پیرس:پاک بھارت حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کے ہاتھوں رافیل طیاروں کی تباہی پر فرانسیسی فوج کے ترجمان کا بیان بھی سامنے آگیا ہے۔ پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے کہا کہ اگر یہ رپورٹس درست ہیں کہ پاکستان نے رافیل طیارے تباہ کئے ہیں تو یہ طیارے کی بیس سالہ آپریشنل تاریخ میں پہلا واقعہ ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق پیرس میں ایک پریس بریفنگ کے دوران جب ایک صحافی کی جانب سے پاک بھارت جنگ میں رافیل طیارے کی تباہی کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرانسیسی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کی تفصیلات ابھی تک غیر یقینی ہیں اور بہت سے پہلوؤں کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔ فرانس کی صورتحال پر گہری نظر ہے اور وہ اپنے شراکت دار بھارت کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہے تاکہ مستند معلومات حاصل کی جا سکیں۔
رافیل ڈیل میں 41ہزار کروڑ کی کرپشن، کانگریس نے نیاپیڈوارباکس کھول دیا
ترجمان نے بتایا کہ رپورٹس کے مطابق اس جنگ میں سیکڑوں جنگی طیاروں نے حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ فرانس اس لڑائی کے تجربات سے زیادہ سے زیادہ سیکھنے کا خواہشمند ہے تاکہ مستقبل میں اپنے دفاعی نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ رافیل طیارہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے اور اس کی کارکردگی عالمی سطح پر تسلیم کی جاتی ہے۔ تاہم، اگر پاکستان کے ہاتھوں رافیل کے مار گرائے جانے کی اطلاعات درست ثابت ہوئیں تو یہ اس طیارے کی تاریخ میں ایک غیر معمولی واقعہ ہوگا۔
فرانسیسی فوج کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ وہ بھارت سے اس واقعے کے بارے میں مزید تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اس کی وجوہات اور حالات کا بغور جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا اور فرانس اس معاملے کی مکمل تحقیقات کا منتظر ہے۔
رافیل کو دنیا کے جدید ترین لڑاکا طیاروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ رافیل کی تباہی نے نہ صرف بھارت بلکہ فرانس کے لیے بھی اہم سوالات اٹھائے ہیں، جن کے جوابات آنے والے دنوں میں سامنے آنے کی توقع کی جارہی ہے۔
تعارف
رافیل (Rafale) ایک جدید اور کثیر المقاصد لڑاکا طیارہ ہے جو فرانس کی معروف ایئر کرافٹ کمپنی ڈاسالٹ ایوی ایشن (Dassault Aviation) نے تیار کیا ہے۔ یہ طیارہ اپنی جدید ٹیکنالوجی، بہترین کارکردگی، اور مختلف قسم کے جنگی حالات میں استعمال کی صلاحیت کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ رافیل کو فضائی برتری، زمینی حملوں، اور جاسوسی جیسے متعدد کرداروں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جو اسے ایک ورسٹائل جنگی طیارہ بناتا ہے۔
رافیل کی تیاری اور تاریخ
رافیل پروگرام کا آغاز 1980 کی دہائی میں ہوا جب فرانس نے ایک جدید لڑاکا طیارے کی ضرورت محسوس کی جو اس کی فضائیہ اور بحریہ کی ضروریات کو پورا کر سکے۔ اس کا پہلا پروٹوٹائپ 1986 میں تیار کیا گیا، اور اس نے اپنی پہلی پرواز 4 جولائی 1986 کو کی۔ کئی سالوں کی جانچ اور ترقی کے بعد، رافیل نے 2001 میں فرانسیسی فضائیہ میں باضابطہ طور پر آپریشنل سروس شروع کی۔
دنیا کی نظر میں رافیل
رافیل کو عالمی سطح پر ایک انتہائی قابل اعتماد اور طاقتور لڑاکا طیارہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کی کارکردگی کی وجہ سے کئی ممالک نے اسے اپنی فضائیہ کا حصہ بنایا ہے، جن میں بھارت، مصر، قطر، اور یونان شامل ہیں۔ فرانسیسی فضائیہ اور بحریہ اسے اپنی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھتی ہیں۔ رافیل کی کامیابی کا راز اس کی جدید ٹیکنالوجی اور مختلف جنگی حالات میں بہترین کارکردگی ہے۔عالمی ماہرین کا خیال ہے کہ رافیل اپنی نسل (4.5 جنریشن) کے لڑاکا طیاروں میں سرفہرست ہے۔ اس کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ اس کی لچک ہے، جو اسے مختلف قسم کے مشن کے لیے موزوں بناتی ہے۔ تاہم، حالیہ پاک-بھارت جنگ میں رافیل کی مبینہ تباہی کی رپورٹس نے کچھ سوالات اٹھائے ہیں، لیکن فرانسیسی حکام اس کی تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ اس کی کارکردگی کے بارے میں درست معلومات سامنے آ سکیں۔
رافیل کی عالمی اہمیت
رافیل نہ صرف فرانس بلکہ دیگر ممالک کے دفاع میں صف اول کے طیاروں میں شامل ہے ۔ بھارت نے 2016 میں 36 رافیل طیاروں کا معاہدہ کیا تھا ۔رافیل ایک جدید، طاقتور، اور ورسٹائل لڑاکا طیارہ ہے جو اپنی غیر معمولی کارکردگی کے باعث پوری دنیا میں اپنی شہرت رکھتا ہے۔ اس طیارے کی مبینہ تباہی کی رپورٹس کے باوجود اس کی عالمی ساکھ اب بھی مضبوط ہے۔





















