پی ٹی آئی کے کارکن تحریک میں قانون ہاتھ میں لیں گے تو گرفتار ہو جائیں گے: رانا ثناء اللہ

مل کر بیٹھنے سے نہ صرف سیاسی تناؤ کم ہوگا بلکہ قومی مسائل کے حل کے لیے تعمیری راستہ نکل سکتا ہے

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے 2 جون 2025 کو خبردار کیا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے احتجاجی تحریک شروع کی تو اس کے کارکن قانون ہاتھ میں لینے کی صورت میں گرفتار ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی تحریک کی کال نہ صرف ناکام ہوگی بلکہ یہ خود ان کے لیے مشکلات کا باعث بنے گی، جیسا کہ گزشتہ سال 24 نومبر 2024 کی ناکام کوشش میں دیکھا گیا۔ رانا ثنا اللہ نے پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے مسائل کے حل کے لیے بات چیت کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تحریک سے پی ٹی آئی کو خود نقصان ہوگا، اور یہ کارکنوں کے لیے غیر ضروری مشکلات پیدا کرے گی۔

قانون کی خلاف ورزی کی سزا

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے 2 جون 2025 کو ایک بیان میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے احتجاجی تحریک شروع کی اور اس دوران قانون کو ہاتھ میں لیا تو ان کے کارکنوں کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہنا کہ پی ٹی آئی کی ایسی کوششیں نہ صرف ناکامی سے دوچار ہوں گی بلکہ ان کے کارکنوں کے لیے قانونی اور عملی مشکلات کا باعث بنیں گی۔ یہ بیان ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جہاں پی ٹی آئی نے تحریک کی کال دینے کا عندیہ دیا ہے۔

پی ٹی آئی کی ناکام تاریخ

رانا ثنا اللہ نے ماضی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال 24 نومبر 2024 کو پی ٹی آئی کی تحریک کی کال ناکام ہوئی تھی کیونکہ نہ تو ان کے پاس اس کی صلاحیت تھی اور نہ ہی تیاری۔ انہوں نے طنز کیا کہ 10 مئی 2025 گزر چکا ہے، اور آئندہ دو سال گزرنے کے بعد بھی پی ٹی آئی کی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ انہوں نے کہنا کہ ایسی تحریکیں غیر ضروری طور پر کارکنوں کو مشکلات سے دوچار کرتی ہیں اور سیاسی استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔

مذاکرات کی پیشکش

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت کا حوالہ دیتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حکومت مسائل کے حل کے لیے گفت و شنید کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے واضح پیغام دیا ہے کہ پی ٹی آئی کو چاہیے کہ وہ احتجاج کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ مل کر بیٹھنے سے نہ صرف سیاسی تناؤ کم ہوگا بلکہ قومی مسائل کے حل کے لیے تعمیری راستہ نکل سکتا ہے، جو سب کے مفاد میں ہے۔

تحریک کا خطرہ پی ٹی آئی کے لیے

رانا ثنا اللہ نے خبردار کیا کہ اگر پی ٹی آئی نے تحریک شروع کی تو اس کا سب سے بڑا نقصان خود انہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی طرح اس بار بھی ان کے کارکن قانون شکنی کی صورت میں گرفتاریوں کا سامنا کریں گے، جس سے ان کی سیاسی ساکھ اور کارکنوں کا مورال متاثر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت اپنے کارکنوں کو غیر ضروری خطرات میں ڈال رہی ہے، جبکہ مذاکرات سے وہ اپنے مطالبات کو بہتر انداز میں پیش کر سکتی ہے۔

سیاسی استحکام کی ضرورت

معاون خصوصی نے کہا کہ موجودہ حالات میں سیاسی استحکام پاکستان کے لیے ناگزیر ہے، اور پی ٹی آئی کی تحریکیں اس مقصد کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو معاشی اور سیکورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، اور تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر ان مسائل سے نمٹنا چاہیے۔ انہوں نے پی ٹی آئی پر زور دیا کہ وہ اپنی توانائی احتجاج کے بجائے قومی مفاد میں تعمیری کردار ادا کرنے پر صرف کرے۔

ایکس پر عوامی ردعمل

رانا ثنا اللہ کے بیان نے ایکس پر شدید بحث کو جنم دیا۔ ایک صارف نے لکھا، ’’رانا ثنا اللہ کی دھمکی سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت پی ٹی آئی کی تحریک سے خوفزدہ ہے۔‘‘ ایک اور پوسٹ میں کہا گیا، ’’مذاکرات کی پیشکش اچھی ہے، لیکن پی ٹی آئی کو اپنے کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے۔‘‘ کچھ صارفین نے حکومت کے مذاکراتی عزم کی تعریف کی، جبکہ دیگر نے پی ٹی آئی کی تحریک کو جائز مطالبات کا ذریعہ قرار دیا۔ یہ ردعمل سیاسی پولرائزیشن اور مذاکرات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

پی ٹی آئی کی حکمت عملی پر سوالات

ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی تحریک کی کال اس کی سیاسی حکمت عملی پر سوالات اٹھاتی ہے۔ ماضی کی ناکامیوں کے باوجود، پی ٹی آئی کی قیادت مسلسل احتجاج پر زور دے رہی ہے، جو کارکنوں کے لیے خطرات کا باعث بن سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی پیشکش پی ٹی آئی کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ اپنے مطالبات کو پرامن طریقے سے پیش کرے، لیکن اس کے لیے انہیں اپنی قیادت کے اندر اتفاق رائے اور واضح ایجنڈے کی ضرورت ہے۔

مذاکرات یا تصادم کا انتخاب

رانا ثنا اللہ کا بیان پی ٹی آئی کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ قانون شکنی کی کوئی گنجائش نہیں، اور تحریک سے خود انہیں نقصان ہوگا۔ وزیراعظم کی مذاکرات کی پیشکش سیاسی تناؤ کم کرنے اور مسائل کے حل کے لیے ایک مثبت قدم ہے، لیکن اس کا انحصار پی ٹی آئی کی ردعمل پر ہے۔ موجودہ حالات میں، جہاں پاکستان کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، سیاسی جماعتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ تصادم کے بجائے گفت و شنید کا راستہ اپنائیں۔ پی ٹی آئی کی تحریک ناکامی کا شکار ہوگی یا مذاکرات سے نیا موڑ ملے گا، یہ آنے والا وقت بتائے گا، لیکن رانا ثنا اللہ کا بیان سیاسی استحکام کے لیے ایک واضح عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین