریٹک ہوتا ہے، یعنی یہ پیشاب کے ذریعے جسم سے تھوڑا زیادہ پانی خارج کر سکتا ہے۔
لیکن سائنسی تحقیق بتاتی ہے کہ اگر آپ باقاعدگی سے کافی پیتے ہیں تو آپ کا جسم کیفین کا عادی ہو جاتا ہے، اور اس کا پیشاب بڑھانے والا اثر بہت کم ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ کافی خود پانی کا ایک ذریعہ ہے کیونکہ اس میں 95 فیصد تک پانی ہوتا ہے، جو جسم کی روزانہ پانی کی ضرورت کو پورا کرنے میں مدد دیتا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مناسب مقدار میں کیفین والے مشروبات، جیسے کہ کافی، جسم میں پانی کی سطح کو متاثر نہیں کرتے۔ البتہ اگر آپ بہت زیادہ کافی پیتے ہیں، جیسے کہ دن میں 5 سے 6 کپ، تو پیشاب کی زیادتی کی وجہ سے ہلکی پانی کی کمی ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق روزانہ 2 سے 3 کپ کافی پینا محفوظ ہے اور اسے جسم کے لیے مناسب مقدار سمجھا جاتا ہے۔





















