ملک میں مہنگائی میں کمی کے باوجود عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملا، خاص طور پر دواؤں کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ادویات کی قیمتیں گزشتہ ایک سال میں 200 فیصد تک بڑھ چکی ہیں، جبکہ حکومت کی ڈی ریگولیشن پالیسی کے باعث ادویات بنانے والی کمپنیوں کی آمدنی میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اسلام آباد: ادارہ شماریات کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی شرح میں 20 فیصد کمی کے باوجود ادویات کی قیمتوں میں گزشتہ ایک سال کے دوران 200 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، جو عوام کے لیے شدید تشویش کا باعث بن چکا ہے۔
وزارت قومی صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے ادویات کی قیمتوں میں افراط زر کے مطابق کمی کے حوالے سے تاحال کوئی پالیسی یا ہدایات جاری نہیں کی گئیں۔ یہی نہیں بلکہ وفاقی حکومت کے کنٹرول میں موجود 572 اہم ادویات کی قیمتوں میں بھی پچھلے ایک سال کے دوران 10 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
ادویات بنانے والی کمپنیوں، خاص طور پر موجودہ اور سابق چیئرمین فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کی کمپنیوں کے منافع میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کی ڈی ریگولیشن پالیسی کے تحت 70 ہزار سے زیادہ ادویات، میڈیکل ڈیوائسز اور سرجیکل آئٹمز کی قیمتوں کے تعین میں فارماسیوٹیکل کمپنیاں خود مختار ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے ان کمپنیوں کی آمدنی میں 18 سے 26 فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے۔
وفاقی حکومت کی پالیسی کے تحت قیمتوں کی نگرانی ختم کرنے کے بعد ادویات کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 50 سے 200 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 78 بڑی دوا ساز کمپنیاں موجود ہیں جو ملکی ادویات مارکیٹ کا 94 فیصد شیئر رکھتی ہیں، اور ان میں سے ہر کمپنی کی سالانہ آمدنی ایک ارب روپے سے زیادہ ہو چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 5 بڑی دوا ساز کمپنیوں کی مالیت 40 ارب روپے ہے اور ان کا مارکیٹ شیئر 29 فیصد ہے جبکہ سالانہ آمدنی میں 18 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ان کمپنیوں میں گیٹز (Getz)، سامی، گلیسکو سمتھ کلائن، ایبٹ اور سرل شامل ہیں، جن کی مجموعی مالیت 287 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔
اسی رپورٹ کے مطابق 10 ارب روپے مالیت رکھنے والی 21 کمپنیوں کی مشترکہ مالیت 447 ارب روپے ہے اور ان کی سالانہ آمدنی میں 26.1 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ مارکیٹ میں ان کا شیئر 46.46 فیصد ہے۔ ان کمپنیوں میں مارٹن ڈاؤ، او بی ایس، سونافی، سی سی ایل، نبی قاسم، ہیلٹن، گلوب، ہائی کیو، بوش، ہائی نون اور ایل سی آئی شامل ہیں۔
پانچ ارب مالیت کی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی مجموعی مالیت 81 ارب روپے بتائی گئی ہے جن کی سالانہ آمدنی میں 24.14 فیصد اضافہ ہوا ہے اور ان کا مارکیٹ شیئر 8.41 فیصد ہے۔ ان میں تربروز، ہوریزون، میجی اور جنیکس جیسی کمپنیاں شامل ہیں۔
اسی طرح ایک ارب مالیت کی 41 دوا ساز کمپنیوں کی مجموعی مالیت 107 ارب روپے ہو چکی ہے، جن کی سالانہ آمدنی میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے اور ان کا مارکیٹ شیئر 11 فیصد ہے۔ ان کمپنیوں میں زافا، ایشن کانیٹنل، پلاٹینم، سانتھے، سکاٹ مین، سیل لیب، بائیو لیب، اوٹسکا، روش، آر جی، آمسن، ولسن اور انڈس شامل ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ سابق نگران حکومت نے 70 ہزار ادویات کی قیمتیں ڈی ریگولیٹ کرنے کی منظوری دی تھی جسے موجودہ حکومت نے بھی برقرار رکھا ہے۔ موجودہ پالیسی کے تحت صرف 572 جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں کا تعین ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی سفارش پر وفاقی حکومت کرتی ہے، مگر ان میں بھی گزشتہ ایک سال کے دوران 10 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔





















