دنیا کو کون کنٹرول کر رہا ہے؟ سابق امریکی عہدیدار کا حیران کن انکشاف!

کووڈ ایک آمرانہ معاشی نظام کے لیے پھیلایا گیا، ویکسینز ڈی این اے تبدیل کرتی ہیں،کیتھرین آسٹن فٹس

سابق امریکی عہدیدار کیتھرین آسٹن فٹس نے ایک پوڈکاسٹ میں دعویٰ کیا کہ ایک خفیہ گروہ، جسے وہ ’مسٹر گلوبل‘ کہتی ہیں، عالمی امور کو کنٹرول کر رہا ہے۔ بش سینئر کی انتظامیہ میں سیکریٹری آف ہاؤسنگ کے معاون کے طور پر خدمات انجام دینے والی فٹس نے کہا کہ یہ گروہ بین ابعادی ذہین ہستیوں کی کمیٹی ہے، جو دنیا کے سربراہان کو کٹھ پتلیوں کی طرح استعمال کرتی ہے۔ ان کے مطابق، یہ گروہ شیطانی ذہانت سے چلتا ہے اور روبوٹکس، مصنوعی ذہانت، سیٹلائٹ سسٹمز، اور ڈیجیٹل کرنسی کے ذریعے عالمی معاشی نظام اور ذہنوں پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے۔ فٹس، جو ایک متنازع سازشی نظریات کی حامی ہیں، نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کووڈ ایک آمرانہ معاشی نظام کے لیے پھیلایا گیا، ویکسینز ڈی این اے تبدیل کرتی ہیں، اور امریکی اشرافیہ کے لیے خفیہ بنکرز موجود ہیں۔ ان کے نظریات نے ایکس پر شدید بحث چھیڑ دی ہے۔

سابق امریکی عہدیدار کا چونکا دینے والا انکشاف

کیتھرین آسٹن فٹس، جو سابق امریکی صدر جارج ایچ ڈبلیو بش کی انتظامیہ میں ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈیویلپمنٹ کے سیکریٹری کی معاون رہ چکی ہیں، نے ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں دعویٰ کیا کہ ایک پراسرار گروہ، جسے وہ ’مسٹر گلوبل‘ کہتی ہیں، عالمی امور کی ڈوریں ہلا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ گروہ دنیا کے سربراہان کو کٹھ پتلیوں کی طرح استعمال کرتا ہے، جبکہ اصل فیصلہ سازی ایک خفیہ کمیٹی کے ہاتھوں میں ہے۔ فٹس کے یہ دعوے عالمی سیاست اور معیشت کے بارے میں نئے سوالات اٹھاتے ہیں، اگرچہ ان کے نظریات کو سازشی خیالات کے طور پر تنقید کا سامنا ہے۔

’مسٹر گلوبل‘ کون ہے؟

فٹس نے اپنے پوڈکاسٹ میں ’مسٹر گلوبل‘ کو بین ابعادی (interdimensional) ذہین ہستیوں کی ایک ایسی کمیٹی قرار دیا جو عالمی کنٹرول کے لیے کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، یہ گروہ شیطانی ذہانت سے متاثر ہے اور دنیا بھر کے سیاسی رہنماؤں کو اپنے ایجنڈے کے تحت چلاتا ہے۔ فٹس نے دعویٰ کیا کہ یہ کمیٹی عالمی معاشی نظام کو اپنی گرفت میں لینے اور انسانی ذہنوں پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے انجیل مقدس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ شیطانی قوتوں اور خدائی ذہانت کے درمیان جاری جنگ کا حصہ ہے، جس میں انسانیت فی الحال شیطانی اثر کے زیر سایہ ہے۔

سازشی نظریات کی تاریخ

کیتھرین فٹس طویل عرصے سے متنازع سازشی نظریات کی حامی رہی ہیں۔ انہوں نے ماضی میں دعویٰ کیا تھا کہ کووڈ-19 وبائی بیماری کو ایک نئے آمرانہ عالمی معاشی نظام کے نفاذ کے لیے جان بوجھ کر پھیلایا گیا۔ اس کے علاوہ، ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ ویکسینز انسانی ڈی این اے میں تبدیلی کا باعث بنتی ہیں اور امریکی اشرافیہ کے لیے خفیہ زیر زمین بنکرز تیار کیے گئے ہیں، جو کسی بڑے بحران کے دوران ان کی حفاظت کے لیے ہیں۔ ان کے یہ نظریات سائنسی برادری اور ماہرین کی جانب سے مسترد کیے جا چکے ہیں، لیکن وہ ایک مخصوص حلقے میں مقبول ہیں۔

عالمی کنٹرول کے جدید آلات

فٹس نے اپنے دعوؤں کی حمایت میں کہا کہ ’مسٹر گلوبل‘ جدید ٹیکنالوجیز جیسے کہ روبوٹکس، مصنوعی ذہانت (AI)، سیٹلائٹ سسٹمز، اور سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسیز (CBDCs) کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ ان کے مطابق، یہ ٹیکنالوجیز مسلسل نگرانی، خودکار نظام، اور مرکزی فیصلہ سازی کو ممکن بناتی ہیں، جس سے لوگوں کی آزادی اور خودمختاری خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ گروہ ان ٹولز کے ذریعے انسانی ذہنوں کو غلام بنانے اور عالمی معیشت پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

شیطانی ذہانت کا کردار

پوڈکاسٹ میں فٹس نے اپنے نظریات کو مذہبی تناظر میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’مسٹر گلوبل‘ ایک ایسی شیطانی ذہانت سے چلتا ہے، جس کا ذکر انجیل مقدس میں کیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ گروہ انسانیت کو کنٹرول کرنے کے لیے روحانی اور ٹیکنالوجیکل دونوں سطحوں پر کام کر رہا ہے۔ فٹس کے مطابق، یہ شیطانی قوتیں عالمی رہنماؤں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں، جس سے دنیا بھر میں بدامنی، معاشی عدم مساوات، اور سماجی کنٹرول بڑھتا ہے۔ ان کا یہ بیان مذہبی عقائد اور سازشی نظریات کے امتزاج کی ایک مثال ہے۔

عالمی معاشی نظام پر گرفت

فٹس نے زور دیا کہ ’مسٹر گلوبل‘ کا بنیادی مقصد عالمی معاشی نظام کو اپنی گرفت میں لینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل کرنسیز اور مصنوعی ذہانت سے لیس مالیاتی نظام اس گروہ کے ہاتھوں میں ایک طاقتور ہتھیار ہے، جو افراد کی مالی آزادی کو ختم کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق، یہ گروہ مرکزی بینکوں کے ذریعے ڈیجیٹل کرنسیز متعارف کروا کر ہر لین دین پر نظر رکھنا چاہتا ہے، جس سے لوگوں کی پرائیویسی اور خودمختاری مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ یہ دعویٰ عالمی مالیاتی نظام کے مستقبل کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کو اجاگر کرتا ہے۔

ایکس پر عوامی ردعمل

فٹس کے ان دعوؤں نے ایکس پر شدید بحث کو جنم دیا۔ ایک صارف نے لکھا، ’’کیتھرین فٹس نے عالمی کنٹرول کے راز سے پردہ اٹھایا، لیکن کیا یہ سچ ہے یا محض سازشی کہانی؟‘‘ ایک اور پوسٹ میں کہا گیا، ’’مسٹر گلوبل کے بارے میں یہ نظریات خوفناک ہیں، لیکن ہمیں ثبوت چاہئیں۔‘‘ کچھ صارفین نے ان کے نظریات کو سائنسی ثبوتوں کی کمی کی وجہ سے مسترد کیا، جبکہ دیگر نے انہیں عالمی نظام کے خلاف ایک بیداری کی تحریک قرار دیا۔ یہ ردعمل عوام میں سازشی نظریات کی مقبولیت اور ان پر تنقید دونوں کو ظاہر کرتا ہے۔

تنقیدی جائزہ اور چیلنجز

کیتھرین فٹس کے دعوؤں کو ماہرین نے غیر مصدقہ اور سائنسی ثبوتوں سے عاری قرار دیا ہے۔ ان کے نظریات کو سازشی خیالات کی ایک شاخ سمجھا جاتا ہے، جو عالمی واقعات کو خفیہ گروہوں سے جوڑتے ہیں۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ایسی کہانیاں معاشرے میں عدم اعتماد اور خوف کو بڑھاتی ہیں، خاص طور پر جب لوگ معاشی یا سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوتے ہیں۔ تاہم، فٹس کے حامی ان کے نظریات کو عالمی نظام کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کی ایک کوشش قرار دیتے ہیں، جو روایتی میڈیا کی رپورٹنگ سے مختلف ہے۔

حقیقت یا افسانہ؟

کیتھرین آسٹن فٹس کا ’مسٹر گلوبل‘ اور عالمی کنٹرول کا دعویٰ ایک ایسی کہانی ہے جو خوف، تجسس، اور تنازع کو جنم دیتی ہے۔ ان کے مطابق، ایک خفیہ گروہ شیطانی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی، اور مالیاتی نظام کے ذریعے دنیا کو کنٹرول کر رہا ہے، جبکہ عالمی رہنما محض کٹھ پتلیاں ہیں۔ اگرچہ ان کے نظریات نے ایکس پر بحث چھیڑ دی ہے، لیکن سائنسی برادری انہیں بے بنیاد قرار دیتی ہے۔ یہ دعوے عالمی سیاست، ٹیکنالوجی، اور معیشت کے مستقبل پر سوالات اٹھاتے ہیں، لیکن ان کے ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے یہ ایک سازشی افسانے سے زیادہ کچھ نہیں سمجھے جاتے۔ عوام کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسی معلومات کو تنقیدی نظر سے دیکھیں اور سائنسی ثبوتوں پر انحصار کریں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین