اسلام آباد ہائیکورٹ کا شہریوں کیلئے بڑا ریلیف، پراپرٹی ٹیکس میں اضافہ روک دیا

جب تک اسلام آباد میں باقاعدہ منتخب مقامی حکومت بحال نہیں ہوتی، اس وقت تک پراپرٹی ٹیکس کی وہی پرانی شرح نافذ العمل رہے گی جو اس سے قبل مقرر کی گئی تھی:جسٹس محسن اختر کیانی

اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہریوں کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) کو پراپرٹی ٹیکس میں اضافے سے روک دیا۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ جب تک منتخب بلدیاتی حکومت قائم نہیں ہوتی پراپرٹی ٹیکس کی سابقہ شرح ہی لاگو رہے گی۔ اس اہم عدالتی فیصلے سے اسلام آباد کے مکینوں کو ممکنہ مالی دباؤ سے وقتی نجات مل گئی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزز جسٹس محسن اختر کیانی نے اس اہم کیس کی سماعت کی، جس میں متعدد درخواستوں کو یکجا کرکے سنا گیا۔ درخواست گزاروں کی جانب سے ممتاز وکلا بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی، بدر اقبال، محمد علی اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن، کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور ایم سی آئی کے وکلا اور نمائندے بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے، جبکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل اور دیگر سرکاری نمائندگان بھی سماعت میں شامل رہے۔

اسے بھی پڑھیں: پراپرٹی خریداروں کے لیے خوشخبری!آئی ایم ایف ریلیف دینے پر آمادہ

بلدیاتی الیکشن کمیشن ایکٹ 2025

سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد بلدیاتی الیکشن کمیشن ایکٹ 2025 اس وقت پارلیمانی سٹینڈنگ کمیٹی کے زیرِ غور ہے۔ اُن کے مطابق کمیٹی میں بحث کے بعد یہ بل پارلیمنٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا جہاں اس پر مزید بحث اور منظوری کا عمل مکمل ہوگا۔

بلدیاتی انتخابات سے متعلق تفصیلی رپورٹس پیش

الیکشن کمیشن کے نمائندوں نے عدالت میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق تفصیلی رپورٹس پیش کیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے لیے 120 دن کی ٹائم لائن مقرر کی گئی تھی، اور یہ کہ بلدیاتی الیکشن میں جنرل الیکشن کی نسبت کاغذاتِ نامزدگی زیادہ اور پیچیدہ ہوتے ہیں۔ ان کی بات کو سن کر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ "پھر تو ان انتخابات کو انتخابات سمجھا ہی نہ جائے”، جس سے اُن کی تشویش ظاہر ہوتی ہے کہ انتخابی عمل میں غیر ضروری تاخیر کی جارہی ہے۔

چھبیسویں آئینی ترمیم

معزز جج نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ مجوزہ آئینی ترمیم کب تک منظور ہو جائے گی؟ انہوں نے یاد دہانی کروائی کہ "چھبیسویں آئینی ترمیم تو بہت جلدی مکمل ہو گئی تھی، تو کیا یہ ترمیم بھی اتنی ہی تیزی سے ہو جائے گی یا پھر حسبِ روایت تاخیر کا شکار رہے گی؟” اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دلایا کہ مذکورہ ترمیم بھی جلد ہی منظور کر لی جائے گی۔

ایم سی آئی

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ جب اسلام آباد میں کوئی منتخب بلدیاتی حکومت ہی موجود نہیں ہے تو ایم سی آئی کو کس اختیار کے تحت پراپرٹی ٹیکس بڑھانے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی ادارے کے بغیر شہریوں پر اضافی بوجھ ڈالنا قانون و انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے وکیل کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ جب تک اسلام آباد میں باقاعدہ منتخب مقامی حکومت بحال نہیں ہوتی، اس وقت تک پراپرٹی ٹیکس کی وہی پرانی شرح نافذ العمل رہے گی جو اس سے قبل مقرر کی گئی تھی۔

سماعت ملتوی

اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے کیس کی سماعت 24 ستمبر تک ملتوی کر دی اور واضح کر دیا کہ ایم سی آئی کسی بھی صورت میں پراپرٹی ٹیکس میں ازخود اضافہ نہیں کر سکتی۔

یہ فیصلہ نہ صرف قانونی طور پر اہمیت رکھتا ہے بلکہ اس سے وفاقی دارالحکومت کے شہریوں میں موجود بے یقینی کی فضا بھی کسی حد تک ختم ہو گئی ہے۔ اسلام آباد جیسے حساس اور اہم شہر میں بلدیاتی حکومت کی عدم موجودگی اور ٹیکس پالیسیوں میں غیر شفافیت نے عوام کو شدید پریشانی میں مبتلا کر رکھا تھا، جس پر عدالت نے بروقت مداخلت کرتے ہوئے شہریوں کو بڑا ریلیف دیا ہے۔

یہ عدالتی حکم ایک واضح پیغام ہے کہ جب تک عوام کے منتخب نمائندے بلدیاتی نظام کے ذریعے فیصلہ سازی کا اختیار حاصل نہیں کرتے، کسی بھی قسم کے مالی فیصلے صرف بیوروکریسی یا ادارہ جاتی سطح پر نہیں کیے جا سکتے۔ یہ اصول آئین اور عوامی مفاد کے بنیادی تقاضوں سے جڑا ہوا ہے۔

عدالت کی جانب سے یہ عبوری فیصلہ نہ صرف ایک قانونی رہنمائی فراہم کرتا ہے بلکہ حکومت کو اس امر کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ بلدیاتی اداروں کی بحالی اور مضبوطی کسی بھی جمہوری نظام کی بنیاد ہے۔ پراپرٹی ٹیکس جیسے حساس معاملے میں عوامی مشاورت اور نمائندگی کو نظر انداز کرنا عدالتی نکتہ نظر سے قابلِ قبول نہیں۔اب نظر 24 ستمبر کو ہونے والی اگلی سماعت پر ہے، جس میں امید کی جارہی ہے کہ بلدیاتی انتخابات اور آئینی ترامیم سے متعلق مزید پیش رفت عدالت کے سامنے پیش کی جائے گی، اور اس اہم معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ سامنے آئے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین