چیٹ جی پی ٹی کے مستقبل کے بارے میں اوپن اے آئی کے سربراہ سام آلٹمین نے حیران کن انکشاف کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہ اے آئی چیٹ بوٹ انسان کی پوری زندگی کو یاد رکھنے کی صلاحیت حاصل کرلے گا۔ چاہے وہ بات چیت ہو، ای میلز ہوں یا پڑھی گئی کتابیں، چیٹ جی پی ٹی سب محفوظ رکھ سکے گا، جو اسے ایک ذاتی ڈیجیٹل ساتھی میں بدل دے گا۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی دنیا کے اہم ترین نام اور اوپن اے آئی کے سی ای او سام آلٹمن نے چیٹ جی پی ٹی کے مستقبل کے حوالے سے ایک بڑا دعویٰ کر دیا ہے۔ ایک اے آئی ایونٹ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مستقبل میں چیٹ جی پی ٹی ایک ایسا چیٹ بوٹ بن جائے گا جو انسان کی پوری زندگی کو یاد رکھ سکے گا۔
سام آلٹمن کے مطابق ایک چھوٹا سا ماڈل آپ کی زندگی کے تمام پہلوؤں کو اپنے اندر سمو لے گا۔ اس میں وہ تمام بات چیت شامل ہوگی جو آپ نے کبھی کی، وہ تمام کتابیں جو آپ نے پڑھی ہوں گی، وہ ای میلز جنہیں آپ نے پڑھا ہو گا، اور جو ویڈیوز یا مواد آپ نے دیکھا ہو گا، یہ سب کچھ چیٹ جی پی ٹی کی میموری کا حصہ بن جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ یہ ماڈل نہ صرف آپ کے ذاتی ڈیٹا کو سمجھے گا بلکہ دوسرے ذرائع سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو بھی اس میں شامل کر سکے گا تاکہ آپ کے تجربے کو مکمل اور بہتر بنایا جا سکے۔
سام آلٹمن نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ کالج کے طلبا چیٹ جی پی ٹی کو ایک آپریٹنگ سسٹم کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ وہ اپنی فائلز اس میں اپلوڈ کرتے ہیں، ڈیٹا سورسز کو کنیکٹ کرتے ہیں اور اس سے پیچیدہ سوالات کے جوابات لیتے ہیں۔
یاد رہے کہ اوپن اے آئی کی جانب سے حال ہی میں چیٹ جی پی ٹی میں میموری فیچر کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کی بدولت یہ چیٹ بوٹ پرانی چیٹس اور صارف کے انداز کو یاد رکھ کر بات چیت کرتا ہے۔
سام آلٹمن کا کہنا تھا کہ ان کا مشاہدہ ہے کہ نوجوان صارفین اپنی زندگی کے بڑے فیصلے بھی چیٹ جی پی ٹی سے مشورے کے بغیر نہیں کرتے۔ وہ اس کو زندگی کے اہم مشیر کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بزرگ افراد چیٹ جی پی ٹی کو گوگل کا متبادل سمجھتے ہیں، جب کہ نوجوان اسے اپنا ذاتی اسسٹنٹ یا مشیر مان چکے ہیں۔
البتہ فی الحال یہ واضح نہیں کہ چیٹ جی پی ٹی کب تک واقعی ایک ایسا چیٹ بوٹ بن جائے گا جو انسان کی پوری زندگی کو محفوظ اور یاد رکھ سکے گا، اور یہ بھی ابھی تک واضح نہیں کہ اتنی معلومات محفوظ رکھنے والا چیٹ بوٹ پرائیویسی کے حوالے سے کس حد تک محفوظ یا کسی خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔





















