‘جمائس وو‘ کیا ہے؟ ماہرین نے اہم وضاحت پیش کردی

آپ نے کبھی محسوس کیا کہ کوئی جانی پہچانی چیز اچانک اجنبی یا انجان لگنے لگے؟

جمائس وو‘ ایک دلچسپ ذہنی کیفیت ہے جہاں جانی پہچانی چیزیں اچانک اجنبی لگنے لگتی ہیں، جو ’ڈیجا وو‘ کا الٹ تجربہ ہے۔ ماہرین نفسیات کی تحقیق کے مطابق، جب لوگ عام الفاظ جیسے ’door‘ یا ’the‘ کو بار بار لکھتے ہیں تو 70 فیصد افراد کو یہ الفاظ بے معنی اور غیر حقیقی لگنے لگتے ہیں۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب دماغ ’آٹو پائلٹ‘ موڈ میں چلا جاتا ہے، جو ہمیں توجہ مرکوز کرنے کی یاد دہانی کراتا ہے۔ یہ تحقیق ایک محقق کے اسکول کے تجربے سے شروع ہوئی اور اسے معتبر ایوارڈ بھی ملا۔

ہم سب نے ’ڈیجا وو‘ کا تجربہ کیا ہے، جب کوئی نیا منظر ہمیں پہلے سے دیکھا ہوا لگتا ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی محسوس کیا کہ کوئی جانی پہچانی چیز اچانک اجنبی یا انجان لگنے لگے؟ اس کیفیت کو ’جمائس وو‘ کہتے ہیں، جو ’ڈیجا وو‘ کا الٹ تجربہ ہے۔

ماہرین نفسیات کی ایک ٹیم نے ’جمائس وو‘ نامی اس انوکھے ذہنی مظہر پر تحقیق کی۔ اس تحقیق میں طلبا کو عام الفاظ جیسے ’door‘ اور ’sword‘ کو بار بار لکھنے کی ہدایت دی گئی۔ حیرت کی بات ہے کہ 70 فیصد شرکاء نے بتایا کہ کچھ دیر بعد یہ الفاظ انہیں غیر مانوس، بے معنی، یا جیسے کوئی فرضی لفظ لگنے لگے۔

ایک تجربے میں جب شرکاء سے صرف ’the‘ جیسا سادہ لفظ بار بار لکھنے کو کہا گیا تو زیادہ تر لوگوں نے لکھنا روک دیا کیونکہ انہیں لگا کہ یہ لفظ اب کوئی لفظ ہی نہیں رہا۔ایک صارف نے کہا کہ جتنا وہ اس لفظ کو دیکھتا ہے، اتنا ہی وہ غیر حقیقی لگتا ہے۔

ایک اور صارف نے کہا کہ اسے لگتا ہے جیسے اس کا ہاتھ خود بخود حرکت کر رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دماغ ایک ہی کام کو بار بار کرنے سے ’آٹو پائلٹ‘ موڈ میں چلا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’جمائس وو‘ ایک طرح کا ذہنی الرٹ ہے جو ہمیں خبردار کرتا ہے کہ ہم مشینی انداز میں کام کر رہے ہیں اور ہمیں اپنی توجہ دوبارہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تحقیق کی بنیاد ایک محقق کے ذاتی تجربے پر رکھی گئی۔ اس نے اسکول میں سزا کے طور پر ایک جملہ بار بار لکھتے ہوئے اسی عجیب کیفیت کو محسوس کیا تھا۔ کئی سال بعد اس تجربے نے ایک سائنسی تحقیق کی شکل اختیار کی اور اسے ایک معتبرانعام بھی ملا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین