اہم یورپی ملک کا فلسطینی ریاست کو باضابطہ تسلیم کرنے کا اعلان

غزہ میں جاری انسانی المیہ انتہائی تشویشناک ہے ،اس پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتے، وزیراعظم

غزہ میں جاری انسانی المیہ انتہائی تشویشناک ہے ،اس پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتے، اہم یورپی ملک نے فلسطینی ریاست کو باضابطہ تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔

یورپی ملک مالٹا نے فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان مالٹا کے وزیر اعظم رابرٹ ابیلا نے اتوار کے روز ایک سیاسی تقریب کے دوران کیا۔

انسانی بحران پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتے: وزیر اعظم

وزیر اعظم رابرٹ ابیلا نے اپنی تقریر میں کہا کہ غزہ میں جاری انسانی المیہ انتہائی تشویشناک ہے اور مالٹا اس پر خاموش تماشائی بن کر نہیں رہ سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا صرف ایک سیاسی قدم نہیں بلکہ انصاف، انسانی وقار اور اخلاقی ذمہ داری کا تقاضا بھی ہے۔

20 جون کو اقوام متحدہ کی کانفرنس کے بعد باضابطہ تسلیم

وزیر اعظم نے واضح کیا کہ مالٹا 20 جون کو ہونے والی اقوام متحدہ کی بین الاقوامی کانفرنس کے بعد فلسطین کو باضابطہ طور پر ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرے گا۔

اقوام متحدہ میں ماضی کی حمایت

یہ بات قابل ذکر ہے کہ مالٹا نے اپریل 2023 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطین کو مکمل رکنیت دینے کے حق میں ووٹ دیا تھا، تاہم اب تک رسمی سطح پر اسے ایک ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔

فلسطین کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد 147 ہو گئی

اب تک اقوام متحدہ کے 193 میں سے 147 رکن ممالک فلسطین کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کر چکے ہیں۔ حالیہ برسوں میں آرمینیا، سلووینیا، آئرلینڈ، ناروے، اسپین، بہاماس، ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو، جمیکا اور بارباڈوس جیسے ممالک بھی اس فہرست میں شامل ہو چکے ہیں۔

مغربی طاقتوں کا ابہام برقرار

اگرچہ دنیا بھر میں فلسطین کی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے، تاہم امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا اور جرمنی سمیت کئی اہم مغربی ممالک نے تاحال فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کیا۔ گزشتہ ماہ فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے عندیہ دیا تھا کہ فرانس آئندہ مہینوں میں اس مسئلے پر اپنا حتمی فیصلہ کر سکتا ہے۔

جنگ کا آغاز: 7 اکتوبر 2023

یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو اس وقت شروع ہوئی جب حماس کے عسکریت پسندوں نے اسرائیل کے جنوبی علاقوں پر اچانک حملہ کیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک اور 250 سے زائد افراد کو یرغمال بنا لیا گیا۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے غزہ پر شدید بمباری اور زمینی حملے شروع کیے، جو تاحال جاری ہیں۔

مجموعی ہلاکتیں اور زخمی

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں 53,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ مزید 122,797 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

خواتین اور بچوں کی شہادتیں

اقوام متحدہ کے مطابق، غزہ میں ہلاک ہونے والوں میں تقریباً 70% خواتین اور بچے ہیں۔
غزہ کی حکومت کے میڈیا دفتر کے مطابق، اب تک 14,500 بچے اور 9,560 خواتین شہید ہو چکی ہیں۔
اقوام متحدہ کی خواتین کے ادارے (UN Women) کے مطابق، جنگ کے پہلے چھ ماہ میں 10,000 خواتین شہید ہوئیں، جن میں سے 6,000 مائیں تھیں، جس کے نتیجے میں 19,000 بچے یتیم ہو گئے۔

زخمیوں کی تعداد اور صحت کا بحران

غزہ میں اب تک 75,577 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں، جن میں ہزاروں کی حالت تشویشناک ہے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، 11,000 سے زائد زخمیوں کو بیرون ملک علاج کی ضرورت ہے، جبکہ 10,000 کینسر کے مریض مناسب علاج نہ ہونے کے باعث موت کے خطرے سے دوچار ہیں۔

تباہی اور انسانی بحران

اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ میں 70,000 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ 290,000 مکانات ناقابل رہائش ہو گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق، غزہ کی 2.3 ملین آبادی میں سے تقریباً 2 ملین افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
غزہ میں خوراک، پانی، بجلی اور طبی سہولیات کی شدید قلت ہے، جس کے باعث قحط اور بیماریوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

یتیم اور بے سہارا بچے

اقوام متحدہ کے مطابق، غزہ میں 17,000 بچے ایسے ہیں جو اپنے والدین میں سے ایک یا دونوں سے محروم ہو چکے ہیں۔
ہر روز تقریباً 10 بچے اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ایک یا دونوں ٹانگوں سے محروم ہو رہے ہیں۔
7 اکتوبر 2023 سے جاری اس جنگ نے غزہ میں انسانی المیہ کو جنم دیا ہے، جس میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شہید اور زخمی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی برادری نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین