اسلام آباد:سینیٹ نے کم عمری کی شادی کی روک تھام سے متعلق بل متفقہ طور پر منظور کرلیا، جس پر جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے سخت مخالفت کی اور ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ یہ بل پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔
شیری رحمان نے ایوان میں بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں 16 سال کی عمر میں لڑکیاں مائیں بن جاتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کی جان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس بل کی ایک بار پہلے بھی سینیٹ سے منظوری ہو چکی ہے۔
جے یو آئی کے سینیٹرز نے بل کی مخالفت کی۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ یہ بل اسلامی تعلیمات سے ٹکراتا ہے، اس لیے اسے اسلامی نظریاتی کونسل کے سپرد کیا جائے۔ سینیٹر عطا الرحمان نے اعتراض اٹھایا کہ اگر بچوں کو خود فیصلے کا اختیار دیا گیا تو ہم یورپی معاشرہ بن جائیں گے، اس لیے جے یو آئی بل کی مخالفت کرتی ہے۔
اس موقع پر سینیٹر روبینہ قائم خانی نے کہا کہ یہ بل سندھ اسمبلی سے پہلے ہی منظور ہو چکا ہے اور اسلامی نظریاتی کونسل سے بھی پاس ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق دیہی علاقوں میں بہت کم عمری میں بچیوں کی شادی کی جاتی ہے جس سے ان کے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔
سینیٹر خلیل طاہر سندھو نے کہا کہ دنیا کے تمام مسلم ممالک میں شادی کی کم از کم عمر 18 سال ہے، صرف پاکستان اس سے پیچھے ہے۔
سینیٹر نسیمہ احسان نے ذاتی تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شادی 13 سال کی عمر میں ہوئی تھی جب وہ ساتویں جماعت میں تھیں، مگر ہر بچی کا سسرال اچھا نہیں ہوتا، اس لیے بچیوں کو اتنی جلدی شادی کے بندھن میں نہیں باندھنا چاہیے۔
جے یو آئی کے دیگر سینیٹرز نے حضرت عائشہؓ کی کم عمری میں شادی کی مثال دیتے ہوئے بل کو غیر اسلامی قرار دیا۔
اس پر سینیٹر سرمد علی نے جواب دیا کہ یہ مذہبی نہیں بلکہ معاشرتی مسئلہ ہے، اور سعودی عرب میں بھی شادی کی عمر 18 سال مقرر ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ یہ ریاست کا حق ہے کہ وہ بلوغت کی عمر کا تعین کرے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں اس قانون کو 11 سال ہو چکے ہیں اور وفاقی شرعی عدالت نے اسے کبھی کالعدم قرار نہیں دیا۔ ان کے مطابق، ہر 50 منٹ میں ایک ماں زچگی کے دوران فوت ہوتی ہے، اس لیے یہ بل وقت کی اہم ضرورت ہے۔
بل پر رائے شماری کے وقت جے یو آئی کے سینیٹرز ایوان سے واک آؤٹ کر گئے، مگر ایوان نے باقی ارکان کی حمایت سے بل متفقہ طور پر منظور کرلیا۔





















