بنگلہ دیش کی سیاست میں ہلچل! حسینہ واجد کی عوامی لیگ پر مکمل پابندی

پابندی کا اعلان 10 مئی 2025 کو صدارتی حکم کے ذریعے کیا گیا

بنگلہ دیش کی سیاست حالیہ دنوں میں بڑی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی عوامی لیگ پر پابندی اور ان کے انڈیا فرار ہونے کے بعد ملک میں عبوری حکومت قائم ہوئی ہے۔ طلبہ کی تحریک، قومی سلامتی کے اقدامات، اور نئی سیاسی جماعتوں کے ابھرنے سے بنگلہ دیش کا سیاسی منظر نامہ دلچسپ موڑ پر ہے۔

بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی سربراہی میں چلنے والی سیاسی جماعت “عوامی لیگ” کی تمام سیاسی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کیا گیا ہے۔ اس پابندی کا اعلان 10 مئی 2025 کو صدارتی حکم کے ذریعے کیا گیا، جس نے عوامی لیگ کی سیاسی سرگرمیوں کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ڈ

2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے بنگلہ دیش کی سیاست میں بڑی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ گزشتہ سال 5 اگست کو طلبہ کے پرتشدد احتجاج اور مظاہروں کے نتیجے میں شیخ حسینہ کو اقتدار چھوڑ کر انڈیا فرار ہونا پڑا۔ اس کے بعد سے وہ دہلی میں مقیم ہیں اور ان کے خلاف بنگلہ دیش میں متعدد مقدمات درج کیے گئے ہیں، جن میں طلبہ کی ہلاکتوں سمیت دیگر الزامات شامل ہیں۔ عوامی لیگ کے کئی سینیئر رہنما بھی انڈیا اور دیگر ممالک میں روپوش ہیں، جبکہ کچھ مغربی بنگال، دہلی، اور یورپ میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

طلبہ کی تحریک، جسے “جولائی انقلاب” بھی کہا جاتا ہے، نے بنگلہ دیش کی سیاست کو نئی سمت دی۔ یہ تحریک ابتداً سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ نظام کے خلاف شروع ہوئی تھی، لیکن بعد میں یہ شیخ حسینہ کی مبینہ آمرانہ حکومت کے خلاف ایک بڑی عوامی تحریک میں تبدیل ہو گئی۔ اس تحریک کے نتیجے میں نہ صرف شیخ حسینہ کی حکومت ختم ہوئی بلکہ طلبہ نے نئی سیاسی جماعتوں کے قیام کا اعلان بھی کیا۔

عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس کی قیادت میں بنگلہ دیش میں سیاسی استحکام لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم، عوامی لیگ کے حامیوں اور ان کے مخالفین کے درمیان سیاسی کشیدگی اب بھی موجود ہے۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور دیگر جماعتیں اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ عوامی لیگ کے لیے دوبارہ سیاسی میدان میں واپسی مشکل دکھائی دے رہی ہے۔

دوسری جانب، انڈیا کے ساتھ بنگلہ دیش کے تعلقات بھی کشیدہ ہوئے ہیں، کیونکہ شیخ حسینہ کو انڈیا کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا تھا۔ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ بھی کیا ہے، جس سے دہلی اور ڈھاکہ کے تعلقات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ عوام میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ عوامی لیگ نے بنگلہ دیش کی خودمختاری پر سمجھوتہ کیا، جس کی وجہ سے نئی حکومت برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے کی بات کر رہی ہے۔

بنگلہ دیش کی سیاست اب ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے، جہاں طلبہ کی طاقت، نئی سیاسی جماعتیں، اور قومی سلامتی کے اقدامات ملک کے مستقبل کی سمت متعین کر رہے ہیں۔ عوام ایک ایسی حکومت کے خواہاں ہیں جو جمہوری اقدار کو فروغ دے اور اختلاف رائے کو قبول کرے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین