چاند پر شیشے کے ٹکڑوں کی حیران کن دریافت

ایک تازہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ چاند پر تقریباً 12 کروڑ سال پہلے تک آتش فشاں فعال تھے

ایک نئی تحقیق نے چاند پر 12 کروڑ سال پہلے تک فعال آتش فشاں ہونے کا سنسنی خیز انکشاف کیا ہے۔ یہ دریافت 2020 میں چینی مشن چینگ ای 5 کے ذریعے چاند سے لائے گئے شیشے کے ٹکڑوں پر مبنی ہے۔ محققین نے 3000 سے زائد شیشے کے ٹکڑوں کا مطالعہ کیا اور پتا لگایا کہ تین ٹکڑے آتش فشاں سے نکلے ہیں اور یہ 12 کروڑ 30 سال پرانے ہیں، جو چاند پر آتش فشانی سرگرمی کی سب سے حالیہ تاریخ کی تصدیق کرتا ہے۔

ایک تازہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ چاند پر تقریباً 12 کروڑ سال پہلے تک آتش فشاں فعال تھے۔یہ تحقیق چاند کی سطح پر ملنے والے چھوٹے چھوٹے شیشے کے ٹکڑوں پر کی گئی، جو بتاتے ہیں کہ چاند پر نسبتاً حال ہی میں آتش فشانی سرگرمیاں ہوتی رہیں۔

چاند پر یہ شیشے کے ٹکڑے 2020 میں چینی خلائی مشن چینگ ای 5 نے دریافت کیے تھے۔

محققین نے چاند سے لائی گئی مٹی کے نمونوں میں 3000 سے زیادہ شیشے کے باریک ٹکڑوں کا جائزہ لیا اور ان کی کیمیائی ساخت اور جسمانی بناوٹ کا مطالعہ کیا۔

محققین کو پتا چلا کہ ان میں سے تین ٹکڑے آتش فشاں سے نکلے تھے، اور ڈیٹنگ سے معلوم ہوا کہ یہ ٹکڑے تقریباً 12 کروڑ 30 سال پرانے ہیں۔

اس تحقیق سے یہ بھی تصدیق ہوئی کہ چاند پر آتش فشاں کا آخری پھٹنا 12 کروڑ سال پہلے ہوا تھا، جو ماضی میں سب سے حالیہ واقعہ ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین