منہاج یونیورسٹی لاہور میں شعبہ سیاسیات کے زیر اہتمام "ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات اور علاقائی تعاون” کے موضوع پر دوسری عالمی کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس بین الاقوامی کانفرنس میں اندرون و بیرون ملک سے ماہرینِ تعلیم، محققین، ماحولیاتی ماہرین، طلبہ و طالبات اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔ کانفرنس کا مقصد ماحولیاتی تبدیلی کے سنگین خطرات اور اس کے تدارک کے لیے اجتماعی، اور پائیدار حکمت عملی وضع کرنا تھا۔
ڈپٹی چیئرمین بورڈ آف گورنرز منہاج یونیورسٹی لاہور، پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی بحران کسی ایک ملک یا خطے کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ چیلنج ہےجو کہ سرحدوں سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ، گلوبل وارمنگ، سمندری سطح میں اضافہ اور قدرتی آفات سےکرۂ ارض کو شدید خطرات درپیش ہیں، جن کے تدارک کے لیے اقوام عالم کو اشتراکِ عمل اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ماحول دوست پالیسیوں کی تشکیل اور ان پر عمل درآمد حکومتوں کے ساتھ ساتھ عوام الناس کی بھی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ویسٹ مینجمنٹ، صنعتی فضلے کی نگرانی، شجر کاری، صاف توانائی کے ذرائع کا فروغ اور تعلیمی اداروں میں ماحولیاتی شعور اجاگر کرنا ایسے اقدامات ہیں جن کے بغیر ماحولیاتی تحفظ کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہر فرد کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ماحول دوست طرزِ زندگی اپنانا ہوگا تاکہ ہم آنے والی نسلوں کو ایک بہتر، محفوظ اور صاف ستھرا کرہ ارض دے سکیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما چودھری منظور نے تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو چاہیے کہ وہ ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضع کریں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی، تحقیق، ماحولیاتی تعلیم اور پالیسی سازی کے میدان میں ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ چودھری منظور نے کہا کہ منہاج یونیورسٹی لاہور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے علمی وژن کی عکاس ہے، جو عالمی معیار کی تعلیم، تحقیق اور کردار سازی کے حسین امتزاج کی عملی مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس جیسے علمی اجتماعات نوجوان نسل کو آگاہی فراہم کرتے ہیں اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے حساس موضوعات پر سنجیدہ مکالمے کو فروغ دیتے ہیں۔
وائس چانسلر منہاج یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ساجد محمود شہزاد نے کانفرنس میں خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ منہاج یونیورسٹی اس عزم پر کاربند ہے کہ وہ تعلیمی و تحقیقی میدان میں بین الاقوامی معیار کو برقرار رکھتے ہوئے عالمی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے نوجوان نسل کی فکری رہنمائی کرے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیات کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی کوششوں کو مربوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ہیڈ ڈیپارٹمنٹ آف پولیٹیکل سائنس، ڈاکٹر یاسر خان نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد اور تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے موضوع پر مسلسل مکالمہ اور تحقیق وقت کا تقاضا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کانفرنسز تحقیق کے نئے در وا کرتی ہیں اور پالیسی سازوں کو رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
کانفرنس کے دوران تین پینل ڈسکشنز کا انعقاد کیا گیا جن میں مقامی و بین الاقوامی ماہرین تعلیم، محققین اور ماحولیاتی ماہرین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان نشستوں میں ماحولیاتی پالیسی سازی، ماحولیاتی تعلیم اور علاقائی تعاون کے امکانات جیسے موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔کانفرنس میں شرکت کرنے والے ممتاز بین الاقوامی ماہرین میں سابق سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ ڈاکٹر فرانز بومن، ڈائریکٹر AIES آسٹریا مائیکل زینکنل، ریجنل ایڈوائزر ICMPD کینیڈا رانا رحیم، سابق ایگزیکٹو اقوام متحدہ ڈاکٹر افسر راٹھور، چیف آف مشن IOM میوسیٹو، اور ڈائریکٹر جنرل پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن ڈاکٹر شاہد سرویا شامل تھے۔منہاج یونیورسٹی لاہور کی نمائندگی کرنے والوں میں ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز ڈاکٹر خواجہ القما، ڈیپارٹمنٹ آف پولیٹیکل سائنس سے ڈاکٹر ساجدہ بیگم، ڈاکٹر بی بی سائرہ نعمان اور مچلڈ گئیر شامل تھے۔
کانفرنس میں منہاج یونیورسٹی میں سنٹر فار مائیگریشن اسٹڈیز کا باضابطہ افتتاح بھی کیا گیا ۔ رجسٹرار منہاج یونیورسٹی، پروفیسرڈاکٹر خرم شہزادا نے اپنے ختتامی کلمات ملکی و غیر ملکی مہمانان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس کے ذریعے ماحولیات کے تحفظ سے متعلق نہایت اہم اور عملی تجاویز سامنے آئی ہیں۔
کانفرنس کے اختتام پر ڈپٹی چیئرمین بی او جی منہاج یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے تمام مہمان مقررین کو یادگاری شیلڈز پیش کیں اور کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر تمام منتظمین، شرکاء اور معاونین کا شکریہ ادا کیا۔
منہاج یونیورسٹی لاہور میں "ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات اور علاقائی تعاون” کے موضوع پر دوسری عالمی کانفرنس
اس بین الاقوامی کانفرنس میں اندرون و بیرون ملک سے ماہرینِ تعلیم، محققین، ماحولیاتی ماہرین، طلبہ و طالبات اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی





















