اداکارہ سارہ عمیر نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ شوبز میں نئی آنے پر ایک ہدایت کار نے شوٹنگ کے دوران انہیں بار بار نامناسب انداز سے چھوا۔ پہلے انہیں لگا کہ یہ غلطی سے ہوا، لیکن جب ہدایت کار نے جان بوجھ کر دوبارہ ایسا کیا تو سارہ نے غصے میں سب کے سامنے اسے تھپڑ مار دیا اور ڈرامہ چھوڑ کر چلی گئیں۔ ’می ٹو مہم‘ نے خواتین کو ایسی ہراسانی کے خلاف آواز اٹھانے کا پلیٹ فارم دیا ہے۔
شوبز انڈسٹری میں خواتین کے ساتھ ہراسانی کے واقعات کوئی نئی بات نہیں ہیں، لیکن عالمی سطح پر چلنے والی ’می ٹو مہم‘ نے متاثرہ خواتین کو ایسی شرمناک باتوں کو کھل کر بیان کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
ایک مقامی ٹی وی چینل کے انٹرویو میں اداکارہ سارہ عمیر نے اپنے ساتھ پیش آنے والے ایک ناخوشگوار واقعے کے بارے میں بتایا۔سارہ نے کہا کہ جب وہ شوبز میں نئی نئی آئی تھیں، تو ایک ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران ہدایت کار نے کئی بار انہیں نامناسب انداز سے چھوا۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ کے ایک دور دراز قصبے میں شوٹنگ کے دوران، جب سب کھانا کھانے کے لیے میز پر بیٹھے تھے، ہدایت کار نے میز کے نیچے سے انہیں چھوا۔سارہ نے کہا کہ وہ گھبرا گئیں اور پہلے سوچا کہ شاید یہ غلطی سے ہوا، لیکن پھر بھی وہ فوراً اٹھ کر میز کی دوسری طرف والی کرسی پر بیٹھ گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ چھوٹی میز ہونے کے باوجود ہدایت کار نے دوبارہ میز کے نیچے سے انہیں چھوا، جس سے وہ بہت پریشان ہوئیں۔سارہ نے کہا کہ پہلے انہیں لگا کہ یہ غلطی سے ہوا ہوگا، لیکن جگہ بدلنے کے بعد بھی وہی حرکت ہونے پر یقین ہو گیا کہ یہ جان بوجھ کر کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ اگلے دن شوٹنگ کے دوران وہی ہدایت کار تمام اداکاروں کو ہدایات دیتے ہوئے انہیں بھی نامناسب انداز سے چھو رہا تھا۔سارہ نے کہا کہ جب ہدایت کار نے انہیں بھی غلط طریقے سے چھوا تو ان کا غصہ قابو سے باہر ہو گیا اور انہوں نے سب کے سامنے ہدایت کار کو تھپڑ مار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد انہوں نے اس ڈرامے میں کام کرنے سے انکار کر دیا اور وہاں سے چلی گئیں۔سارہ عمیر نے نہ تو اس ہدایت کار کا نام بتایا اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ وہ کس ڈرامے کی شوٹنگ کر رہی تھیں۔





















