3 مارچ 1876 کو امریکی ریاست کینٹکی کے علاقے اولمپیا اسپرنگز میں ایک ناقابل یقین واقعہ پیش آیا، جسے "کینٹکی میٹ شاور” کہا جاتا ہے۔ ایلن کمنز نامی خاتون اپنے گھر کے باہر صابن بناتے ہوئے اس وقت حیران رہ گئیں جب آسمان سے گوشت کے سرخ ٹکڑے بارش کی طرح گرنے لگے۔ یہ ٹکڑے تقریباً 90 میٹر کے علاقے میں پھیل گئے، جن میں سے کچھ 3-4 انچ چوڑے تھے۔ عینی شاہدین نے گوشت کو گائے، بھیڑ، یا ہرن کے گوشت سے تشبیہ دی، اور کچھ نے اسے چکھ کر بھیڑ یا ہرن کا گوشت قرار دیا۔ ماہرین کی جانب سے سب سے مقبول نظریہ یہ ہے کہ گدھوں نے پرواز کے دوران اجتماعی طور پر الٹی کی، جو ان کے دفاعی رویے کا حصہ ہے۔ دیگر نظریات، جیسے کہ ٹورنیڈو یا غیر معمولی فضائی حالات، سائنسی ثبوتوں کے فقدان کی وجہ سے کمزور ہیں۔ آج تک یہ واقعہ ایک حل نہ ہونے والا معمہ ہے، جو سائنسی اور عوامی دلچسپی کا باعث بنا ہوا ہے۔
ایک پراسرار واقعہ
3 مارچ 1876 کی صبح، کینٹکی کے گاؤں اولمپیا اسپرنگز میں ایک ایسی عجیب و غریب گھٹنا پیش آئی جس نے مقامی لوگوں اور سائنس دانوں کو ششدر کر دیا۔ ایلن کمنز، ایک مقامی خاتون، اپنے گھر کے صحن میں صابن بنا رہی تھیں جب اچانک آسمان سے گوشت کے سرخ ٹکڑے برسنے لگے۔ یہ واقعہ چند منٹوں تک جاری رہا اور تقریباً 90 میٹر کے دائرے میں گوشت کے ٹکڑوں نے زمین کو ڈھانپ لیا۔ یہ واقعہ، جسے "کینٹکی میٹ شاور” کا نام دیا گیا، آج بھی سائنسی تاریخ کا ایک حل نہ ہونے والا معمہ ہے۔
گوشت کی نوعیت
گرنے والے گوشت کے ٹکڑوں کا رنگ گہرا سرخ تھا، اور ان کا سائز چند سینٹی میٹر سے لے کر 3-4 انچ تک تھا۔ مقامی لوگوں نے انہیں گائے، بھیڑ، یا ہرن کے گوشت سے مشابہ قرار دیا۔ کچھ نڈر افراد نے تو اس گوشت کو چکھا بھی اور اسے بھیڑ یا ہرن کا گوشت بتایا۔ سائنسی تجزیات سے پتہ چلا کہ نمونوں میں پھیپھڑوں کے ٹشوز، پٹھوں، اور کارٹلیج شامل تھے، لیکن یہ کس جانور سے تعلق رکھتے تھے، اس کا حتمی تعین نہ ہو سکا۔ یہ تنوع واقعے کے پراسراریت کو مزید گہرا کرتا ہے۔
عینی شاہد کی روایت
ایلن کمنز نے بتایا کہ واقعے کے وقت آسمان صاف تھا، اور کوئی ابر یا طوفان نظر نہیں آ رہا تھا۔ انہوں نے گوشت کے ٹکڑوں کو برف کے بڑے ٹکڑوں سے تشبیہ دی، جو ہلکے پھلکے انداز میں زمین پر گر رہے تھے۔ ان کے پوتے نے ابتدا میں اسے "برف باری” سمجھا، لیکن جلد ہی اس کی اصلیت واضح ہو گئی۔ ایلن اور ان کے شوہر ایلن کروز نے اسے خدا کی طرف سے ایک نشانی قرار دیا، جو اس وقت کے مذہبی عقائد کی عکاسی کرتا ہے۔
گدھوں کی الٹی کا نظریہ
ماہرین کی طرف سے سب سے زیادہ پذیرائی پانے والا نظریہ گدھوں کے اجتماعی الٹی سے متعلق ہے۔ ڈاکٹر ایل ڈی کاسٹن بائن نے 1876 میں لکھا کہ گدھ، جو مردار کھاتے ہیں، خطرہ محسوس کرنے یا تیز پرواز کے لیے اپنے پیٹ کا مواد الٹ دیتے ہیں۔ اگر ایک گدھ الٹی کرے، تو دوسرے بھی اس کی تقلید کرتے ہیں۔ کاسٹن بائن نے ایک نمونے کو جلایا تو اس سے باسی بھیڑ کے گوشت کی بو آئی، جو اس نظریے کی تائید کرتی ہے۔ چونکہ کینٹکی میں مارچ کے مہینے میں گدھوں کے بڑے جھنڈ عام ہیں، یہ نظریہ سب سے معقول سمجھا جاتا ہے۔
دیگر سائنسی نظریات
کچھ سائنس دانوں نے متبادل نظریات پیش کیے۔ لیوپولڈ برانڈیز نے دعویٰ کیا کہ یہ گوشت نہیں بلکہ نوسٹوک (ایک قسم کی سائنو بیکٹیریا) تھا، جو بارش کے بعد جیل کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ تاہم، اس نظریے کو مسترد کر دیا گیا کیونکہ واقعے کے وقت بارش نہیں ہوئی تھی۔ ایک اور نظریہ یہ تھا کہ ٹورنیڈو نے دور دراز سے گوشت اٹھا کر یہاں گرایا، لیکن کوئی طوفان یا دیگر ملبہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ نظریہ بھی کمزور پڑ گیا۔
غیر معمولی خیالات
کچھ لوگوں نے اس واقعے کو غیر معمولی مظاہر سے جوڑا۔ ایک مزاحیہ نظریہ ولیم لیونگسٹن ایلڈن نے پیش کیا، جس میں کہا گیا کہ یہ گوشت خلائی سیاروں کے ٹکڑوں سے آیا، جو دھماکے سے زمین پر گرا۔ اگرچہ یہ نظریہ سائنسی طور پر ناقابل قبول ہے، لیکن اس نے واقعے کی پراسراریت کو عوامی تخیل میں مزید بڑھا دیا۔ ایلن کروز نے اسے الہی نشانی قرار دیا، جو اس وقت کے مذہبی ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔
سائنسی تحقیقات اور نمونے
واقعے کے بعد سات نمونوں کو مختلف سائنس دانوں نے جانچا۔ ان میں سے دو میں پھیپھڑوں کے ٹشوز، تین میں پٹھوں، اور دو میں کارٹلیج کی شناخت ہوئی۔ ایک نمونہ، جو ٹرانسلوانیا یونیورسٹی میں محفوظ ہے، آج بھی موجود ہے، لیکن 2004 میں کی گئی ڈی این اے ٹیسٹنگ غیر حتمی رہی۔ باتھ کاؤنٹی ہسٹری میوزیم نے 2024 میں اس واقعے کے لیے ایک نمائش شروع کی، جس میں یہ نمونہ نمایاں ہے۔ یہ نمونہ اس معمے کی زندہ یادگار ہے۔
ثقافتی اور عوامی اثر
کینٹکی میٹ شاور نے نہ صرف سائنسی بلکہ ثقافتی دلچسپی بھی پیدا کی۔ اسے بچوں کی کتابوں، پوڈکاسٹس، اور مقامی فیسٹیولز میں موضوع بنایا گیا۔ 2007 میں ٹرانسلوانیا یونیورسٹی کے پروفیسر کرٹ گوہڈے نے گوشت کے ذائقے والے جیلی بینز بنوائے، جو اس واقعے کی عجیب و غریب نوعیت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ایکس پر صارفین اسے "عجیب تاریخ” کا حصہ قرار دیتے ہیں، اور کچھ اسے خلائی مخلوق سے جوڑتے ہیں، جو اس کی مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے





















