سپریم کورٹ کے جج جسٹس محمد علی مظہر نے کہا ہے کہ عدالتی فیصلے پر نظرثانی صرف اس صورت میں ہونی چاہیے جب کسی فیصلے میں نمایاں غلطی یا ناانصافی ہو، جو اگر بروقت سامنے آتی تو نتیجہ مختلف ہو سکتا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ نظرثانی کا مطلب کیس دوبارہ کھولنا نہیں بلکہ صرف بڑی اور اثرانداز ہونے والی غلطیوں کی اصلاح کرنا ہے۔
اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جج جسٹس محمد علی مظہر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عدالتی فیصلوں پر نظرثانی ایک سنجیدہ اور اہم عمل ہے، جس کا مقصد صرف اس وقت حاصل ہوتا ہے جب کسی فیصلے میں واضح غلطی یا لاپرواہی کی وجہ سے سنگین ناانصافی سامنے آئی ہو۔
یہ بات انہوں نے ایک درخواست کی سماعت کے بعد جاری کیے گئے 7 صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ میں کہی۔ جسٹس محمد علی مظہر نے لکھا کہ اگر کسی عدالتی فیصلے میں ایسی نمایاں اور اہم غلطی ہو، جو فیصلہ سنانے سے قبل دیکھی جاتی تو اس کا نتیجہ مختلف ہوتا، تو ایسی صورت میں نظرثانی کی درخواست کا جواز بنتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئین سپریم کورٹ کو اپنے ہی سابقہ فیصلوں پر نظرثانی سے نہیں روکتا، بشرطیکہ اس کی ضرورت بنیادی شہری حقوق یا عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے ہو۔ عدالت کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ کسی باقاعدہ درخواست کے بغیر بھی اپنے فیصلے کا از خود جائزہ لے سکتی ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر کے مطابق نظرثانی کا عمل مقدمے کو دوبارہ کھولنے کا ذریعہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ صرف ان غلطیوں کی تصحیح کے لیے ہونا چاہیے جو واضح اور فیصلے کے نتیجے پر اثرانداز ہونے والی ہوں۔
اس سے قبل جسٹس سید منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ایک نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ غیر ضروری اور بے بنیاد نظرثانی درخواستوں کی حوصلہ شکنی ضروری ہے تاکہ عدالتی نظام مؤثر اور منظم رہ سکے۔





















