جس جماعت نے انتخابات میں حصہ ہی نہ لیا ہو، اسے مخصوص نشستیں کیسے دی جا سکتی ہیں؟ سپریم کورٹ کا براہ راست سماعت میں سوال

اگر عدالتی اکثریت یہ سمجھے کہ نظرثانی کی ضرورت نہیں، تو پھر کیا ہوگا؟جسٹس مندوخیل

سپریم کورٹ کے 11 رکنی آئینی بینچ نے مخصوص نشستوں کے معاملے پر پہلی بار براہ راست نشر ہونے والی سماعت میں اہم سوالات اٹھائے کہ سنی اتحاد کونسل، جو انتخابات میں حصہ ہی نہیں لے سکی، اسے مخصوص نشستیں کیسے دی جا سکتی ہیں؟ عدالت نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ جو جماعت پارلیمنٹ میں موجود ہی نہیں، آزاد امیدوار اس کا حصہ کیسے بن سکتے ہیں؟ جسٹسز نے الیکشن کمیشن کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے اور وکلا کے دلائل سننے کے بعد مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

سپریم کورٹ کے 11 رکنی آئینی بینچ نے پہلی بار براہ راست نشر کی جانے والی سماعت میں مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے پر نظرثانی درخواستوں کی سماعت کی۔ اس موقع پر عدالت نے سنی اتحاد کونسل کی اہلیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے ریمارکس دیے کہ جس جماعت نے انتخابات میں حصہ ہی نہ لیا ہو، اسے مخصوص نشستیں کیسے دی جا سکتی ہیں؟ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں ہونے والی سماعت میں متعدد جج صاحبان نے اہم نکات پر روشنی ڈالی۔

سماعت کے دوران، وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا آغاز کیا تو جسٹس مسرت ہلالی نے سوال اٹھایا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں کس بنیاد پر دی جا سکتی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ صرف وہی آزاد امیدوار کسی پارٹی میں شامل ہو سکتے ہیں جو پارلیمنٹ میں موجود ہو، لیکن جس جماعت کا پارلیمنٹ میں وجود ہی نہ ہو، اس میں آزاد ارکان کیسے شامل ہو سکتے ہیں؟

وکیل مخدوم علی خان نے جواب میں کہا کہ سنی اتحاد کونسل کے مطابق آزاد امیدوار ان کے ساتھ شامل ہو گئے تھے۔ جسٹس مسرت ہلالی نے دوبارہ سوال کیا کہ کیا سنی اتحاد کونسل نے الیکشن میں حصہ لیا؟ وکیل نے وضاحت دی کہ سنی اتحاد کونسل نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا، یہاں تک کہ اس کے چیئرمین حامد رضا نے بھی آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا تھا۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ چونکہ سنی اتحاد کونسل نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا، اس لیے وہ مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں ہے، البتہ وہ ایک پارلیمانی جماعت بن سکتی تھی۔

وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کی اپیل متفقہ طور پر مسترد کی گئی اور مخصوص نشستوں پر کامیاب ارکان کو ڈی نوٹیفائی کیا گیا، مگر اس سے پہلے انہیں کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے جواب دیا کہ عدالت نے صرف الیکشن کمیشن کا جاری کردہ نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا تھا۔

اس موقع پر مخدوم علی خان نے آرٹیکل 225 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت الیکشن سے متعلق کسی معاملے پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا، لیکن عدالت کے فیصلے میں اس کا ذکر تک نہیں ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کہ آرٹیکل 225 اس کیس پر کیسے لاگو ہوتا ہے؟ جس پر جسٹس مظہر نے کہا کہ یہ معاملہ مخصوص نشستوں سے متعلق ہے، جو متناسب نمائندگی کی بنیاد پر دی جاتی ہیں۔

مزید دلائل دیتے ہوئے مخدوم علی خان نے کہا کہ مخصوص نشستوں کی فہرستیں الیکشن سے پہلے جمع کرائی جاتی ہیں، اور کاغذات نامزدگی میں غلطی کی صورت میں معاملہ ٹریبونل کے سامنے جاتا ہے۔ جسٹس مندوخیل نے کہا کہ اگر آپ کی بات مانی جائے تو پشاور ہائیکورٹ کے پاس اس معاملے کا دائرہ اختیار ہی نہ ہوتا۔

مخدوم علی خان نے زور دیا کہ عدالت آئین و قانون کے خلاف ہونے والی غلطی کو درست کرنے کی پابند ہے۔ جسٹس مندوخیل نے پوچھا کہ اگر عدالتی اکثریت یہ سمجھے کہ نظرثانی کی ضرورت نہیں، تو پھر کیا ہوگا؟ وکیل نے کہا کہ ایسی صورت میں نظرثانی مسترد ہو جائے گی۔

سماعت کے دوران جسٹس شاہد بلال نے استفسار کیا کہ کیا پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کے مقدمے میں فریق تھی؟ اس پر وکیل نے کہا کہ جو جماعت مقدمے میں فریق نہ ہو، وہ مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں ہو سکتی۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی کہا تھا کہ پی ٹی آئی فریق نہیں تھی۔

جسٹس مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے کردار کا بھی جائزہ لینا ضروری تھا، کیونکہ انہوں نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے خود تمام دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لیا تھا جس میں 39 افراد نے پی ٹی آئی کو اپنی وابستگی کے طور پر ظاہر کیا تھا، اس لیے انہیں پی ٹی آئی کے ارکان تصور کیا گیا۔

وکیل نے کہا کہ اکثریتی فیصلے میں 39 افراد کو پی ٹی آئی کا حصہ قرار دیا گیا اور 41 افراد کو 15 دن کی مہلت دی گئی کہ وہ کسی جماعت میں شامل ہو جائیں۔ جسٹس نعیم افغان نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ آئین کو دوبارہ تحریر نہیں کیا جا سکتا، جبکہ جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس مندوخیل نے لکھا کہ قانونی شرائط کا پورا ہونا لازمی ہے۔

وکیل نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 187 کے تحت مکمل انصاف کا اختیار محدود ہے اور اس اختیار کے تحت تیسرے فریق کو، جو عدالت کے سامنے پیش نہ ہو، ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔

جسٹس مندوخیل نے کہا کہ یہ سپریم کورٹ ہے، سول کورٹ نہیں، اور اگر کل کو یہ عدالت کرایہ دار اور مالک مکان کے تنازع پر تیسرے فریق کو ریلیف دے تو کیا ہوگا؟ جس پر وکیل نے کہا کہ ایسی مثال دینا درست نہیں، کیونکہ یہاں عوام کے حقِ رائے دہی کا معاملہ ہے۔

جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل تو ایک بھی نشست نہیں جیت سکی، حتیٰ کہ اس کے چیئرمین نے بھی اپنی جماعت کے ٹکٹ پر الیکشن نہیں لڑا، تو ایسی صورت میں انہیں نشستیں کیسے دی جا سکتی ہیں؟

وکیل نے کہا کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں آئینی وفاداری کا اصول بھی شامل کیا، جو جذباتی نوعیت کا معلوم ہوتا ہے۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے پوچھا کہ کیا پی ٹی آئی نے نوٹیفکیشن چیلنج کیے تھے؟ وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ایسا نہیں کیا، لیکن نظرثانی میں عدالت اپنی رائے تبدیل کر سکتی ہے۔

جسٹس مندوخیل نے کہا کہ کیا میں اپنا فیصلہ تبدیل کر سکتا ہوں؟ وکیل نے کہا بالکل، آپ رائے تبدیل کر سکتے ہیں۔ جسٹس ہلالی نے تبصرہ کیا کہ "پٹھان کی ایک زبان ہوتی ہے”۔ وکیل نے جواب دیا کہ زبان ایک ہوتی ہے لیکن رائے بدلی جا سکتی ہے۔

سماعت کے اختتام پر الیکشن کمیشن، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے وکلا نے اپنے تحریری دلائل جمع کرا دیے، جبکہ سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے کہا کہ وہ جواب الجواب کا حق استعمال کر چکے ہیں، جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو دوبارہ جواب دیں گے۔

جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ عدالت فیصلہ کرے گی کہ جواب الجواب کا حق دینا ہے یا نہیں، اور سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی، جس میں سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی دلائل دیں گے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین