ٹک ٹاکر ثنا یوسف کا قتل کیسے پیش آیا؟ والدہ نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا

شام 5 بجے ایک کالے لباس والا مسلح شخص گھر میں داخل ہوا اور ثنا کے سینے میں دو گولیاں ماریں,والدہ

3 جون 2025 کو اسلام آباد کے سیکٹر جی-13 میں 17 سالہ معروف ٹک ٹاکر ثنا یوسف کو ایک نامعلوم ملزم نے گھر میں گھس کر گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ ثنا کی والدہ فرزانہ یوسف کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا، جنہوں نے بتایا کہ شام 5 بجے ایک کالے لباس والا مسلح شخص گھر میں داخل ہوا اور ثنا کے سینے میں دو گولیاں ماریں۔ واقعے کی گواہ فرزانہ اور ان کی نند لطیفہ شاہ ملزم کو شناخت کر سکتی ہیں۔ ثنا کو ہسپتال منتقل کیا گیا، لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لا سکیں۔ پوسٹ مارٹم کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی۔ پولیس سیف سٹی کیمرہ فوٹیج اور جیو فینسنگ کے ذریعے ملزم کی گرفتاری کے لیے تفتیش کر رہی ہے۔ ایکس پر اس واقعے نے صدمے اور غم و غصے کی لہر دوڑا دی، جبکہ سوشل میڈیا پر غلط افواہوں کی تردید بھی کی گئی۔

والدہ کا عینی شاہد بیان

ثنا کی والدہ فرزانہ یوسف نے پولیس کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ واقعے کے وقت وہ اور ان کی نند لطیفہ شاہ گھر میں موجود تھیں۔ فرزانہ کے مطابق، ان کے شوہر گھر پر نہیں تھے، اور ان کا 15 سالہ بیٹا چترال میں تھا۔ ایک نامعلوم شخص، جس نے کالے رنگ کی شرٹ اور ٹراؤزر پہن رکھا تھا، ہاتھ میں پستول لیے گھر میں داخل ہوا۔ اس نے براہ راست ثنا کے کمرے میں جا کر اس پر فائرنگ کی۔ فرزانہ اور لطیفہ نے شور مچایا، لیکن ملزم تیزی سے فرار ہو گیا۔ دونوں خواتین نے دعویٰ کیا کہ وہ ملزم کو سامنے آنے پر شناخت کر سکتی ہیں۔

فوری امداد کی ناکام کوشش

فائرنگ کے بعد گھر میں موجود خواتین نے فوراً اہل محلہ کی مدد طلب کی۔ پڑوسیوں نے زخمی ثنا کو اپنی گاڑی میں ڈال کر قریبی ہسپتال پہنچایا، لیکن وہ شدید زخموں کی وجہ سے راستے میں ہی دم توڑ گئیں۔ فرزانہ نے بتایا کہ ان کی بیٹی نے ہسپتال پہنچنے سے پہلے آخری سانس لی، جو ان کے لیے ایک ناقابل برداشت لمحہ تھا۔ پولیس نے واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور شواہد اکٹھے کیے۔

مقدمہ درج اور پوسٹ مارٹم

ثنا کی والدہ کی مدعیت میں تھانہ سنبل پولیس نے نامعلوم ملزم کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق، ثنا کی موت سینے میں لگنے والی دو گولیوں سے ہوئی، جو دل اور پھیپھڑوں کو چھید گئیں۔ پوسٹ مارٹم کے بعد ثنا کی میت ورثا کے حوالے کر دی گئی، جنہوں نے چترال میں تدفین کے لیے لے جانے کا فیصلہ کیا۔ پولیس نے ابتدائی رپورٹ میں تصدیق کی کہ فائرنگ قتل کے واضح ارادے سے کی گئی تھی۔

پولیس کی تفتیشی کوششیں

سینئر پولیس افسر نے میڈیا کو بتایا کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے جدید تکنیکی وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ سیف سٹی کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کی چھان بین کی جا رہی ہے، جبکہ جائے وقوعہ کے ارد گرد جیو فینسنگ کے ذریعے مشتبہ افراد کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ ملزم کو کسی صورت معافی نہیں ملے گی، اور اس کی فوری گرفتاری کے لیے تمام وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔ تفتیشی ٹیم نے گھر کے داخلی اور خارجی راستوں کا جائزہ لیا اور گواہوں کے بیانات قلمبند کیے۔

ثنا یوسف ایک عروج پر ستارہ

ثنا یوسف، جو چترال کی رہائشی تھیں، اپنی دلکش ٹک ٹاک ویڈیوز کی بدولت سوشل میڈیا پر خاصی مقبولیت رکھتی تھیں۔ ان کے ہزاروں فالوورز تھے، جو ان کی تخلیقی صلاحیتوں اور مثبت پیغامات کے معترف تھے۔ فرزانہ نے بتایا کہ ثنا ایک پرعزم اور ہونہار لڑکی تھی، جو اپنے خاندان کا سہارا بننا چاہتی تھی۔ ان کی اچانک موت نے نہ صرف خاندان بلکہ ان کے مداحوں کو بھی گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا۔

سوشل میڈیا پر افواہوں کی تردید

واقعے کے بعد ایکس پر کچھ صارفین نے دعویٰ کیا کہ قتل میں ثنا کا کوئی کزن ملوث تھا۔ تاہم، ثنا کے والد نے ان افواہوں کی سختی سے تردید کی، کہا کہ قاتل نامعلوم ہیں اور انہوں نے ثنا کا موبائل فون بھی چھین لیا۔ پولیس نے بھی تصدیق کی کہ تفتیش ابتدائی مراحل میں ہے، اور کسی رشتہ دار کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانے سے گریز کریں۔

ایکس پر عوامی ردعمل

ایکس پر ثنا کے قتل نے غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔ ایک صارف نے لکھا، "ثنا ایک باصلاحیت لڑکی تھی، اس کا یوں چلے جانا ناقابل یقین ہے۔” ایک اور پوسٹ میں کہا گیا، "حکومت کو خواتین کی سیکیورٹی کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔” کئی صارفین نے پولیس سے ملزم کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا، جبکہ کچھ نے ثنا کے خاندان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ یہ ردعمل اس واقعے کی حساسیت اور سوشل میڈیا کی طاقت کو اجاگر کرتا ہے۔

انصاف کا تقاضا

ثنا یوسف کا بہیمانہ قتل پاکستان میں خواتین کے تحفظ اور سوشل میڈیا شخصیات کی سیکیورٹی پر سوالات اٹھاتا ہے۔ فرزانہ یوسف اور لطیفہ شاہ کی گواہی، سی سی ٹی وی فوٹیج، اور جیو فینسنگ سے امید ہے کہ ملزم جلد قانون کی گرفت میں ہوگا۔ ثنا کی موت نے ایک ہونہار زندگی کو چھین لیا، لیکن ان کی یاد ان کے مداحوں کے دلوں میں زندہ رہے گی۔ پولیس کی تفتیش اور عوامی دباؤ اس بات کی ضمانت ہیں کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے

متعلقہ خبریں

مقبول ترین