سیکیورٹی فورسز اور بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج میں جھڑپیں، 7 دہشت گرد ہلاک، 4 اہلکار شہید

یہ کارروائیاں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئیں، جنہوں نے بھارتی پراکسی دہشت گردی کے خطرناک منصوبوں کو ناکام بنایا

29 مئی 2025 کو خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان اور چترال میں سیکیورٹی فورسز نے بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والی دہشت گرد تنظیم ’’فتنہ الخوارج‘‘ کے خلاف دو الگ الگ آپریشنز میں 7 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ شمالی وزیرستان کے شوال علاقے میں چیک پوسٹ پر حملے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 6 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ چترال میں ایک اور دہشت گرد ہلاک کیا گیا۔

بھارتی پراکسی دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشنز

پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے 28 اور 29 مئی 2025 کی درمیانی رات خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان اور چترال میں بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والی دہشت گرد تنظیم ’’فتنہ الخوارج‘‘ کے خلاف دو الگ الگ آپریشنز کیے، جن میں 7 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، یہ کارروائیاں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئیں، جنہوں نے بھارتی پراکسی دہشت گردی کے خطرناک منصوبوں کو ناکام بنایا۔ ان آپریشنز میں پاک فوج کے چار بہادر اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا، جو قوم کے لیے ان کے ناقابل فراموش قربانی کی علامت ہے۔

 چیک پوسٹ پر حملہ ناکام

آئی ایس پی آر کے مطابق، 28 اور 29 مئی کی درمیانی رات شمالی وزیرستان کے شوال علاقے میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر حملے کی مذموم کوشش کی۔ پاک فوج کے جوانوں نے بروقت اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملے کو ناکام بنا دیا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے میں 6 بھارتی سرپرستی والے دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ اس آپریشن نے سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت اور دہشت گردی کے خلاف ان کے پختہ عزم کو اجاگر کیا۔ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ یہ دہشت گرد علاقے میں امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے کی سازش کر رہے تھے۔

چترال میں ایک اور دہشت گرد ہلاک

شمالی وزیرستان کے علاوہ، ضلع چترال میں سیکیورٹی فورسز نے ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، جس میں بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے ایک اور خوارجی دہشت گرد کو ہلاک کر دیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، یہ آپریشن چترال کے حساس علاقوں میں دہشت گردوں کی موجودگی کے خدشات کے پیش نظر کیا گیا۔ سیکیورٹی فورسز نے دہشت گرد کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا اور اسے کامیابی سے ختم کیا۔ یہ کارروائی پاکستان کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی چوکس نگرانی اور فوری ردعمل کی عکاسی کرتی ہے۔

شہدا کی لازوال قربانی

شمالی وزیرستان کے آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے چار بہادر اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔ شہدا میں 24 سالہ لیفٹیننٹ دانیال اسماعیل شامل ہیں، جو ضلع مردان سے تعلق رکھتے تھے اور اپنے دستے کی بہادری سے قیادت کر رہے تھے۔ دیگر شہدا میں 41 سالہ نائب صوبیدار کاشف رضا (چکوال)، 35 سالہ لانس نائیک فیاقت علی (ہری پور)، اور 26 سالہ سپاہی محمد حمید (ایبٹ آباد) شامل ہیں۔ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ان شہدا نے وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جو قوم کے لیے ایک عظیم مثال ہے۔

شہید اہلکاروں کی تفصیلات

آئی ایس پی آر نے شہید اہلکاروں کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ لیفٹیننٹ دانیال اسماعیل نے 7 ماہ قبل پاک فوج میں شمولیت اختیار کی تھی اور ان کے والد پاکستان ایئر فورس میں سول ڈرائیور ہیں۔ نائب صوبیدار کاشف رضا نے 21 سال تک وطن کی خدمت کی اور ان کے سوگواران میں اہلیہ اور تین بچے شامل ہیں۔ لانس نائیک فیاقت علی نے 15 سالہ شاندار کیریئر میں وطن کی حفاظت کی، جبکہ سپاہی محمد حمید نے 6 سال تک فرض نبھایا۔ ان شہدا کی قربانیاں پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک ناقابل فراموش باب ہیں۔

بھارتی پراکسی دہشت گردی کا الزام

آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ فتنہ الخوارج کو سرپرستی فراہم کر کے پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے۔ اس سے قبل ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اپریل 2025 میں پریس کانفرنس میں بھارت کے خلاف ناقابل تردید ثبوت پیش کیے تھے، جن میں بھارتی فوج کے افسران کی دہشت گردوں کو ہتھیار اور فنڈز فراہم کرنے کی آڈیو ریکارڈنگ شامل تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ بھارت خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کے لیے اپنے ’’ایسٹس‘‘ استعمال کر رہا ہے۔

کلیئرنس آپریشنز اور عزم کا اعادہ

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ شمالی وزیرستان اور چترال میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں تاکہ باقی ماندہ دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔ سیکیورٹی فورسز نے بھارتی سرپرستی میں چلنے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ہر قیمت پر جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ’’ہمارے شہدا کی قربانیاں ہمارے حوصلے کو بلند کرتی ہیں، اور ہم وطن عزیز کو دہشت گردی کے ناسور سے پاک کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔‘‘ یہ عزم پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی دہشت گردی کے خلاف ناقابل شکست جدوجہد کی عکاسی کرتا ہے۔

قوم کا خراج عقیدت

شہید اہلکاروں کی قربانیوں پر صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ صدر زرداری نے لیفٹیننٹ دانیال اسماعیل اور دیگر شہدا کی بہادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ جوان وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں، اور قوم ان پر فخر کرتی ہے۔‘‘ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’’شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، اور ہم دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رکھیں گے۔‘‘ انہوں نے سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں کو سراہا۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

اس آپریشن اور شہادتوں نے سوشل میڈیا، خاص طور پر ایکس پر، زبردست ردعمل حاصل کیا۔ پاکستانی صارفین نے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کی بہادری کی تعریف کی۔ ایک صارف نے لکھا، ’’ہمارے جوان وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں، یہ شہادتیں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔‘‘ ایک اور پوسٹ میں کہا گیا، ’’بھارت کی پراکسی دہشت گردی کو ناکام بنانے کے لیے پاک فوج کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔‘‘ کچھ صارفین نے بھارت کی مبینہ مداخلت کی مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔

 دہشت گردی کے خلاف ناقابل تسخیر جنگ

شمالی وزیرستان اور چترال میں سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشنز نے بھارتی پراکسی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے پختہ عزم کو ایک بار پھر ثابت کیا۔ 7 دہشت گردوں کے خاتمے اور فتنہ الخوارج کے منصوبوں کی ناکامی سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے۔ لیفٹیننٹ دانیال اسماعیل، نائب صوبیدار کاشف رضا، لانس نائیک فیاقت علی، اور سپاہی محمد حمید کی شہادتیں قوم کے لیے ایک عظیم قربانی ہیں، جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نئے جذبے کا باعث بنی ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کے جاری کلیئرنس آپریشنز اور قوم کی مکمل حمایت اس بات کی ضمانت ہے کہ پاکستان بھارتی سرپرستی میں چلنے والی دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین