بھارت سے پاکستان میں داخل ہونے والے دریائے چناب کے بہاؤ میں نمایاں کمی

دریائے چناب میں پانی کی آمد گزشتہ روز کے مقابلے میں 54 ہزار 200 کیوسک کم ہو کر 44 ہزار 800 کیوسک رہ گئی

لاہور :بھارت سے پاکستان میں داخل ہونے والے دریائے چناب کے بہاؤ میں نمایاں کمی واقع ہوگئی ہے۔ واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے ترجمان کے مطابق، ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد گزشتہ روز کے مقابلے میں 54 ہزار 200 کیوسک کم ہو کر 44 ہزار 800 کیوسک رہ گئی ہے، جبکہ گزشتہ روز یہ 98 ہزار 200 کیوسک تھی۔

دریاؤں میں پانی کی آمد اور اخراج

ترجمان واپڈا نے ملک کے دیگر اہم دریاؤں اور واٹر ریزروائرز میں پانی کی آمد اور اخراج کی تفصیلات بھی جاری کیں:
دریائے سندھ (تربیلا): پانی کی آمد 1 لاکھ 77 ہزار 500 کیوسک، جبکہ اخراج 1 لاکھ 52 ہزار کیوسک ہے۔
دریائے جہلم (منگلا): پانی کی آمد 39 ہزار 600 کیوسک، جبکہ اخراج 10 ہزار 800 کیوسک ہے۔
چشمہ بیراج: پانی کی آمد 2 لاکھ 28 ہزار 700 کیوسک، جبکہ اخراج 1 لاکھ 83 ہزار کیوسک ہے۔
دریائے چناب (ہیڈ مرالہ): پانی کی آمد 44 ہزار 800 کیوسک، جبکہ اخراج 17 ہزار 100 کیوسک ہے۔
دریائے کابل (نوشہرہ): پانی کی آمد اور اخراج دونوں 37 ہزار 100 کیوسک ہیں۔

واٹر ریزروائرز میں پانی کی سطح اور ذخائر

ترجمان نے بتایا کہ ملک کے تین بڑے واٹر ریزروائرز—تربیلا، منگلا اور چشمہ—میں پانی کی سطح اور ذخائر کی موجودہ صورتحال مندرجہ ذیل ہے:
تربیلا ڈیم: پانی کی سطح 1478.03 فٹ، جبکہ ذخیرہ 21 لاکھ 39 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔
منگلا ریزروائر: پانی کی سطح 1161.05 فٹ، جبکہ ذخیرہ 21 لاکھ 68 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔
چشمہ ریزروائر: پانی کی سطح 647.20 فٹ، جبکہ ذخیرہ 2 لاکھ 21 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔
واپڈا کے مطابق، تربیلا، منگلا اور چشمہ ریزروائرز میں قابل استعمال پانی کا مجموعی ذخیرہ 45 لاکھ 28 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔

اسے بھی پڑھیں: سندھ طاس معاہدہ کب ہوا، بھارت پاکستان کا پانی بند کرسکتا ہے؟

دریائے چناب کے بہاؤ میں کمی پر تشویش

دریائے چناب کے بہاؤ میں اچانک اور نمایاں کمی نے حکام اور آبی ماہرین میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے بھارت کی جانب سے پانی کی فراہمی میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، یہ کمی پاکستان کی زراعت پر فوری اثرات مرتب کر سکتی ہے، کیونکہ دریائے چناب پنجاب کے زرعی علاقوں کے لیے پانی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

واپڈا حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں رہ کر پانی کے بہاؤ اور ذخائر کی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے

سندھ طاس معاہدہ اور پاک-بھارت آبی تنازع

دریائے چناب کے پانی کی فراہمی کا معاملہ 1960ء کے سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) سے جڑا ہوا ہے، جو پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے لیے ایک بنیادی بین الاقوامی معاہدہ ہے۔ اس معاہدے کے تحت دریائے چناب، جہلم اور سندھ کا کنٹرول پاکستان کو دیا گیا، جبکہ بھارت کو راوی، بیاس اور ستلج کے استعمال کا حق دیا گیا۔ تاہم، بھارت کو چناب اور جہلم پر واٹر سٹوریج اور ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹس کے لیے محدود اجازت دی گئی، بشرطیکہ یہ پاکستان کے پانی کے حقوق کو متاثر نہ کریں۔

