بہاول پور ( پ۔ر ) عالمی یوم عجائب گھر کے موقع پر بہاول پور میوزیم بہاول پور میں متعدد رنگا رنگ ثقافتی و ادبی تقریبات منعقد کی گئیں۔ ان میں عجائب گھروں کے قیام کے مقاصد، عجائب گھروں کی تعمیر و ترقی کے لیے کام کرنے والے پلیٹ فارم انٹرنیشنل کونسل آف میوزیمز کے کردار، پاکستان میں موجود عجائب گھر اور بالخصوص بہاول پور میوزیم بارے ڈاکومنٹری دیکھائی گئی۔
گورنمنٹ ٹیکنالوجی کالج برائے خواتین کی طالبات کے دستکاریوں کے سٹالز ، کوتھم کالج سمیت مختلف تعلیمی اداروں کے سٹوڈنٹس کا دورہ میوزیم ، علاقائی ثقافت کو اجاگر کرتی چولستانی بین اور نگارے پر مبنی لوک موسیقی ، میوزیم وزٹ کرنے والے سٹوڈنٹس و دیگر کے لیے سٹاف کی طرف سے گائیڈ ٹور جیسے پروگرام شامل تھے۔ اس دن کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے میوزیم شام پانچ بجے تک کھلا رہا نیز وزیٹرز کا داخلہ مفت تھا اور سارا دن شہریوں کا تانتا بندھا رہا۔
شہریوں کی جانب سے میوزیم انتظامیہ کو کامیاب پروگرام منعقد کرنے پر بےحد سراہا گیا ۔ ڈائریکٹر میوزیم محمد زبیر ربانی کی قیادت میں میوزیم آگاہی واک منعقد کی گئی جس میں طلبہ و طالبات نے بھرپور شرکت کی ۔ اس دن کی مناسبت سے گیلری میں کیک بھی کاٹا گیا ۔ ڈائریکٹر میوزیم محمد زبیر ربانی نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عجائب گھر گیٹ وے ہوتے ہیں جہاں سے بیک وقت ماضی ،حال اور مستقبل کو دیکھا جا سکتا ہے ۔ یہاں موجود نوادرات ان مشترکہ تجربات کی وضاحت کرتے ہیں جو مختلف تہذیبوں کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔
اس سال کے موضوع "عجائب گھروں کا مستقبل اور کیمونٹیز پر اس کے اثرات” بارے محمد زبیر ربانی نے کہا کہ حالیہ تبدیلیوں نے اس عنوان کو زیادہ موثر ںنا دیا ہے کہ تہذیبی و ثقافتی ورثہ کے محافظ ادارے کی اختلافات و تنازعات کے دوران عملی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔
پائیدار اور جامع کیمونٹیز کی تشکیل میں عجائب گھر فعال حصہ دار ہیں ۔یہاں آ کر لوگ تاریخ کے بارے میں سیکھتے ، حکمت کو جذب کرتے اور مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ اس کے عنوان کے تحت حالیہ برسوں میں عجائب گھروں نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو اپنایا ہے اور اب یہ جامد ڈسپلے و آثار تک محدود نہیں رہے بلکہ انٹر ایکٹو ڈسپلے ، ورچوئل ٹورز اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والے گائیڈز ان تجربات و وزٹ کو ہر عمر کے افراد کے لیے قابل رسائی و پرکشش بنا رہے ہیں ۔
انھوں نے کہا کہ بہاول پور میوزیم بھی عصری تقاضوں اور ٹیکنالوجی کے استعمال کو یقینی بنانے کے راستہ پر گامزن ہے۔ کوویڈ 19 کے دوران اپنے وزیٹرز کو میوزیم سے رابطہ میں رکھنے کے لیےاس پلیٹ فارم سے متعدد ورچوئل پروگرام منعقد کیے جاتے رہے ہیں نیز نوادرات کو ڈیجیٹائز کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ انھوں نے کہا کہ مستقبل میں بھی ان تمام جدید ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے ہر اس مثبت تبدیلی کو اپنایا جائے گا ہمارے معاشرے کے بدلتے رجحانات کا احاطہ کرے اور امن کا باعث ہو ۔





















