اپنے محسن امریکی صدر ٹرمپ پربھارتی میڈیا نے انتہائی گھٹیا تنقید شروع کر دی ہے۔ پاکستان کی جوابی کارروائی کی تاب نہ لاتے ہوئے مودی نے امریکی صدر ٹرمپ سے جنگ بندی کی درخواست کی تھی ۔بھارتی میڈیا اور مودی سرکار کاٹرمپ کے بارے میں حالیہ رویہ ان کے دوغلے پن کی ایک واضح مثال ہے۔ ایک جانب تو انہوں نے سیز فائر کیلئے امریکہ سے مدد طلب کی اور دوسری طرف جب سیز فائر طے ہوا تو امریکی صدر ٹرمپ پر انتہائی گھٹیا تنقید شروع کردی۔
بھارتی میڈیا کی کردار کشی
بھارتی میڈیا، جس میں مودی کے حامی اینکرز جیسے ارناب گوسوامی نمایاں ہیں، نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر شدید تنقید شروع کی۔ بھارتی میڈیا نے نہ صرف ٹرمپ کو دہشت گردوں کا سرپرست قرار دیا بلکہ ان کے ذہنی صلاحیتوں پر بھی سوالات اٹھائے، دعویٰ کیا کہ ان کا آئی کیو لیول بھارت کے ساتویں جماعت کے طالب علم سے بھی کم ہے۔ بعض اینکرز نے تو یہ تک کہا کہ ٹرمپ جیسے صدر کی موجودگی میں 9/11 جیسے واقعات کوئی حیران کن بات نہیں۔بھارتی میڈیا نے یہ بھی الزام لگایا کہ ٹرمپ کی ثالثی سے سیز فائر دراصل بھارت پر امریکی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ ایک بھارتی سیاست دان نے کہا کہ "78 سال سے ہمارا مؤقف رہا ہے کہ ہم کسی تیسرے فریق کی مداخلت برداشت نہیں کریں گے، مگر آج ٹرمپ ایک ٹویٹ کرتے ہیں اور سیز فائر ہو جاتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے تجارتی دھمکیوں کے ذریعے بھارت کو سیز فائر پر مجبور کیا، جو کہ ناقابل قبول ہے۔
ایلون مسک کی ٹرمپ انتظامیہ سے غیر متوقع علیحدگی، ’ڈاج‘ کے سربراہ کا منصب بھی چھوڑ دیا
مودی سرکار کا یوٹرن
دلچسپ بات یہ ہے کہ سیز فائر سے قبل مودی سرکار نے امریکا سے مدد کی درخواست کی تھی، لیکن جب سیز فائر طے ہوا تو بھارتی میڈیا اور سیاست دانوں نے امریکی صدر کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔ کچھ عرصہ قبل تک مودی اور ٹرمپ کے دوستانہ تعلقات کی مثالیں دی جاتی تھیں، لیکن اب بھارتی میڈیا نے ٹرمپ کو ایک "بغیر نظریے کا رہنما” اور "صرف ایک بزنس مین” قرار دے دیا۔
بھارتی میڈیا نے ٹرمپ کو افسانوی کردار بسماسورا سے تشبیہ دی، جو ہر چیز کو چھونے سے تباہ کر دیتا تھا۔ میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ نے ایپل کے سی ای او کو بھارت میں فیکٹریاں لگانے سے منع کیا، جس سے بھارت کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ، امریکا اور بھارت کے درمیان اسٹریٹجک معاہدوں پر بھی تنقید کی گئی، اور اسے مودی کی ناکامی سے جوڑا گیا۔
بھارتی اپوزیشن کا ردعمل
بھارتی اپوزیشن نے بھی مودی سرکار اور اس کے حامی میڈیا کے دوغلے رویے پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے کارکن ٹرمپ کی انتخابی جیت پر ریلیاں نکالتے رہے، لیکن اب وہی لوگ انہیں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اپوزیشن کے مطابق، بھارت نے کبھی بھی امریکا کو سچا دوست نہیں سمجھا اور صرف تجارت اور ٹیرف میں رعایتوں کے لیے اس کے ساتھ تعلقات رکھے۔
ٹرمپ کا بیان اور بھارتی ردعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر سیز فائر کی خبر شیئر کی، جس سے بھارتی میڈیا اور سیاست دان سیخ پا ہوگئے۔ بھارتی میڈیا نے ٹرمپ کے اس بیان کو "جھوٹ” اور "دھوکا” قرار دیا۔ بعض اینکرز نے کہا کہ "اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ٹرمپ کشمیر کا مسئلہ حل کرا دے گا، تو وہ غلطی پر ہے۔ ہم اپنے معاملات خود دیکھ سکتے ہیں۔”
بھارتی میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ٹرمپ نے قطر میں اپنے فوجیوں کے سامنے سیز فائر میں اپنے کردار کو جھوٹا قرار دیا، کیونکہ بھارت نے سخت مؤقف اپنایا تھا۔ میڈیا نے اسے امریکی صدر کی "یوٹرن لینے کی عادت” سے تعبیر کیا اور بھارت کے عالمی تجارت میں کردار کو سراہا۔
واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ عسکری تصادم میں پاکستانی کی مسلح افواج نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا تھا۔ پاکستانی فضائیہ نے آپریشن بنیان مرصوص کے دوران بھارت کے مہنگے ترین رافیل طیاروں کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے جدید دفاعی نظام ایس-400 کو بھی ناکارہ بنا دیا۔ پاکستانی حملوں کے باعث شمالی بھارت کے 70 فیصد علاقوں میں بجلی کی ترسیل معطل ہوگئی تھی ، جس سے بھارتی فوج کی کمزوریاں کھل کر دنیا کے سامنے آگئیں۔





















