اسلام آباد:سابق صوبائی وزیر اور رہنما بیرسٹر سیف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر پولی گراف ٹیسٹ کی بات ہو رہی ہے تو سب سے پہلے اُن افراد کا ٹیسٹ ہونا چاہیے جن کی جائیدادیں بیرون ملک موجود ہیں۔ ان کے بقول، نواز شریف کی پاک بھارت کشیدگی کے دوران معنی خیز خاموشی پر بھی پولی گراف ٹیسٹ ناگزیر ہے۔بیرسٹر سیف نے کہا کہ عوام نے 8 فروری 2024 کے انتخابات میں عمران خان اور شریف خاندان کا "اصل پولی گراف ٹیسٹ” کر دیا تھا۔ ان کے مطابق، ایک جعلی حکومت جو جعلی مینڈیٹ کے سہارے اقتدار میں آئی ہے، وہ کیسے عمران خان کے خلاف پولی گراف ٹیسٹ کی بات کر سکتی ہے؟انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر یہی حکومت پولی گراف ٹیسٹ کرائے گی تو اس کے نتائج بھی جعلی ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پہلے ان عناصر کا ٹیسٹ ہونا چاہیے جنہوں نے عمران خان کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے، تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آ سکے۔بیرسٹر سیف نے دعویٰ کیا کہ "جعلی راج کماری” مریم نواز سمیت پورے شریف خاندان کا بھی پولی گراف ٹیسٹ ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی عمران خان کو "صادق اور امین” قرار دے چکی ہے اور ان کے خلاف کرپشن یا جائیداد کا کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا۔
بیرسٹر سیف نے نواز شریف کے پولی گراف ٹیسٹ کا مطالبہ کر دیا مگر کیوں؟
مشیر اطلاعات کی شدید تنقید: پولی گراف ٹیسٹ ان پر ہو جنہوں نے جعلی مقدمات بنائے





















