ناشتہ مہنگا، انڈہ ،پراٹھا ،چائے غریب کی پہنچ سے دور ،عوام کا حکومت سے نوٹس لینے کا مطالبہ

شہریوں نے فارمی انڈوں کی قیمت میں بلا جواز اضافے پر شدید احتجاج کیا ہے

صبح کا ناشتہ، جو ایک صحت مند اور متحرک دن کا آغاز ہوتا ہے، اب عام شہری کے لیے ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ مہنگائی نے جہاں دیگر شعبوں کو متاثر کیا ہے، وہیں ناشتہ جیسی بنیادی ضرورت بھی اس کی زد میں آ چکی ہے۔ شہریوں کے لیے انڈہ، پراٹھا اور چائے جیسے سادہ اجزا بھی مہنگے خواب بنتے جا رہے ہیں۔
قیمتوں میں ہوشربا اضافہ: چار سالہ جائزہ
ناشتے کی اوسط قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ چار سال کے اعداد و شمار سے مہنگائی کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے:
سال اوسط ناشتہ قیمت (روپے)
2022 150 سے 200 روپے
2023 250 سے 300 روپے
2024 400 روپے
2025 450 سے 500 روپے یا اس سے زائد

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ صرف دو سال میں ناشتے کی قیمت تقریباً دگنی ہو چکی ہے۔ اس تیز رفتار اضافے نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو شدید متاثر کیا ہے۔

فارمی انڈے بن گئے سونے کے!
شہریوں کی جانب سے سب سے زیادہ شکایات فارمی انڈوں کی قیمتوں کے حوالے سے موصول ہو رہی ہیں۔ انڈے جو کبھی ہر دسترخوان کا لازمی حصہ ہوتے تھے، اب کئی گھروں میں ناپید ہو چکے ہیں۔ موجودہ مارکیٹ میں فارمی انڈے کی فی درجن قیمت 300 روپے سے تجاوز کر چکی ہے، جو دو سال قبل صرف 140 سے 160 روپے تھی۔

چائے اور پراٹھے بھی مہنگائی کی لپیٹ میں
چائے، جو ہر ناشتے کی روح سمجھی جاتی ہے، اس کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ چینی، دودھ اور چائے کی پتی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ایک کپ چائے کی لاگت کو 30 سے 50 روپے تک پہنچا دیا ہے۔ پراٹھے میں استعمال ہونے والا آٹا، گھی اور گیس سبھی مہنگے ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں ایک سادہ پراٹھے کی قیمت 50 روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔

دو وقت کی روٹی کے بعد ناشتہ بھی مشکل
مہنگائی نے پہلے ہی عوام کو دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان کر رکھا ہے، اب ناشتہ بھی ایک اضافی بوجھ بنتا جا رہا ہے۔ ایک خاندان کے لیے روزانہ کا ناشتہ کرنا اب ایک بجٹ شکن عمل ہے۔ پچھلے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ:

چار افراد کا سادہ ناشتہ (2 انڈے، 2 پراٹھے، چائے)
2022 میں: تقریباً 200 روپے
2025 میں: تقریباً 500 سے 600 روپے

عوام کا حکومت سے نوٹس لینے کا مطالبہ
لاہور سمیت ملک بھر کے شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ناشتہ اشیاء کی قیمتوں میں ہونے والے بے لگام اضافے کا فوری نوٹس لیا جائے۔ خاص طور پر انڈوں اور دودھ جیسی بنیادی اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے پالیسی اقدامات کیے جائیں تاکہ عام آدمی کی زندگی کو کچھ آسان بنایا جا سکے۔

حکومت کی خاموشی عوام پر ظلم کے مترادف
شہری حلقے اس بات پر شدید برہم ہیں کہ مہنگائی میں مسلسل اضافے کے باوجود حکومتی ادارے تاحال خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ کسی قسم کی سبسڈی یا پرائس کنٹرول میکانزم نظر نہیں آتا، جس سے عوام کے دلوں میں بے چینی اور مایوسی بڑھ رہی ہے۔
مہنگائی کے اس طوفان میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی چیزوں میں ناشتہ بھی شامل ہو چکا ہے۔ جہاں پہلے ناشتے کے بغیر دن کا آغاز ادھورا لگتا تھا، اب ناشتہ کرنا بھی ایک پرتعیش عمل بن چکا ہے۔ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو ناشتہ صرف ہوٹلوں یا امیر طبقے تک محدود ہو جائے گا، جبکہ عام عوام ایک کپ چائے کے لیے بھی ترس جائیں گے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین