پاکستان کی حکومت نے اگلے مالی سال کے بجٹ میں تعلیم، صحت اور پانی کے منصوبوں کو نظر انداز کرتے ہوئے سڑکوں کی تعمیر کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارت کی پانی بند کرنے کی دھمکیوں کے باوجود پانی کے منصوبوں کے بجٹ میں بڑی کٹوتی کی گئی ہے، جبکہ ارکانِ اسمبلی کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے بھاری رقم مختص کی جا رہی ہے۔
ترقیاتی بجٹ کی تیاری
تفصیلات کے مطابق، حکومت نے اگلے مالی سال کے لیے 4,100 ارب روپے کا ترقیاتی پلان تیار کیا ہے۔ مالی بحران کے باوجود یہ بجٹ رواں مالی سال سے 300 ارب روپے یعنی 8 فیصد زیادہ ہے۔ تاہم، اس پلان میں سیاسی ترجیحات کو اہمیت دی گئی ہے، اور سڑکوں کی تعمیر کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
تعلیم، صحت اور پانی کے منصوبوں پر کٹوتی
حکومت نے تعلیم، صحت اور پانی کے منصوبوں کو نظر انداز کر دیا ہے۔ پانی کے منصوبوں کے بجٹ میں 45 فیصد کٹوتی کی گئی ہے، جس سے یہ رقم 140 ارب روپے تک محدود ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ، بھارت کی جانب سے پانی بند کرنے کی دھمکیوں کے باوجود پانی کے منصوبوں کو ترجیح نہیں دی گئی۔ وفاقی وزارت تعلیم کے بجٹ میں 20 ارب روپے یعنی 27 فیصد کمی کی گئی ہے، جبکہ ہائیر ایجوکیشن کے بجٹ میں 32 فیصد کٹوتی کے بعد اسے 45 ارب روپے تک محدود کر دیا گیا ہے۔
دیامر بھاشا ڈیم کے فنڈز میں کمی
دیامر بھاشا ڈیم جیسے اہم منصوبے کے لیے مختص رقم میں بھی 5 ارب روپے کی کٹوتی کی گئی ہے۔ رواں مالی سال میں اس منصوبے کے لیے 40 ارب روپے رکھے گئے تھے، جو اب کم ہو کر 35 ارب روپے ہو گئے ہیں۔
وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی اخراجات
اگلے مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں وفاق کا حصہ 400 ارب روپے کم کر دیا گیا ہے، جبکہ صوبوں کے اخراجات میں 28 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود، وفاق کی مالی معاونت سے مکمل ہونے والی اسکیموں کو خاطر خواہ اہمیت نہیں دی جا رہی۔
ارکانِ اسمبلی کے لیے بھاری فنڈز
مالی مشکلات کے باوجود، حکومت نے ارکانِ اسمبلی کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 50 ارب روپے مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ سیاسی ترجیحات کو مزید واضح کرتا ہے، جہاں سڑکوں کی تعمیر اور ارکانِ اسمبلی کے منصوبوں کو دیگر اہم شعبوں پر فوقیت دی جا رہی ہے۔
پاکستان اور بھارت کے تعلقات حالیہ برسوں میں واٹر ٹریٹی کے تنازع، کشمیر کے مسلے، اور دہشت گردی کے الزامات کی وجہ سے کشیدہ ہیں۔ بھارت کی جانب سے انڈس واٹر ٹریٹی معطل کرنے اور پانی کے منصوبوں پر توجہ دینے سے پاکستان کے زرعی شعبے پر سنگین اثرات کا خطرہ ہے۔ اس کے باوجود، سفارتی کوششوں اور عالمی دباو سے دونوں ممالک کے درمیان جنگ سے گریز کیا گیا، لیکن تعلقات اب بھی نازک ہیں۔
انڈس واٹر ٹریٹی کی معطلی
تفصیلات کے مطابق، بھارت نے اپریل 2025 میں کشمیر میں ایک دہشت گرد حملے کے بعد انڈس واٹر ٹریٹی (IWT) معطل کر دی، جس سے پاکستان کے 80 فیصد زرعی شعبے کو پانی فراہم کرنے والے دریاؤں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا، جسے پاکستان نے مسترد کر دیا۔ بھارت نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کی جا رہی ہے، اور اس معطلی کو قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیا۔ پاکستان نے اسے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے “جنگ کا عمل” تصور کیا اور عالمی عدالتوں میں قانونی چارہ جوئی کا عندیہ دیا
پانی کے منصوبوں پر بھارتی اقدامات
بھارت نے معطلی کے بعد چناب، جہلم، اور انڈس دریاؤں پر ہائیڈرو پاور منصوبوں کو تیز کر دیا، جن سے پاکستان کو پانی کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، بھارت نے چناب پر رنبیر کینال کی توسیع کا منصوبہ بنایا، جو پاکستان کے پنجاب کے زرعی علاقوں کو پانی فراہم کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، بھارت کے پاس فی الحال پانی روکنے کی مکمل صلاحیت نہیں ہے، لیکن نئے ڈیموں کی تعمیر سے خشک موسم میں پاکستان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے)
پاکستان کی مالیاتی ترجیحات اور پانی کا بحران
پاکستان کی حکومت نے اگلے مالی سال کے لیے 4,100 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ تیار کیا ہے، لیکن پانی کے منصوبوں کے بجٹ میں 45 فیصد کٹوتی کر کے اسے 140 ارب روپے تک محدود کر دیا گیا ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم کے فنڈز میں بھی 5 ارب روپے کی کمی کی گئی ہے۔ یہ فیصلہ بھارت کی پانی بند کرنے کی دھمکیوں کے باوجود کیا گیا، جس سے کسانوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر بھارت پانی روکتا ہے تو زرعی زمینیں صحرا میں تبدیل ہو سکتی ہیں)
سفارتی کشیدگی اور عالمی ردعمل
بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی صرف پانی تک محدود نہیں۔ اپریل 2025 کے حملے کے بعد دونوں ممالک نے تجارت معطل کر دی، سفارتی عملے کو واپس بلایا، اور فضائی حدود بند کر دیں۔ تاہم، مئی 2025 میں فوجی سطح پر رابطوں اور عالمی دباؤ کے نتیجے میں جنگ سے گریز کیا گیا۔ بھارت کے وزیر خارجہ جے شنکر نے کہا کہ دونوں ممالک نے باہمی رضامندی سے کشیدگی ختم کی۔ عالمی بینک، جو IWT کا سہولت کار ہے، نے تنازع میں مداخلت سے انکار کیا، لیکن پاکستان عالمی عدالتوں سے رجوع کرنے کی تیاری کر رہا ہے
زراعت اور معیشت پر اثرات
پاکستان کی معیشت کا 25 فیصد حصہ زراعت پر منحصر ہے، اور انڈس بیسن 80 فیصد زرعی زمینوں کو سیراب کرتا ہے۔ پانی کی کمی سے گندم، چاول، اور گنے جیسی فصلوں کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے، جس سے خوراک کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں نے پہلے ہی پاکستان کو پانی کے شدید بحران سے دوچار کیا ہے، جہاں گزشتہ سال بارشوں میں 67 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق ڈیٹا شیئر نہ کرنے سے سیلاب اور خشک سالی کی پیش گوئی مشکل ہو جائے گی۔
مستقبل کے امکانات
ماہرین کا کہنا ہے کہ IWT کو جدید تقاضوں، جیسے موسمیاتی تبدیلی اور آبادی کے دباؤ، کے مطابق اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات اور عالمی ثالثی سے تنازع کو حل کیا جا سکتا ہے، لیکن فی الحال دونوں ممالک کی سیاسی ترجیحات تعلقات کو مزید پیچیدہ کر رہی ہیں۔ پاکستان کے کسانوں اور پالیسی سازوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پانی کے منصوبوں کو ترجیح دی جائے تاکہ زرعی شعبے کو محفوظ بنایا جا سکے)





















