پاکستان میں حکومتی کارکردگی اور معاشی سمت پر عوامی اعتماد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو گزشتہ چھ سالوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ ’اپسوس پاکستان‘ کے تازہ سروے کے مطابق، 42 فیصد پاکستانی ملک کی سمت کو درست سمجھتے ہیں، جبکہ معاشی مستقبل سے پرامید افراد کی تعداد مایوس کن سوچ رکھنے والوں سے تجاوز کر گئی ہے۔ خیبرپختونخوا میں 48 فیصد شہریوں نے سب سے زیادہ اعتماد کا اظہار کیا۔ اگرچہ مہنگائی، بے روزگاری، اور غربت پر تشویش میں کمی آئی ہے، لیکن لوڈشیڈنگ اور ٹیکسوں کے بوجھ نے عوامی پریشانی بڑھائی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ اس اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے توانائی کے بحران اور مالیاتی دباؤ کے حل کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں
عوامی اعتماد کی بلند سطح
پاکستان میں حکومتی پالیسیوں اور معاشی سمت پر شہریوں کے اعتماد میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جو گزشتہ چھ سالوں میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ بین الاقوامی سروے ادارے ’اپسوس پاکستان‘ کی تازہ رپورٹ کے مطابق، پاکستانی عوام نہ صرف ملک کی مجموعی سمت کو درست سمجھ رہے ہیں بلکہ معاشی بہتری کی توقعات بھی بڑھ رہی ہیں۔ یہ پیش رفت ملک کی معاشی اور سیاسی استحکام کی جانب ایک اہم قدم کی عکاسی کرتی ہے، جو عوامی سوچ میں مثبت تبدیلی کی غماز ہے۔
سروے کے اہم نتائج
’اپسوس پاکستان‘ کے سروے نے ظاہر کیا کہ 42 فیصد پاکستانی شہریوں کا خیال ہے کہ ملک صحیح سمت کی جانب گامزن ہے، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں ایک نمایاں بہتری ہے۔ دوسری جانب، 58 فیصد افراد اب بھی ملکی سمت سے مطمئن نہیں، لیکن یہ شرح پچھلے سروے کے مقابلے میں 21 فیصد کم ہوئی ہے، جو حکومتی پالیسیوں پر بڑھتے اعتماد کی علامت ہے۔ خاص طور پر، معاشی مستقبل سے پرامید افراد کی تعداد پہلی بار مایوس کن سوچ رکھنے والوں سے آگے نکل گئی، جو عوامی رائے میں ایک تاریخی موڑ کو اجاگر کرتی ہے۔
خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ اعتماد
سروے کے مطابق، خیبرپختونخوا کے 48 فیصد شہریوں نے ملکی سمت پر سب سے زیادہ اعتماد کا اظہار کیا، جو دیگر صوبوں کے مقابلے میں ایک نمایاں فرق ہے۔ اس کے علاوہ، معیشت کو مضبوط سمجھنے والوں کی شرح 29 فیصد تک جا پہنچی، جو پچھلے سروے کے مقابلے میں 9 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ یہ نتائج صوبائی سطح پر حکومتی اقدامات کی مقبولیت اور معاشی اصلاحات کے مثبت اثرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔
معاشی مستقبل پر بڑھتی امید
ایک اہم پیش رفت یہ ہے کہ پاکستانی عوام کے معاشی مستقبل پر اعتماد میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ سروے کے مطابق، 37 فیصد شہری ملکی معیشت کے مستقبل سے پرامید ہیں، جو گزشتہ برسوں کی نسبت ایک بڑی تبدیلی ہے۔ یہ امید ان معاشی اصلاحات کی بدولت ہے جو حالیہ برسوں میں نافذ کی گئیں، جن میں ایکسچینج ریٹ کو مستحکم کرنا، مالیاتی پالیسیوں کو سخت کرنا، اور مہنگائی پر قابو پانے کے اقدامات شامل ہیں۔ یہ مثبت رجحان پاکستان کی معاشی بحالی کے امکانات کو مزید روشن کرتا ہے۔
مہنگائی اور بے روزگاری پر تشویش میں کمی
سروے سے پتہ چلتا ہے کہ مہنگائی، بے روزگاری، اور غربت جیسے بنیادی مسائل پر عوامی تشویش میں معمولی کمی آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 33 فیصد شہری مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ سمجھتے ہیں، جبکہ 18 فیصد بے روزگاری سے پریشان ہیں۔ غربت کو 9 فیصد نے اہم مسئلہ قرار دیا۔ اگرچہ یہ مسائل اب بھی عوام کے لیے پریشانی کا باعث ہیں، لیکن تشویش کی شرح میں کمی حکومتی اقدامات کے جزوی طور پر کامیاب ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
