حکومت کا الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کیلئے فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ

پیٹرول اور ڈیزل پر چلنے والی گاڑیوں پر اگلے پانچ سال کے لیے لیوی عائد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے

اسلام آباد:وفاقی بجٹ کا مسودہ 9 جون کو وفاقی کابینہ میں پیش کیا جائے گا اور 10 جون کو پارلیمنٹ میں منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا۔
حکومت نے مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ اور معاشی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بجٹ تجاویز پر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ ورچوئل مذاکرات جاری ہیں، اور اگلے چند دنوں میں انہیں حتمی شکل دی جائے گی۔ بجٹ کا مسودہ 9 جون کو وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جس کے بعد 10 جون کو اسے پارلیمنٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے اقدامات

حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کی ہے۔ اس سلسلے میں پیٹرول اور ڈیزل پر چلنے والی گاڑیوں پر اگلے پانچ سال کے لیے لیوی عائد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ یہ لیوی نہ صرف درآمدی بلکہ مقامی طور پر تیار کردہ گاڑیوں پر بھی لگائی جائے گی۔ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو الیکٹرک وہیکل (ای وی) فنڈ میں منتقل کیا جائے گا، جو 2026-30 کی نئی پانچ سالہ ای وی پالیسی پر خرچ ہوگا۔

اسے بھی پڑھیں: معاشی ماہر پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کی بجٹ کے لئے اہم تجاویز

ذرائع کے مطابق اس لیوی سے سالانہ 25 سے 30 ارب روپے کے ریونیو کی توقع ہے، جبکہ پانچ سال کے دوران مجموعی طور پر 125 سے 150 ارب روپے کی آمدنی متوقع ہے۔ اس فنڈ کا مقصد الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری، چارجنگ انفراسٹرکچر کی ترقی، اور صارفین کے لیے مراعات فراہم کرنا ہے۔

مزید برآں، لیپ ٹاپ اور اسمارٹ فونز کی بیٹریوں اور چارجرز کی مقامی تیاری کو فروغ دینے کے لیے خصوصی مراعات دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف مقامی صنعت کو فروغ ملے گا بلکہ درآمدات پر انحصار کم ہوگا اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

معاشی اہداف

بجٹ میں معاشی ترقی (جی ڈی پی) کا ہدف 4.2 فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے، جبکہ مہنگائی کو 7.5 فیصد تک محدود رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ زرعی شعبے کی ترقی کا ہدف 4.5 فیصد، صنعتی شعبے کا 4.4 فیصد، اور سروسز سیکٹر کا ہدف 4 فیصد رکھا گیا ہے۔

حکومت نے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) اور سالانہ ترقیاتی منصوبوں کو حتمی شکل دینے کے لیے سالانہ منصوبہ رابطہ کمیٹی (اے پی سی سی) کا اجلاس 2 جون کو طلب کیا ہے۔ اس کے بعد وزیراعظم کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا اجلاس ہوگا، جو ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی منظوری دے گا۔ اگر فنڈز میں اضافے کی ضرورت پڑی تو این ای سی اس کی منظوری دے گی۔

بجٹ کی تیاری کا شیڈول

2 جون 2025: سالانہ منصوبہ رابطہ کمیٹی (اے پی سی سی) کا اجلاس، جہاں پی ایس ڈی پی اور مڈ ٹرم بجٹری فریم ورک کو حتمی شکل دی جائے گی۔
اسی ہفتے: قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا اجلاس، جہاں ترقیاتی منصوبوں اور بجٹ فریم ورک کی منظوری دی جائے گی۔
9 جون 2025: اکنامک سروے آف پاکستان جاری کیا جائے گا، جس میں رواں مالی سال کی معاشی کارکردگی کا جائزہ پیش کیا جائے گا۔
10 جون 2025: وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں بجٹ مسودے کی منظوری دی جائے گی، اور اسی روز اسے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔

آئی ایم ایف کی مشاورت

آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات میں سخت مالی و مانیٹری پالیسیوں کو برقرار رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، اہم معاشی اہداف پر آئی ایم ایف سے مشاورت مکمل ہوچکی ہے، جبکہ دیگر تجاویز پر بات چیت جاری ہے۔ توقع ہے کہ اگلے چند دنوں میں تمام تجاویز کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔

کچھ تجاویز

ای وی پالیسی کی شفافیت: ای وی فنڈ کے استعمال کے لیے واضح رہنما اصول وضع کیے جائیں، تاکہ فنڈز کا درست استعمال یقینی ہو اور صارفین کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے۔ مثال کے طور پر، چارجنگ اسٹیشنز کی تنصیب کے لیے نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کی جاسکتی ہے۔
مقامی صنعت کی ترقی: لیپ ٹاپ اور اسمارٹ فون بیٹریوں کی مقامی تیاری کے لیے مراعات کے ساتھ ساتھ تکنیکی تربیت اور تحقیق و ترقی کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں۔ اس سے نہ صرف درآمدات کم ہوں گی بلکہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں جدت بھی آئے گی۔
زرعی شعبے کی ترقی: زرعی ترقی کے ہدف (4.5 فیصد) کو حاصل کرنے کے لیے جدید زرعی ٹیکنالوجیز، جیسے کہ ڈرون ایگریکلچر اور سمارٹ ایریگیشن سسٹمز، کو فروغ دیا جائے۔ کسانوں کو سبسڈی اور کم شرح سود پر قرضوں کی فراہمی سے پیداوار بڑھائی جاسکتی ہے۔
صنعتی شعبے کی بحالی: صنعتی ترقی کے ہدف (4.4 فیصد) کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کے لیے خصوصی پیکج متعارف کرایا جائے، جس میں ٹیکس چھوٹ اور آسان قرضوں کی سہولت شامل ہو۔
مہنگائی پر قابو: مہنگائی کے ہدف (7.5 فیصد) کو حاصل کرنے کے لیے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر کنٹرول کے لیے موثر مانیٹرنگ سسٹم قائم کیا جائے۔ اس کے علاوہ، سپلائی چین کو بہتر بنانے کے لیے لاجسٹک انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی جائے۔
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ: ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی کمی کو پورا کرنے کے لیے نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دیا جائے، خاص طور پر ای وی چارجنگ انفراسٹرکچر اور قابل تجدید توانائی کے منصوبوں میں۔
شہریوں کی شمولیت: بجٹ کے اہم فیصلوں پر عوامی رائے لی جائے، تاکہ شہریوں کی ضروریات اور ترجیحات کو مدنظر رکھا جاسکے۔ اس کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور عوامی سماعتیں منعقد کی جاسکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین