سیانے کوے نے ایک بار پھر سائنسدانوں کو حیران کر دیا

جیومیٹری پہچاننے کی صلاحیت نے سب کو چونکا دیا

کوا ایک بار پھر اپنی غیر معمولی ذہانت سے سائنسدانوں کو حیران کر گیا ہے۔ اب نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کوے نہ صرف اوزار استعمال کرتے ہیں بلکہ جیومیٹری کی پیچیدہ اشکال بھی پہچان سکتے ہیں۔ اس سے پہلے بھی ان پرندوں کی چہرے یاد رکھنے، بدلہ لینے اور گنتی کرنے کی صلاحیتوں نے سائنسدانوں کو دنگ کیا تھا۔

صدیوں سے سائنسدان پرندوں کو ذہانت کے معاملے میں کمزور سمجھتے آئے ہیں، لیکن ایک پرندہ ایسا ہے جو مسلسل ان کے اندازوں کو غلط ثابت کر رہا ہے، اور وہ ہے — کوا۔

کوا ایک ایسا پرندہ ہے جو نہ صرف ہوشیار ہے بلکہ حیرت انگیز حد تک سمجھدار بھی ہے، اسی لیے عوام میں اسے "سیانا کوا” کہا جاتا ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں سائنسی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ کوے اوزار بنا سکتے ہیں، چیزیں ذخیرہ کرتے ہیں، اپنے اوزار محفوظ رکھتے ہیں اور انہیں کھیلنے کا شوق بھی ہوتا ہے۔

اب تازہ تحقیق نے یہ انکشاف کیا ہے کہ کوے جیومیٹری کے پیٹرن کو بھی پہچان سکتے ہیں، جو کہ پہلے سمجھا جاتا تھا کہ صرف انسانوں میں ممکن ہے۔

یہ تحقیق جرمنی کی Tubingen یونیورسٹی میں کی گئی جہاں دو کوؤں پر تجربہ کیا گیا۔ سائنسدانوں نے ایک کمپیوٹر گیم کے ذریعے ان پرندوں کو بیک وقت 6 مختلف اشکال دکھائیں اور پھر ان سے مختلف مراحل میں جیومیٹری کی پیچیدہ شکلیں جیسے چوکور، تکون، اور دیگر پیٹرنز کو پہچاننے کا کہا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ کوے مشکل سے مشکل اشکال کو بھی پہچاننے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے چھوٹے فرق جیسے زاویے، لائنوں کی لمبائی اور ترتیب کو بھی درست انداز میں سمجھ لیا، جس سے یہ ثابت ہوا کہ کوے غیر معمولی ذہانت رکھتے ہیں۔

اس سے پہلے نومبر 2024 میں واشنگٹن یونیورسٹی کی تحقیق میں بھی یہ بات سامنے آئی تھی کہ کوے اگر کسی انسان سے ناراض ہو جائیں تو اسے لمبے عرصے تک یاد رکھتے ہیں اور بدلہ لینے کے جذبات اپنے اندر رکھتے ہیں۔

یہ تحقیق پروفیسر جان مارزلوف نے 2006 میں شروع کی۔ انہوں نے خوفناک ماسک پہن کر کوؤں کو جال میں پکڑا اور پھر بغیر نقصان پہنچائے چھوڑ دیا۔ بعد میں وہی ماسک پہن کر انہوں نے یونیورسٹی کے اردگرد چہل قدمی کی تو 53 میں سے 47 کوؤں نے انہیں پہچان کر جارحانہ رویہ اپنایا۔

یہ بھی دیکھا گیا کہ وہی رویہ دوسرے کوؤں میں بھی منتقل ہو گیا، جس سے پتا چلا کہ کوے خطرناک چہروں کو نہ صرف یاد رکھتے ہیں بلکہ یہ بات اپنے گروپ کے دوسرے افراد کو بھی سکھاتے ہیں۔

اس تحقیق کے 17 سال بعد یعنی ستمبر 2023 میں پروفیسر کو کسی جارحانہ رویے کا سامنا نہیں کرنا پڑا، لیکن یہ ضرور واضح ہو گیا کہ کوے لمبے عرصے تک باتیں یاد رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس کے علاوہ مئی 2024 میں Tübingen یونیورسٹی کی ایک اور تحقیق میں یہ ثابت کیا گیا کہ کوے نہ صرف گنتی کر سکتے ہیں بلکہ آواز کے ذریعے بھی ایک سے چار تک کی گنتی اسکرین پر موجود نمبروں کے حساب سے ادا کر سکتے ہیں۔

یہ تمام تحقیقات ثابت کرتی ہیں کہ کوے صرف "کاں کاں” کرنے والے پرندے نہیں بلکہ واقعی بہت ذہین، سیکھنے والے، یاد رکھنے والے اور بدلہ لینے کی صلاحیت رکھنے والے جاندار ہیں، جو مسلسل سائنسدانوں کو حیرت میں ڈالے ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین