بھارتی اداکار نوازالدین صدیقی نے بالی ووڈ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈسٹری تخلیقی طور پر دیوالیہ ہو چکی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ فلم ساز نئی کہانیاں تخلیق کرنے کے بجائے پرانی فلموں کی کاپی کر رہے ہیں، اور اصل خیالات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بھارتی فلم انڈسٹری کے معروف اداکار نوازالدین صدیقی نے حالیہ انٹرویو میں بالی ووڈ کی موجودہ تخلیقی حالت پر کھل کر بات کی اور انڈسٹری پر چوری اور خیالات کی کمی کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بالی ووڈ اس وقت ایک خاص قسم کے فارمولا پر کام کر رہا ہے، جہاں پرانی فلموں کے سیکوئلز اور ری میکس کو ترجیح دی جا رہی ہے کیونکہ کسی کے پاس نئی کہانیاں موجود ہی نہیں ہیں۔
نوازالدین صدیقی نے کہا کہ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ فلم سازوں کو اپنے کام کے حوالے سے عدم تحفظ کا سامنا ہے۔ وہ نیا اور الگ کرنے کے بجائے انہی پرانے آزمائے ہوئے موضوعات پر کام کرنا زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق، یہ رویہ تخلیقی عمل کے لیے نقصان دہ ہے اور فلم بینوں کو کچھ نیا دیکھنے کو نہیں ملتا۔
انہوں نے بالی ووڈ کے فلم سازوں کو "چور” قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ چور تخلیق کار کیسے ہو سکتا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ یہاں تک کہ جو فلمیں "کلٹ کلاسک” کہلاتی ہیں، وہ بھی مکمل طور پر اوریجنل نہیں ہوتیں بلکہ ان میں بھی کہیں نہ کہیں سے چوری شدہ مواد شامل ہوتا ہے۔
نوازالدین صدیقی نے ہدایتکار انوراگ کشیپ کی بھی تعریف کی، جنہوں نے خود کو فلمی دنیا کے زہریلے ماحول سے الگ کر لیا ہے اور انڈسٹری سے ہٹ کر تخلیقی کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈسٹری کو اب ایسے لوگوں کو آگے آنے کا موقع دینا ہوگا جو واقعی کچھ نیا اور مختلف سوچ رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ نوازالدین صدیقی ان دنوں اپنی نئی فلم "کوسٹاؤ” کی تشہیر میں مصروف ہیں، جس میں وہ ایک منفرد کردار میں نظر آئیں گے۔





















