سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ ڈولفنز بھی انسانوں کی طرح ایک دوسرے کے لیے منفرد ’’نام‘‘ رکھتی ہیں، جنہیں وہ خاص سیٹیوں یا "سگنیچر ویسلز” کے ذریعے پکارتی ہیں۔ اسکاٹ لینڈ کی ایک تحقیق سے پتا چلا کہ ڈولفنز ان آوازوں کو پہچانتی ہیں، ان کا جواب دیتی ہیں اور یہاں تک کہ 20 سال تک یاد رکھ سکتی ہیں۔
سائنسدانوں نے پتا لگایا ہے کہ ڈولفنز بھی انسانوں کی طرح ایک دوسرے کے لیے خاص نام رکھتی ہیں۔ڈولفنز اپنے ساتھیوں کو منفرد سیٹیوں کی آوازوں کے ذریعے پہچانتی اور پکارتی ہیں۔ ان خاص آوازوں کو "سگنیچر ویسلز” کہا جاتا ہے۔
یہ سگنیچر ویسلز ہر ڈولفن کے لیے ایک الگ سیٹی ہوتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے انسانوں کے نام ہوتے ہیں۔جب کوئی ڈولفن اپنے دوست کو بلانا چاہتی ہے تو وہ اس کے لیے مخصوص سیٹی کی آواز نکالتی ہے، جیسے ہم کسی کو اس کے نام سے پکارتے ہیں۔
اسکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف سینٹ اینڈریو کی ایک تحقیق سے ثابت ہوا کہ ڈولفنز ایک دوسرے کی سگنیچر ویسلز کو سمجھتی ہیں، انہیں دہراتی ہیں اور ان کا جواب بھی دیتی ہیں۔ یہ عمل خاص طور پر بوٹلنوز ڈولفنز میں دیکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ڈولفنز ان آوازوں کو کئی سالوں تک یاد رکھ سکتی ہیں، حتیٰ کہ 20 سال بعد بھی۔





















