پاکستان نے بھارتی ملٹی مشن پی-81 طیارے کو ریڈار میں لا کر نگرانی کی،مگر اس کا مطلب کیا ہے؟

یہ طیارہ 4 اور 5 مئی کی درمیانی رات پاکستان کی بحری حدود کے قریب آیا تھا

پاک بحریہ نے بھارتی جاسوس طیارے P8I کی بروقت نشاندہی کی اور مسلسل نگرانی کر کے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان کی سمندری سرحدیں مکمل طور پر محفوظ اور ہر لمحہ دفاع کے لیے تیار ہیں۔ یہ طیارہ 4 اور 5 مئی کی درمیانی رات پاکستان کی بحری حدود کے قریب آیا تھا، جس پر نیوی نے فوری کارروائی کی۔

اسلام آباد سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پاک بحریہ نے 4 اور 5 مئی کی درمیانی شب بھارتی نیوی کے ملٹی مشن جاسوس طیارے P8I کا سراغ لگایا اور اسے مسلسل نگرانی میں رکھا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان نیوی نے بروقت اور موثر کارروائی کرتے ہوئے یہ واضح کر دیا کہ وہ ملک کی بحری سرحدوں کے دفاع کے لیے ہمہ وقت چوکس اور تیار ہے۔

بھارتی طیارہ P8I ایک جدید سرویلنس مشن طیارہ ہے جو سمندر میں موجود آبدوزوں، بحری جہازوں اور دیگر دفاعی اہداف کی نگرانی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے اس طیارے کی شناخت اور مسلسل نگرانی کے دوران مختلف دفاعی اقدامات ممکن ہوتے ہیں، جن میں وارننگ جاری کرنا، میزائل سسٹم کو ایکٹو کرنا، یا جیمنگ سسٹمز کے ذریعے ریڈار اور مواصلاتی نظام کو جام کرنا شامل ہے تاکہ دشمن کے مشن میں خلل ڈالا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق ایسی صورت میں پاکستانی آبدوزیں گہرائی میں جا سکتی ہیں یا بحری جہاز اپنے برقی اخراج کو کم کر سکتے ہیں، جس سے P8I کے جدید سینسرز جیسے کہ میگنیٹک انامولی ڈیٹیکٹر (MAD)، سونوبوائز، اور دیگر نگرانی کے آلات کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، اگر ریڈار یا کمیونیکیشن سسٹمز جام کر دیے جائیں تو P8I کے ریڈار، الیکٹرانک سپورٹ میجرز (ESM)، یا الیکٹرو آپٹیکل/انفراریڈ سینسرز بھی مؤثر طریقے سے کام نہیں کر پاتے، جس سے چھوٹے بحری جہازوں یا آبدوزوں کو تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اسی طرح، Link 16 جیسے ڈیٹا لنک سسٹمز کے ذریعے معلومات کی ترسیل بھی متاثر ہو سکتی ہے، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ P8I میں جدید سینسرز، دفاعی نظام اور تربیت یافتہ عملہ موجود ہے، جو ایسے اثرات کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس لیے اسے مکمل طور پر ناکارہ بنانا ممکن نہیں ہوتا۔

پاک بحریہ کی بروقت کارروائی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کسی بھی قسم کی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کے لیے تیار ہے اور اپنی سمندری حدود کی حفاظت کے لیے ہر لمحہ مستعد ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین