پاکستان نے اروناچل پردیش پر چین کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے بھارت کے جھوٹے پروپیگنڈے کو مسترد کیا ہے۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دشمن کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے، جسے جھٹلانے کی بھارتی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔
اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ چین کی جانب سے اروناچل پردیش پر سامنے آنے والی رپورٹس دیکھی گئی ہیں، اور پاکستان چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی فضا برقرار رہی، جس کی بنیادی وجہ بھارت کی جانب سے کی جانے والی جارحیت ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ بھارت کی اس جارحیت نے خطے میں امن کے ماحول کو نقصان پہنچایا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بھارتی حملوں کے جواب میں پاکستان نے دشمن کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے بھارت کے پروپیگنڈے کے ذریعے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے ملک کی خودمختاری اور سالمیت کے تحفظ کے لیے بھرپور جوابی کارروائی کی۔
شفقت علی خان نے مزید کہا کہ پاکستان نے دشمن کے حملوں کے جواب میں "آپریشن بنیان مرصوص” کیا، جس کا مقصد ملک کا دفاع تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنا دفاعی حق استعمال کیا اور دنیا کے سامنے یہ بات بالکل واضح ہے کہ پاکستان کی جوابی کارروائی مجبوری میں کی گئی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ جنگ بندی معاہدے پر دونوں ملکوں کے ڈی جی ایم اوز 10 مئی سے رابطے میں ہیں، اور یہ رابطہ وقتاً فوقتاً جاری ہے۔ پاکستان جنگ بندی معاہدے کو خوش آئند سمجھتا ہے اور بھارت پر زور دیتا ہے کہ وہ اس معاہدے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائے۔





















