لاہور: یونیورسٹی آف لاہور میں ’’پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA)‘‘ پر منعقدہ پینل ڈسکشن سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر الیکٹرانک میڈیا پنجاب ڈاکٹر محمد عادل نواز خان نے کہا کہ پیکا ایکٹ فیک نیوز کے خلاف ایک مفید قانون ہے، سچ اور جھوٹ میں فرق مٹتا جا رہا ہے اور اس کی بڑی وجہ وہ جعلی خبریں ہیں جو سوشل میڈیا کے ذریعے لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچتی ہیں۔ یہ خبریں نہ صرف عوام میں بے چینی اور انتشار پھیلانے کا سبب بنتی ہیں بلکہ قومی سلامتی، ریاستی اداروں کی ساکھ اور فرد واحد کی عزت و وقار کو بھی خطرے میں ڈال دیتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں ’’پیکا ایکٹ‘‘ جیسے قوانین کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق کے وائرل ہونے والی خبریں اکثر ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت پھیلائی جاتی ہیں، اور ان کا مقصد صرف اور صرف انتشار، بداعتمادی اور نفرت کو فروغ دینا ہوتا ہے۔
پاک بھارت حالیہ کشیدگی کے دوران جہاں ماحول حساس اور جذباتی تھا، وہیں پاکستانی میڈیا نے بالغ نظری اور ذمہ داری کا ثبوت دیا۔ پاکستانی نیوز چینلز نے قومی وقار، امن کی خواہش اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ کو ترجیح دی، جس سے عوام کو صحیح معلومات فراہم ہوئیں اور افواہوں سے اجتناب ممکن ہوا۔اس کے برعکس انڈین میڈیا نے ایک بار پھر فیک نیوز، غیر مصدقہ دعوؤں اور سنسنی خیز سرخیوں کے ذریعے جنگی جنون کو ہوا دی۔ بغیر کسی ثبوت کے الزامات، جعلی ویڈیوز اور جذباتی بیانیے کے ذریعے بھارتی میڈیا نے نہ صرف عوام کو گمراہ کیا بلکہ عالمی سطح پر اپنی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ ہر فرد کو یہ سکھانا ہوگا کہ سوشل میڈیا پر آئی ہوئی ہر خبر کو سچ نہ مانیں بلکہ اس کی تصدیق کریں۔ میڈیا اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ فیک نیوز کی پہچان اور سدباب کے لیے تربیتی پروگرام شروع کریں۔ فیک نیوز کوئی نئی چیز نہیں ہے ہٹلر اور اس کے وزیرِ اطلاعات جوزف گوئبلز نے جھوٹی خبروں، پروپیگنڈا اور گمراہ کن معلومات کو ایک منظم ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ ان کا مشہور قول تھا’’اگر جھوٹ کو بار بار دہرایا جائے تو لوگ اسے سچ ماننے لگتے ہیں‘‘۔
اسی حکمت عملی کے تحت نازی حکومت نے عوامی رائے کو کنٹرول کرنے، اقلیتوں کے خلاف نفرت پھیلانے، اور جنگی جنون کو ہوا دینے کے لیے میڈیا کو استعمال کیا۔جامعہ پنجاب کے شعبہ فلم و نشریات کی چیئرپرسن، پروفیسر ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر نے بطور مہمان شرکت کی۔یہ تقریب "ڈی مسٹیفائنگ ڈس انفارمیشن: اینالیسس آف دی پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA)” کے عنوان سے فیکلٹی آف سوشیئل سائنسز کے زیر اہتمام اسکول آف انٹیگریٹڈ سوشیئل سائنسز (SISS) نے منعقد کی، جس میں شعبہ تعلیم، میڈیا اور سرکاری شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے شرکت کی۔ شرکاء نے موجودہ دور میں بڑھتی ہوئی جھوٹی معلومات اور سائبر جرائم کے تناظر میں پیکا قانون کے اثرات، چیلنجز اور اہمیت پر گفتگو کی۔دیگر معزز مقررین میں ظہیر احمد سلہری اور ڈاکٹر راغب شامل تھے۔ نشست کی نظامت ڈاکٹر بلال اسلم نے کی، جبکہ تقریب کے منتظم ڈاکٹر کشور منیر، سربراہ شعبہ SISS، تھیں۔پروفیسر ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر نے پیکا کے قانونی، اخلاقی اور میڈیا سے متعلق پہلوؤں پر روشنی ڈالی، اور اس بات پر زور دیا کہ ایسے قوانین ہونے چاہئیں جو عوامی تحفظ کو یقینی بنائیں مگر آزادی اظہار پر قدغن نہ لگائیں۔ انہوں نے پاکستان میں ڈیجیٹل گورننس سے متعلق پالیسی سازی میں باخبر مکالمے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔تقریب کے اختتام پر سوال و جواب کا بھرپور سیشن ہوا جس میں طلبہ اور اساتذہ نے ماہرین سے ڈیجیٹل حقوق اور جھوٹی معلومات جیسے اہم موضوعات پر سوالات کیے۔





