لوڈشیڈنگ اور ٹیکسز بڑھتی ہوئی پریشانی
دوسری جانب، بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور ٹیکسوں کے بڑھتے بوجھ نے عوامی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ سروے کے مطابق، 7 فیصد شہریوں نے لوڈشیڈنگ کو ایک بڑا مسئلہ قرار دیا، جبکہ ٹیکسوں کے بوجھ نے بھی عوام کی پریشانیوں کو بڑھایا۔ یہ مسائل حکومتی توجہ کے فوری متقاضی ہیں، کیونکہ توانائی کی دستیابی اور مالیاتی دباؤ عوامی اعتماد کو متاثر کرنے والے کلیدی عوامل ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ ان مسائل کا حل نہ ہونے کی صورت میں عوامی اعتماد کو دھچکا لگ سکتا ہے۔
حکومتی اقدامات اور عوامی ردعمل
حکومتی معاشی اصلاحات، جیسے کہ آئی ایم ایف کے تعاون سے شروع کیے گئے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی پروگرام اور ’اراں پاکستان‘ منصوبے، نے عوامی اعتماد کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ شہریوں کی اکثریت ان اصلاحات کو معاشی استحکام کی جانب ایک مثبت قدم سمجھتی ہے۔ ایکس پر صارفین نے بھی اس رپورٹ پر جوش و خروش کا اظہار کیا، جہاں ایک صارف نے لکھا، ’’حکومتی پالیسیوں پر اعتماد بڑھنا پاکستان کی معاشی بحالی کی نوید ہے۔‘‘ تاہم، کچھ صارفین نے لوڈشیڈنگ اور ٹیکسوں پر تحفظات کا ذکر بھی کیا۔
ماہرین کی رائے اور مستقبل کے تقاضے
ماہرین معاشیات نے عوامی اعتماد میں اضافے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے برقرار رکھنے کے لیے حکومت کو بنیادی مسائل کے حل پر توجہ دینی ہوگی۔ توانائی کے بحران کا مستقل حل، ٹیکس نظام میں شفافیت، اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا اولین ترجیحات ہونی چاہئیں۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ اگرچہ معاشی اشاریے بہتر ہو رہے ہیں، لیکن لوڈشیڈنگ اور ٹیکسوں جیسے مسائل عوامی اطمینان کو کم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ حکومت عوامی بہبود کے پروگراموں، جیسے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، کو مزید وسعت دے۔
ایکس پر عوامی جذبات
ایکس پر پاکستانی صارفین نے سروے کے نتائج پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا، ’’42 فیصد پاکستانیوں کا اعتماد بڑھنا ایک اچھا اشارہ ہے، لیکن لوڈشیڈنگ اور ٹیکسز کا بوجھ کم کرنا ہوگا۔‘‘ ایک اور پوسٹ میں کہا گیا، ’’خیبرپختونخوا کا 48 فیصد اعتماد ظاہر کرنا حیرت انگیز ہے، یہ حکومتی پالیسیوں کی کامیابی دکھاتا ہے۔‘‘ یہ تبصرے عوامی امنگوں اور چیلنجز دونوں کو اجاگر کرتے ہیں، جو حکومتی حکمت عملی کے لیے اہم رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
اعتماد کی بحالی اور مستقبل کے چیلنجز
پاکستان میں حکومتی کارکردگی اور معاشی سمت پر عوامی اعتماد کی بحالی ایک اہم کامیابی ہے، جو معاشی اصلاحات اور سیاسی استحکام کی بدولت ممکن ہوئی۔ ’اپسوس پاکستان‘ کے سروے نے ظاہر کیا کہ 42 فیصد شہری ملک کی سمت سے مطمئن ہیں، جبکہ معاشی مستقبل سے پرامید افراد کی تعداد میں اضافہ ایک مثبت رجحان ہے۔ تاہم، لوڈشیڈنگ اور ٹیکسوں کے مسائل نے عوامی پریشانیوں کو بڑھایا ہے، جو حکومتی توجہ کے متقاضی ہیں۔ اس اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے توانائی کے بحران کا حل، مالیاتی نظام میں بہتری، اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ناگزیر ہیں۔ یہ رپورٹ پاکستان کے معاشی مستقبل کے لیے ایک امید افزا نقطہ آغاز ہے، لیکن اسے پائیدار بنانے کے لیے مستقل کوششوں کی ضرورت ہے۔





















