چین نے جدید جنگی ٹیکنالوجی میں اہم پیشرفت کرتے ہوئے ایسی شعاعی ٹیکنالوجی تیار کرنا شروع کر دی ہے جو دشمن کے ہتھیاروں کو شناخت کر کے انہیں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ امریکی ادارے کی کانگریس میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق چین الیکٹرونک وارفیئر میں بڑی حد تک آگے بڑھ چکا ہے، جس سے امریکہ کے دفاعی حلقوں میں تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
لاہور: امریکا کے سرکاری ادارے یو ایس-چائنا اکنامک اینڈ سیکیورٹی ریویو کمیشن نے امریکی پارلیمنٹ (کانگریس) کو پیش کردہ اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ چین نے ’’الیکٹرونک وارفیئر‘‘ میں قابلِ ذکر ترقی حاصل کر لی ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین اب ایسے جدید ہتھیار تیار کر رہا ہے جو امریکی ہتھیاروں کو شناخت کر کے شعاعیں مار کر انہیں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد امریکی عسکری حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ کیونکہ موجودہ دور کے تقریباً تمام ہتھیار ننھے کمپیوٹرز، سینسرز، چپس اور دیگر برقی آلات کی مدد سے کام کرتے ہیں، اور ایسے میں الیکٹرونک وارفیئر دشمن کے نظاموں کو مفلوج کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ الیکٹرونک وارفیئر میں مختلف اقسام کی شعاعیں استعمال ہوتی ہیں جیسے کہ برق مقناطیسی شعاعیں، ریڈیائی، انفراریڈ، مائیکروویوز، لیزر اور پارٹیکل بیم وغیرہ۔ ان شعاعوں کے ذریعے دشمن کے ہتھیاروں کے الیکٹرانک نظام کو یا تو جام کر دیا جاتا ہے یا پھر مکمل طور پر تباہ کر دیا جاتا ہے۔
حال ہی میں پاکستانی ماہرین نے بھی الیکٹرونک وارفیئر میں اپنی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے رافیل سمیت بھارت کے چھ طیارے، ڈرونز اور میزائل گرا کر اپنی مہارت ثابت کی ہے۔ چین کے تعاون سے پاکستان اس میدان میں مزید بہتری لا کر مستقبل میں اپنے دفاع کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے اور ممکنہ دشمنوں کو حیرت میں ڈال سکتا ہے۔





