بھارت کی جانب سے پانی روکنے کی ممکنہ وجوہات

ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹس اور واٹر سٹوریج:بھارت نے دریائے چناب پر بگلیہار اور دیگر ڈیمز جیسے کہ سلال ڈیم اور کشن گنگا ڈیم بنائے ہیں، جن کا مقصد بجلی پیدا کرنا اور پانی ذخیرہ کرنا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کو 1.7 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی اجازت ہے، لیکن حالیہ اطلاعات کے مطابق بھارت نے اس سے کہیں زیادہ پانی روک لیا، جو معاہدے کی حدود سے تجاوز کرتا ہے۔ یہ اقدام ممکنہ طور پر بھارت کے اپنے زرعی اور توانائی کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا۔
سیاسی اور اسٹریٹجک مقاصد:کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ بھارت پانی کو ایک اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ پاکستان پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ پاک-بھارت تعلقات میں حالیہ کشیدگی، خاص طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے تناظر میں، اس رویے کو تقویت دے سکتی ہے۔ بھارت کی جانب سے پانی کا بہاؤ اچانک کم کرنے یا چھوڑنے سے پاکستان کے زرعی شعبے پر دباؤ بڑھتا ہے، جو معاشی اور سیاسی استحکام کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
ماحولیاتی اور موسمی عوامل:بھارت کی جانب سے پانی روکنے کی ایک وجہ ماحولیاتی عوامل بھی ہو سکتے ہیں۔ شدید بارشوں یا ڈیمز کے انتظامی تقاضوں کی وجہ سے پانی کا بہاؤ عارضی طور پر روکا یا چھوڑا جا سکتا ہے۔ تاہم، حالیہ کمی کو بھارت کے ڈیم گیٹس بند کرنے سے جوڑا جا رہا ہے، جو دانستہ اقدام کا تاثر دیتا ہے۔

تاریخی پس منظر

پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تنازعات کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ 1947ء کی تقسیم کے بعد سے دونوں ممالک دریاؤں کے پانی کی تقسیم پر اختلافات کا شکار رہے ہیں۔ سندھ طاس معاہدہ اس تنازع کو حل کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن بھارت کے ڈیم پروجیکٹس جیسے کہ بگلیہار (2008ء میں مکمل) اور کشن گنگا (2018ء میں مکمل) نے پاکستان کے خدشات کو بڑھایا۔ پاکستان نے ان منصوبوں کو عالمی عدالتوں میں چیلنج کیا، لیکن بھارت نے تکنیکی ترامیم کے ذریعے اپنے اقدامات کو معاہدے کے مطابق قرار دیا۔
حالیہ برسوں میں، بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ میں اچانک کمی یا اضافے کے واقعات بار بار سامنے آئے ہیں۔ مثال کے طور پر، 2023ء میں شدید بارشوں کے بعد بھارت نے ستلج اور راوی میں اضافی پانی چھوڑا، جس سے پاکستان میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی۔ اس کے برعکس، حالیہ کمی کو بھارت کی جانب سے پانی روکنے کے ایک "نئے نارمل” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستان پر اثرات

دریائے چناب کے بہاؤ میں کمی سے پاکستان کے زرعی شعبے کو شدید نقصان کا خطرہ ہے، کیونکہ پنجاب کے کئی زرعی علاقے اس دریا پر انحصار کرتے ہیں۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے بھارت کے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کیا اور اسے ارلی خریف سیزن کے لیے 21 فیصد پانی کی کمی سے جوڑا۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو فصلوں کی پیداوار اور کسانوں کی معاشی حالت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ردعمل اور ممکنہ حل

پاکستان نے بھارت کے اس اقدام کو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے رجوع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ کچھ حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل کی تجویز بھی سامنے آئی ہے، لیکن سفارتی سطح پر بات چیت کو ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ عالمی بینک، جو اس معاہدے کا ضامن ہے، یا دیگر بین الاقوامی فورمز کے ذریعے اس تنازع کو حل کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین