’’بابائے قوم ‘‘شیخ مجیب کی تصویر بنگلہ دیش کے کرنسی نوٹوں سے ہٹا دی گئی

نئے کرنسی نوٹوں پر شیخ مجیب الرحمان سمیت کسی بھی انسانی شخصیت کی تصویر موجود نہیں ہے

ڈھاکہ :بنگلادیش کی سیاسی اور معاشی فضا میں اس وقت شدید ہلچل پیدا ہو گئی ہے ۔ملک کے بانی اور ’’بابائے قوم‘‘ شیخ مجیب الرحمان کی تصویر کو قومی کرنسی نوٹوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں بنگلادیش بینک کی جانب سے 20، 50 اور 1000 ٹکہ مالیت کے نئے کرنسی نوٹ جاری کیے گئے ہیں، جنہوں نے نہ صرف کاغذی کرنسی کے چہرے کو بدلا، بلکہ قومی شناخت اور تاریخ کے بیانیے میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

 کرنسی پر اب کوئی چہرہ نہیں، صرف ورثہ باقی

نئے کرنسی نوٹوں پر شیخ مجیب الرحمان سمیت کسی بھی انسانی شخصیت کی تصویر موجود نہیں ہے۔ ان کی جگہ ملک کے قدرتی مناظر، تاریخی مقامات اور ثقافتی ورثے کی خوبصورت جھلکیاں شامل کی گئی ہیں۔ بینک کے ترجمان کے مطابق، یہ تبدیلی محض جمالیاتی نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے وژن کا حصہ ہے، جس کا مقصد قوم کو اس کے ثقافتی، جغرافیائی اور تاریخی ورثے سے جوڑنا ہے۔ترجمان نے واضح کیا کہ یہ عمل مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا، اور مستقبل میں باقی مالیت کے نوٹ بھی اسی طرز پر جاری کیے جائیں گے۔ تاہم، انہوں نے یہ اطمینان بھی دلایا کہ پرانے نوٹ اور سکے بدستور قانونی حیثیت کے حامل رہیں گے اور ان کا چلن متاثر نہیں ہوگا۔

اسے بھی پڑھیں: بھارت کو زوردار جھٹکا! بنگلہ دیش نے 21 ملین ڈالر کا دفاعی معاہدہ ختم کر دیا

تاریخی پس منظر: کرنسی اور سیاست کا رشتہ

یہ پہلا موقع نہیں جب بنگلادیش میں کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کو تبدیل کیا گیا ہو۔ 1972 میں ملک کے قیام کے فوری بعد جاری کیے گئے ابتدائی نوٹوں پر صرف بنگلادیش کا نقشہ دکھایا گیا تھا۔ بعدازاں، جب شیخ مجیب الرحمان اور ان کی عوامی لیگ حکومت میں آئے، تو نوٹوں پر بابائے قوم کی تصویر کو نمایاں کیا گیا۔لیکن ہر سیاسی دور میں یہ چہرے تبدیل ہوتے رہے۔ جب بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) برسراقتدار آئی، تو کرنسی پر آثار قدیمہ، عمارات اور قدرتی مناظر کو جگہ دی گئی۔ اس بار کی تبدیلی البتہ نہایت مختلف اور گہرے سیاسی سیاق و سباق کے ساتھ سامنے آئی ہے۔

 سیاسی پس منظر: حکومت کی تبدیلی اور نگران نظام

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بنگلادیش شدید سیاسی اتھل پتھل سے گزر رہا ہے۔ پچھلے سال 5 اگست کو ہونے والے حکومت مخالف مظاہرے پُرتشدد رخ اختیار کر گئے تھے، جن میں درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ان مظاہروں نے سیاسی منظرنامے کو یکسر بدل دیا۔ان ہنگاموں کے بعد، اس وقت کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد — جو شیخ مجیب الرحمان کی بیٹی ہیں — اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئیں اور مبینہ طور پر بھارت منتقل ہو گئیں۔ موجودہ وقت میں ملک کی باگ ڈور ایک نگران حکومت کے ہاتھ میں ہے، جو عبوری طور پر ریاستی امور چلا رہی ہے۔

علامتی فیصلہ یا نظریاتی موڑ؟

شیخ مجیب الرحمان کو بنگلادیش میں "بابائے قوم” کا درجہ حاصل ہے۔ ان کی تصویر کا کرنسی نوٹوں سے ہٹایا جانا محض ڈیزائن کی تبدیلی نہیں، بلکہ اس عمل نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے: کیا بنگلادیش اپنی تاریخ کو نئے سرے سے ترتیب دینے جا رہا ہے؟سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ فیصلہ محض ایک علامتی تبدیلی نہیں بلکہ نظریاتی سطح پر ایک بڑی سمت کا تعین کرتا ہے۔ ایسی ریاست جو گزشتہ پانچ دہائیوں سے بانیِ قوم کی شخصیت کے گرد اپنے قومی بیانیے کو استوار کرتی رہی ہو، اب اگر اُس شخصیت کو سرکاری کاغذی کرنسی سے بھی ہٹا دیا جائے تو یہ محض فنِ تعمیر نہیں بلکہ نظریاتی تجدید بھی ہو سکتی ہے۔

عوامی ردِعمل: خاموشی، حیرت اور سوالات

اگرچہ حکومتی سطح پر اس تبدیلی کو مثبت اور وژن سے بھرپور قدم قرار دیا گیا ہے، مگر عوامی سطح پر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ کچھ شہری اس تبدیلی کو ملکی شناخت کے ’’نئے تعارف‘‘ کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جب کہ دیگر طبقات، خصوصاً عوامی لیگ کے ہمدرد، اس پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا اور مقامی مباحثوں میں یہ سوالات گونج رہے ہیں:

کیا شیخ مجیب کی تصویر ہٹانے سے بنگلادیش کی تاریخ کا تسلسل متاثر نہیں ہوگا؟
کیا یہ فیصلہ محض ثقافتی نمائندگی کا ہے یا ایک گہری سیاسی حکمت عملی کا حصہ؟
کیا ریاست اپنی نظریاتی اساس میں تبدیلی کی طرف بڑھ رہی ہے؟

حالیہ کرنسی تبدیلی سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنگلادیش ایک نئی فکری اور سیاسی سمت کا انتخاب کر رہا ہے۔ ممکن ہے کہ آئندہ تاریخ کی نصابی کتابوں، قومی ترانوں اور ریاستی بیانیے میں بھی اسی قسم کی تبدیلیاں رونما ہوں۔
تاہم، یہ فیصلہ قومی یادداشت پر کیا اثر ڈالے گا، اس کا اندازہ آنے والے وقت میں ہوگا۔ فی الحال بنگلادیش ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اس کی شناخت، نظریہ، اور بانی شخصیت کے حوالے سے بڑے سوالات جنم لے رہے ہیں۔
اس فیصلے کے اثرات نہ صرف آج کے بنگلادیش پر ہوں گے بلکہ آنے والی نسلوں کے قومی شعور پر بھی گہرے نقوش چھوڑیں گے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین