رحیم یار خان کے قریب موٹروے پر افسوسناک حادثہ پیش آیا جس میں 13 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 20 سے زائد زخمی ہوئے۔ یہ حادثہ ایک سوزوکی پک اپ کے الٹنے کے بعد پیش آیا، جس کے بعد مزید ایک جیپ نے جائے حادثہ پر موجود افراد کو کچل دیا۔ زخمیوں کو فوری اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ حکام نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
رحیم یار خان میں رکن پور کے قریب ملتان سکھر موٹروے (ایم-5) پر ایک اندوہناک ٹریفک حادثہ پیش آیا جس میں 13 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 20 افراد زخمی ہو گئے۔
مقامی افراد، ریسکیو ٹیم اور پولیس کے مطابق ایک سوزوکی پک اپ وین جو کراچی جا رہی تھی، محمد پور کے علاقے تھل حسن کے قریب اچانک ٹائر پھٹنے کے باعث الٹ گئی۔ اس پک اپ میں متعدد مسافر سوار تھے۔
حادثہ ہوتے ہی ملتان سے آنے والی ایک بس وہاں رکی اور اس کے مسافر زخمیوں کی مدد کے لیے نیچے اتر آئے۔ لیکن اسی دوران پیچھے سے ایک تیز رفتار جیپ ان افراد پر چڑھ گئی اور خود بھی الٹ گئی، جس کے نتیجے میں مزید 5 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔
ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) رضوان عمر گوندل نے بتایا کہ زخمیوں میں سے 14 افراد کی حالت نازک ہے، جبکہ جاں بحق افراد کی لاشیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جیپ میں سوار سرکاری اہلکاروں کی فیملی محفوظ ہے اور انہیں کوئی خطرہ نہیں۔
واقعے کے بعد ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او نے شیخ زید ہسپتال کا دورہ کیا، مریضوں کی عیادت کی اور طبی سہولیات کی فراہمی کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت دی کہ زخمیوں کو ہر ممکن علاج فراہم کیا جائے۔
موٹر وے پولیس کے مطابق واقعے کے ذمے داروں کا تعین کیا جا رہا ہے۔ نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس (این ایچ ایم پی) ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثہ اتنی تیزی سے پیش آیا کہ حفاظتی اقدامات جیسے روڈ کونز لگانے کا موقع ہی نہیں ملا، جس کی وجہ سے پچھلی گاڑیوں کے ڈرائیورز کو بروقت پتہ نہیں چل سکا۔
یاد رہے کہ چند روز قبل لاہور۔اسلام آباد موٹروے پر کلر کہار کے قریب بھی ایک المناک حادثہ پیش آیا تھا جس میں 14 افراد جاں بحق اور 64 زخمی ہوئے تھے۔ وہ بس ایک شادی سے واپس آ رہی تھی کہ ٹائر پھٹنے کے باعث مخالف سمت سے آنے والی کاروں اور ٹرک سے ٹکرا گئی۔ اس واقعے میں بھی کئی افراد شدید زخمی ہوئے جنہیں راولپنڈی منتقل کیا گیا تھا۔
یہ مسلسل واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موٹروے پر حفاظتی اقدامات اور گاڑیوں کی فٹنس کا خاص خیال رکھنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔





















