لندن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے والا گستاخ عدالت سے مجرم قرار

ملزم نے عوامی مقام پر قرآن پاک کے نسخے کو نذرِ آتش کیا اور اس عمل کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا

3 جون 2025 کو لندن کی ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ عدالت نے ایک شخص کو فروری 2025 میں ترک قونصل خانے کے باہر قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے کے جرم میں مجرم قرار دیتے ہوئے 240 پاؤنڈ (تقریباً 325 ڈالر) جرمانہ عائد کیا۔ ملزم نے عوامی مقام پر قرآن پاک کے نسخے کو نذرِ آتش کیا اور اس عمل کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا، جس سے مسلم کمیونٹی میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ملزم کا عمل عوامی بدانتظامی اور اشتعال انگیزی کے زمرے میں آتا ہے، نہ کہ مذہب کی توہین پر مبنی ہے۔ ملزم نے دعویٰ کیا کہ وہ ترک حکومت کے خلاف احتجاج کر رہا تھا، لیکن جج نے اس کے نفرت انگیز رویے اور بدزبانی کو جرم کا باعث قرار دیا۔ ایکس پر صارفین نے جرمانے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے سخت سزا کا مطالبہ کیا، جبکہ کچھ نے اسے برطانوی قانون کی حدود میں ایک مناسب فیصلہ مانا۔

واقعے کی تفصیلات

فروری 2025 میں ملزم نے لندن میں ترک قونصل خانے کے سامنے قرآن پاک کے نسخے کو نذرِ آتش کیا۔ اس نے اس عمل کو سوشل میڈیا پر براہِ راست نشر کیا، جس سے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی۔ پولیس نے فوری طور پر مقدمہ درج کیا اور ملزم کو حراست میں لے لیا۔ واقعے کے دوران ایک شخص نے ملزم پر حملہ بھی کیا، لیکن پولیس نے صورتحال کو کنٹرول کر لیا۔ اس واقعے نے برطانیہ کی مسلم کمیونٹی سمیت عالمی سطح پر بحث کو جنم دیا کہ مذہبی بے حرمتی کے واقعات کو کس طرح روکا جائے۔

ملزم کا دفاع

عدالت میں ملزم نے اپنے دفاع میں دعویٰ کیا کہ اس کا عمل ترک حکومت کے خلاف سیاسی احتجاج تھا، نہ کہ اسلام یا قرآن پاک کے خلاف کوئی ارادہ۔ اس نے کہا کہ وہ قرآن پاک کی کاپی کو ہاتھ میں لہرا رہا تھا جب ایک شخص نے اس پر حملہ کیا، جس سے صورتحال بگڑ گئی۔ تاہم، پراسیکیوشن نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر قرآن پاک کو اسلام سے جوڑ کر اس کی بے حرمتی کی، جو ایک اشتعال انگیز عمل تھا۔

عدالت کا فیصلہ

جج نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اگرچہ مذہبی کتاب کو جلانا کچھ لوگوں کے لیے توہین آمیز ہو سکتا ہے، لیکن یہ مقدمہ عوامی بدانتظامی (public disorder) کے دائرے میں آتا ہے۔ ملزم کی بدزبانی، نفرت انگیز رویہ، اور ترک قونصل خانے جیسے حساس مقام پر قرآن پاک کو نذرِ آتش کرنے کا عمل اسے ایک جرم بناتا ہے۔ جج نے واضح کیا کہ ملزم کا ارادہ نہ صرف بدانتظامی پھیلانا تھا بلکہ اس نے مذہبی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچایا۔

قانونی تنازع

ملزم کے وکیل نے عدالت میں استدلال کیا کہ یہ فیصلہ 2008 میں منسوخ شدہ توہینِ مذہب کے قانون کو غیر مستقیم طور پر بحال کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملزم کا عمل آزادیِ رائے کا حصہ تھا۔ تاہم، پراسیکیوشن نے زور دیا کہ مقدمہ مذہب کی توہین پر نہیں بلکہ عوامی مقام پر اشتعال انگیزی اور بدانتظامی پر مبنی ہے۔ عدالت نے پراسیکیوشن کے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے فیصلہ سنایا، لیکن جرمانے کی کم رقم نے کچھ حلقوں میں مایوسی پیدا کی۔

ایکس پر عوامی ردعمل

ایکس پر اس فیصلے نے شدید بحث چھیڑ دی۔ ایک صارف نے لکھا، "240 پاؤنڈ کا جرمانہ؟ قرآن پاک کی بے حرمتی جیسے سنگین جرم کے لیے یہ سزا ناکافی ہے!” ایک اور نے کہا، "برطانوی قانون نے بدانتظامی کا زاویہ اپنایا، لیکن مذہبی حساسیت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔” کچھ صارفین نے فیصلے کو برطانوی قانون کی حدود میں مناسب قرار دیا، جبکہ دیگر نے سخت سزا اور توہینِ مذہب کے قانون کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ یہ ردعمل واقعے کی حساسیت اور عالمی سطح پر مذہبی ہم آہنگی کے مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔

مسلم کمیونٹی کی تشویش

برطانیہ کی مسلم کمیونٹی نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ مسلم کونسل آف برٹن (MCB) کے ترجمان نے کہا کہ اس طرح کے واقعات مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں اور مسلم کمیونٹی کے جذبات کو مجروح کرتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ برطانوی حکومت نفرت انگیز جرائم کے قوانین کو مزید سخت کرے۔ ایکس پر پاکستانی صارفین نے بھی اس واقعے کی مذمت کی اور برطانوی عدالت سے سخت سزا کی اپیل کی۔

عالمی تناظر

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب یورپ میں مذہبی بے حرمتی کے واقعات، خاص طور پر قرآن پاک کے ساتھ بدسلوکی، عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ سویڈن اور ڈنمارک میں حالیہ واقعات کے بعد عالمی سطح پر مسلم ممالک نے یورپی حکومتوں سے اس طرح کے اعمال کو روکنے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ لندن کا یہ کیس اس بحث کا حصہ بن گیا ہے کہ آزادیِ رائے اور مذہبی احترام کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔

انصاف اور ہم آہنگی کا امتحان

لندن کی عدالت کا فیصلہ قرآن پاک کی بے حرمتی کے اس سنگین واقعے کے خلاف ایک قدم ہے، لیکن 240 پاؤنڈ کے جرمانے نے مسلم کمیونٹی اور دیگر مذہبی گروہوں میں مایوسی پیدا کی۔ عدالت نے اسے عوامی بدانتظامی کا معاملہ قرار دیا، لیکن مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کی حساسیت کو مکمل طور پر پرکھنا باقی ہے۔ یہ کیس برطانوی قانون، آزادیِ رائے، اور مذہبی ہم آہنگی کے درمیان پیچیدہ رشتے کو اجاگر کرتا ہے۔ ایکس پر جاری بحث اور مسلم کمیونٹی کی تشویش سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس طرح کے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ معاشرتی اتحاد کو فروغ دیا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین