کینیڈا کے سائنسدانوں کو ایک حیران کن دریافت ہوئی ہے، جہاں 50 کروڑ سال پرانے ایک سمندری جاندار کی باقیات ملی ہیں جس کی تین آنکھیں تھیں۔ اس جاندار کے دماغ اور اعصابی نظام کی تفصیلات اتنے پرانے وقت کے باوجود شاندار حالت میں محفوظ پائی گئی ہیں، جو ماہرین کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔
کینیڈا میں موجود سائنسدانوں نے 500 ملین (50 کروڑ) سال پرانے ایک نایاب سمندری جاندار کی باقیات دریافت کی ہیں، جس کی سب سے منفرد بات اس کی تین آنکھیں ہیں۔ اس جاندار کو Stanleycaris hirpex کا نام دیا گیا ہے۔
یہ نایاب دریافت برٹش کولمبیا کی مشہور برجیس شیل فوسل سائٹ پر ہوئی، جو کیمبرین دور کے جانداروں کی بہترین محفوظ باقیات کے حوالے سے دنیا بھر میں شہرت رکھتی ہے۔
یہ عجیب و غریب جاندار کیمبرین دور کے دوران پایا جانے والا ایک شکاری تھا، جس کا تعلق Radiodont گروہ سے تھا۔ یہ گروہ موجودہ کیڑوں، مکڑیوں اور جھینگوں کے بہت پرانے رشتہ داروں پر مشتمل ہے۔
یہ جاندار تقریباً 20 سینٹی میٹر لمبا تھا، جو اس زمانے کے لحاظ سے کافی بڑا سمجھا جاتا ہے۔ اس کی سب سے نمایاں خاصیت اس کی تیسری بڑی آنکھ تھی، جو دو کمپاؤنڈ آنکھوں کے درمیان موجود تھی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ Radiodont گروہ میں کسی جاندار میں تین آنکھوں کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔
تحقیق کے دوران ماہرین کو اس جاندار کے 268 فوسل نمونے ملے جن میں سے 84 میں دماغ اور اعصابی نظام کی حیرت انگیز حد تک محفوظ حالت میں باقیات موجود تھیں۔ ان باقیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جاندار کا دماغ دو حصوں پر مشتمل تھا، جو ابتدائی دماغی ارتقاء کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کرتا ہے۔
یہ دریافت سائنسدانوں کے لیے نہ صرف ایک تاریخی کامیابی ہے بلکہ یہ ارتقائی حیاتیات کے میدان میں بھی نئی راہیں کھول سکتی ہے۔





















