نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نیند کی کمی دل کی صحت کے لیے پہلے سوچے گئے نقصان سے بھی کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ نیند کی کمی نہ صرف دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھاتی ہے بلکہ دیگر مسائل جیسے ہائی بلڈ پریشر، شوگر، موٹاپا اور ذہنی دباؤ کے ذریعے بھی دل پر برا اثر ڈالتی ہے۔
حالیہ سائنسی تحقیق میں یہ بات واضح ہوئی ہے کہ نیند کی کمی دل کی صحت کے لیے ماہرین کے پرانے اندازوں سے بھی زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ نیند کی کمی دل کی بیماریوں کا براہ راست سبب بن سکتی ہے اور ساتھ ہی ایسے مسائل پیدا کرتی ہے جو دل کی حالت کو مزید خراب کرتے ہیں۔
نیند کی کمی ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، موٹاپا اور ذہنی دباؤ کا باعث بنتی ہے، جو سب مل کر دل کی بیماریوں کے امکانات کو بہت زیادہ بڑھا دیتے ہیں۔
ایک جامع میٹا تجزیے سے پتا چلا ہے کہ جو افراد روزانہ صرف 5 یا 6 گھنٹے سوتے ہیں، ان میں دل کی بیماریوں کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ نیند کم ہونے کی وجہ سے جسم میں سوزش زیادہ ہو جاتی ہے، ہارمونز کا توازن بگڑ جاتا ہے اور بلڈ شوگر بھی متاثر ہوتی ہے، جو کہ سب دل کے لیے نقصان دہ ہیں۔
اس کے علاوہ ایک تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اگر کسی شخص کے نیند لینے کے اوقات باقاعدہ نہ ہوں، تو اس کا دل کی بیماریوں سے متاثر ہونے کا خطرہ دوگنا ہو جاتا ہے، چاہے وہ روزانہ نیند کا مطلوبہ وقت پورا ہی کیوں نہ کر رہا ہو۔
نیند کے اوقات میں بے قاعدگی جسم کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی یعنی سرکیڈین ردم (circadian rhythm) کو متاثر کرتی ہے، اور جب یہ نظام متاثر ہوتا ہے تو اس کا براہ راست اثر دل کی صحت پر پڑتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دل کو صحت مند رکھنے کے لیے صرف نیند کی مقدار ہی نہیں بلکہ نیند کے اوقات کی باقاعدگی بھی بہت ضروری ہے۔





















