لاہور :ملک بھر میں عیدالاضحی کی آمد آمد ہے اور پنجاب بھر میں امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے محکمہ داخلہ پنجاب نے ایک جامع اور موثر سکیورٹی پلان ترتیب دیا ہے۔ دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے صوبائی حکومت نے تمام اضلاع کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔
اہم تنصیبات اور حساس مقامات کی سکیورٹی
محکمہ داخلہ نے ہدایت کی ہے کہ اہم تنصیبات جیسے کہ سرکاری عمارات، مذہبی مقامات، اور دیگر حساس تنصیبات کی سکیورٹی کو مزید سخت کیا جائے۔ اس سلسلے میں ڈویژنل اور ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹیوں کے فوری اجلاس طلب کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ سکیورٹی پلان کو حتمی شکل دی جا سکے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پنجاب کے داخلی و خارجی راستوں پر سخت اسکریننگ کا عمل یقینی بنایا جائے گا، جس سے مشکوک سرگرمیوں پر قابو پایا جا سکے گا۔
اسے بھی پڑھیں : منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کی عید قربانی مہم، لاکھوں مستحقین تک گوشت پہنچانے کی حکمت عملی وضع
ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تیاری
تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان کو فعال رکھیں۔ پولیس اور انتظامیہ کو فیلڈ میں متحرک رہنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔ اس کے علاوہ، حساس مقامات کے گرد حساس اداروں کے اشتراک سے سرچ آپریشنز مکمل کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔
مویشی منڈیوں اور قربانی کے جانوروں کے لیے خصوصی ہدایات
محکمہ داخلہ نے مویشی منڈیوں کے حوالے سے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ یہ منڈیاں صرف شہر کی حدود سے باہر منظور شدہ مقامات پر قائم کی جائیں گی۔ ان منڈیوں میں سکیورٹی عملہ تعینات کیا جائے گا اور مقررہ مقامات کے علاوہ قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔ اس کے علاوہ، قربانی کی کھالوں کے حوالے سے بھی سخت پالیسی اپنائی گئی ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ کسی بھی کالعدم تنظیم کو کھالیں اکٹھی کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، اور صرف پنجاب چیریٹی کمیشن سے رجسٹرڈ ادارے ہی کھالیں وصول کر سکیں گے۔
عید کی نماز کے اجتماعات کے لیے سکیورٹی انتظامات
عید کی نماز کے اجتماعات کے لیے فول پروف سکیورٹی انتظامات کی ہدایت کی گئی ہے۔ تمام مساجد اور عید گاہوں میں سی سی ٹی وی کیمرے، واک تھرو گیٹس، اور ہر فرد کی اسکیننگ کا اہتمام کیا جائے گا۔ پنجاب سانڈ سسٹمز (ریگولیشنز) ایکٹ 2015 کا سختی سے نفاذ کیا جائے گا، اور فرقہ وارانہ یا قابل اعتراض تقاریر کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
عوامی مقامات اور ٹریفک انتظامات
عید گاہوں کے قریب پارکنگ کے مناسب انتظامات اور شہروں میں ٹریفک ڈائیورژن پلان بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ عوامی تفریحی مقامات، عید بازاروں، اور فوڈ آٹ لیٹس پر بھی سکیورٹی بڑھانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، نوجوانوں کو خطرناک ڈرائیونگ اور ون ویلنگ سے محفوظ رکھنے کے لیے ضلعی سطح پر ٹاسک فورسز تشکیل دی گئی ہیں، جو فیلڈ میں متحرک رہیں گی۔
ہسپتالوں اور ایمرجنسی سروسز کی تیاری
محکمہ داخلہ نے ہسپتالوں کو ضروری ادویات، عملے، اور سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ محکمہ صحت، سول ڈیفنس، اور ریسکیو 1122 کو ہائی الرٹ پر رہنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری امداد فراہم کی جا سکے۔
بین المذاہب ہم آہنگی اور کنٹرول رومز
ضلعی سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی اور امن کمیٹیوں کے اجلاس بلانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، تمام اضلاع کو کنٹرول رومز قائم کر کے انہیں محکمہ داخلہ کے مرکزی کنٹرول روم سے منسلک کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔
اسلحے کی نمائش پر پابندی اور فورتھ شیڈولرز کی نگرانی
پورے پنجاب میں اسلحے کی نمائش پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے اور فورتھ شیڈولرز کی سرگرمیوں پر سخت نظر رکھی جائے گی۔ ترجمان نے واضح کیا کہ تینوں ایام کڑی نگرانی یقینی بنائی جائے گی، اور امن و امان کے قیام کے لیے تمام تر انتظامات عید سے پہلے مکمل کر لیے جائیں گے۔محکمہ داخلہ پنجاب کا سکیورٹی پلان امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے ایک مضبوط حکمت عملی کا عکاس ہے۔ عوام سے بھی تعاون کی اپیل کی گئی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع دیں تاکہ صوبہ بھر میں پرامن ماحول کو برقرار رکھا جا سکے۔





















