ملک میں گدھوں کی تعداد میں ایک لاکھ کا اضافہ، مجموعی تعداد 60 لاکھ 47 ہزار ہوگئی

یہ اضافہ زرعی معیشت اور دیہی علاقوں کے لیے مثبت اشارہ ہے

ادارہ شماریات کی تازہ رپورٹ کے مطابق، ملک میں گزشتہ ایک سال کے دوران مویشیوں کی مختلف اقسام کی تعداد میں قابل ذکر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ زرعی معیشت اور دیہی علاقوں کے لیے مثبت اشارہ ہے، کیونکہ مویشی پالتو جانور ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ رپورٹ میں گدھوں، بھینسوں، بھیڑوں، بکریوں، اونٹوں، گھوڑوں اور خچروں سمیت دیگر مویشیوں کی تعداد میں اضافے کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔

گدھوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ

ادارہ شماریات کی دستاویز کے مطابق، ملک میں گدھوں کی تعداد میں گزشتہ ایک سال کے دوران ایک لاکھ نو ہزار کا اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کے نتیجے میں گدھوں کی مجموعی تعداد 59 لاکھ 38 ہزار سے بڑھ کر 60 لاکھ 47 ہزار تک جا پہنچی ہے۔ گدھے دیہی علاقوں میں بوجھ ڈھونے اور نقل و حمل کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں، اور ان کی تعداد میں اضافہ دیہی معیشت کو مزید مستحکم کر سکتا ہے۔

بھینسوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ

رپورٹ کے مطابق، بھینسوں کی تعداد میں گزشتہ ایک سال میں 13 لاکھ 78 ہزار کا شاندار اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس کے نتیجے میں بھینسوں کی مجموعی تعداد 4 کروڑ 63 لاکھ 10 ہزار سے بڑھ کر 4 کروڑ 76 لاکھ 88 ہزار ہو گئی ہے۔ بھینسیں دودھ کی پیداوار اور زرعی کاموں کے لیے اہم ہیں، اور ان کی تعداد میں اضافہ ڈیری انڈسٹری کے لیے خوشخبری ہے۔

بھیڑوں اور بکریوں کی تعداد میں بھی بڑھوتری

دستاویز کے مطابق، بھیڑوں کی تعداد میں 3 لاکھ 88 ہزار کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد ان کی مجموعی تعداد 3 کروڑ 27 لاکھ 31 ہزار سے بڑھ کر 3 کروڑ 31 لاکھ 19 ہزار ہو گئی ہے۔ اسی طرح، بکریوں کی تعداد میں 23 لاکھ 58 ہزار کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے ان کی مجموعی تعداد 8 کروڑ 70 لاکھ 35 ہزار سے بڑھ کر 8 کروڑ 93 لاکھ 93 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اضافہ گوشت اور اون کی پیداوار کے شعبے کے لیے مثبت ہے۔

اونٹوں، گھوڑوں اور خچروں کی تعداد میں اضافہ

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اونٹوں کی تعداد میں 14 ہزار کا اضافہ ہوا، جس کے بعد ان کی مجموعی تعداد 11 لاکھ 63 ہزار سے بڑھ کر 11 لاکھ 77 ہزار ہو گئی ہے۔ اسی طرح، گھوڑوں کی تعداد میں ایک ہزار اور خچروں کی تعداد میں 3 ہزار کا اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں گھوڑوں کی تعداد 3 لاکھ 83 ہزار اور خچروں کی تعداد 2 لاکھ 27 ہزار ہو گئی ہے۔ یہ جانور دیہی نقل و حمل اور زرعی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

مجموعی مویشیوں کی تعداد میں قابل ذکر اضافہ

ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ایک سال میں مجموعی مویشیوں کی تعداد میں 21 لاکھ 71 ہزار کا اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کے بعد مویشیوں کی کل تعداد 5 کروڑ 75 لاکھ 40 ہزار سے بڑھ کر 5 کروڑ 97 لاکھ 11 ہزار ہو گئی ہے۔ یہ اضافہ زرعی شعبے کی ترقی اور دیہی معیشت کی مضبوطی کی عکاسی کرتا ہے۔

زرعی معیشت کے لیے مثبت اشارے

ادارہ شماریات کی اس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں مویشیوں کی تعداد میں اضافہ زرعی معیشت کے لیے ایک مثبت رجحان ہے۔ گدھوں، بھینسوں، بھیڑوں، بکریوں، اونٹوں، گھوڑوں اور خچروں کی تعداد میں اضافہ نہ صرف دیہی معیشت کو تقویت بخشتا ہے بلکہ دودھ، گوشت، اور نقل و حمل کے شعبوں میں بھی ترقی کا باعث بن رہا ہے۔ یہ رپورٹ زرعی پالیسیوں اور مویشی پالنے کے شعبے میں سرمایہ کاری کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین