وہ ایک عمل جو وقت گزرنے کے احساس کو سست کر دیتا ہے

جب ہم جسمانی مشقت کرتے ہیں تو ہمیں وقت دھیرے دھیرے گزرتا ہوا محسوس ہوتا ہے

اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں کہ وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے، جیسے پلک جھپکتے سب کچھ بدل جاتا ہے۔ لیکن سائنسدانوں نے ایک حیرت انگیز بات بتائی ہے کہ ایک خاص کام ایسا ہے جو آپ کو وقت کی رفتار سست محسوس کرواتا ہے، اور وہ ہے ورزش۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جب ہم جسمانی مشقت کرتے ہیں تو ہمیں وقت دھیرے دھیرے گزرتا ہوا محسوس ہوتا ہے، اس کی کئی دلچسپ وجوہات بھی سامنے آئی ہیں۔

موجودہ دور میں اکثر لوگ یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے، جیسے اس کے پَر لگ گئے ہوں۔ لیکن سائنسدانوں نے حال ہی میں ایک دلچسپ تحقیق کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ایک خاص کام ایسا ہے جو آپ کو وقت کا گزرنا سست محسوس کرواتا ہے، اور وہ ہے ورزش۔

اس نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جب ہم جسمانی مشقت کرتے ہیں تو دماغ کو وقت سست لگنے لگتا ہے۔ اس تحقیق میں 33 افراد نے حصہ لیا جنہیں 4000 میٹر تک سائیکل چلانے کو کہا گیا۔ سائیکل چلانے کے دوران ان سے مختلف اوقات میں یہ اندازہ لگانے کے لیے کہا گیا کہ 30 سیکنڈ کب مکمل ہوتے ہیں۔ یہ تخمینہ ان سے تین مواقع پر لیا گیا: سائیکل چلانے سے پہلے، سائیکل چلانے کے دوران تین بار، اور ایک بار بعد میں۔

ان افراد کو تین مختلف حالات میں سائیکل چلوانے کا تجربہ دیا گیا: ایک بار تنہا، دوسری بار ایک ‘گھوسٹ’ حریف کے ساتھ، اور تیسری بار باقاعدہ مقابلے میں۔ ہر بار یہ افراد 30 سیکنڈ کا درست اندازہ نہیں لگا سکے۔

تحقیق کے نتائج نے بتایا کہ زیادہ تر افراد نے 30 سیکنڈ کے بہت جلد گزرنے کی اطلاع دی، یعنی ان کے لیے وقت کی رفتار واقعی سست محسوس ہوئی۔ حیران کن بات یہ تھی کہ چاہے وہ تنہا سائیکل چلا رہے ہوں یا مقابلے میں، ہر صورت میں یہی اثر سامنے آیا، جس سے یہ ثابت ہوا کہ جسمانی مشقت سے وقت کے گزرنے کے احساس پر واضح اثر پڑتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس کی درست وجہ معلوم نہیں، لیکن بظاہر جب ہم جسمانی دباؤ کا سامنا کرتے ہیں تو جسم میں مختلف تبدیلیاں آتی ہیں، جیسے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، توجہ بٹ جاتی ہے اور تھکن محسوس ہوتی ہے۔ یہی عوامل وقت کے گزرنے کے احساس پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

اس حوالے سے ماضی کی ایک اور تحقیق، جو امریکا کی مشی گن یونیورسٹی میں کی گئی تھی، بتاتی ہے کہ جیسے جیسے انسان کی عمر بڑھتی ہے، اسے لگتا ہے کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ تحقیق کے مطابق عمر بڑھنے کے بعد زندگی معمولات میں ڈھل جاتی ہے اور یادگار لمحات کم ہو جاتے ہیں، اس لیے وقت کم یاد رہتا ہے اور تیزی سے گزرتا محسوس ہوتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انسان زیادہ تر وقت کو یادگار لمحات کی بنیاد پر پرکھتا ہے، اور عمر بڑھنے کے ساتھ یہ لمحات کم ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو کام ہم صرف ایک بار کرتے ہیں، وہ ہمیں زیادہ یاد رہتا ہے، جبکہ روزمرہ کے دہراتے ہوئے کام کم اہم لگتے ہیں۔

بچپن میں چونکہ ہم زیادہ تر نئے تجربات کرتے ہیں، اس لیے اس دور میں وقت سست محسوس ہوتا ہے۔ مگر جوانی یا درمیانی عمر میں نیا کچھ کم ہی کرتے ہیں، اس لیے وقت تیزی سے گزرنے کا احساس بڑھ جاتا ہے۔

اسی طرح ایک اور تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اگر آپ خوش ہوں اور کسی دلچسپ سرگرمی میں مصروف ہوں تو وقت اڑتا ہوا محسوس ہوتا ہے، لیکن جب آپ بیزار یا افسردہ ہوں تو وقت کاٹنا مشکل ہو جاتا ہے۔

یہ سب تحقیقیں اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ ہمارا دماغ وقت کے گزرنے کو ہماری سرگرمیوں، کیفیت اور مصروفیات کی بنیاد پر مختلف انداز میں محسوس کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین