عید قربان پر گوشت محفوظ کرنے کے جدید اور پرانے طریقے

اگر گوشت کو صفائی سے دھو کر فریزر میں رکھا جائے تو وہ مہینوں تک بلکل تازہ حالت میں رہتا ہے

خصوصی رپورٹ: اقصیٰ ناز ایڈووکیٹ

عید قرباں پر گوشت کو تازہ اور صحت بخش حالت میں محفوظ رکھنا انتہائی اہم مرحلہ ہوتا ہے خاص طور پر جب عید گرمیوں میں آئے جیسا کہ ان دنوں ہو رہا ہے۔ گرمی میں گوشت جلد خراب ہونے کے خدشات کافی حد تک بڑھ جاتے ہیں ، گوشت کو لمبے عرصے تک محفوظ اور قابل استعمال بنانے کے لئے ضروری ہے کہ موثر اور آزمودہ طریقوں کو اپنایا جائے
قربانی کے بعد ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے کہ کس گوشت کو طرح کئی ہفتوں یا مہینوں تک محفوظ رکھا جائے ۔ اگر ہم چند بنیادی تدابیر پر عمل کر لیں تو ہم گوشت کو لمبے عرصے تک صحت مند حالت میںمحفوظ رکھ سکتے ہیں۔
فریزر کو گوشت محفوظ رکھنے کا سب سے مؤثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر گوشت کو صفائی سے دھو کر فریزر میں رکھا جائے تو وہ مہینوں تک بلکل تازہ حالت میں رہتا ہے۔
فریزر کے علاوہ بھی چند طریقے موجود ہیں جو گوشت کو کچھ وقت کے لیے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اگر بجلی کی فراہمی متاثر ہو جائے یا فوری طور پر فریزنگ ممکن نہ ہو۔

اسے بھی پڑھیں: منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کی عید قربانی مہم، لاکھوں مستحقین تک گوشت پہنچانے کی حکمت عملی وضع

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر گوشت کو صحیح طریقے سے ذخیرہ نہ کیا جائے تو یہ چند گھنٹوں میں جراثیم کی افزائش گاہ بن سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ گوشت کو فوراً اور درست انداز سے محفوظ کیا جائے تاکہ نہ صرف اس کی غذائیت برقرار رہے بلکہ استعمال کے وقت یہ تازہ اور محفوظ ہو۔

فریزر میں محفوظ کرنے کا صحیح طریقہ

گوشت کو پہلے اچھی طرح دھو کر خشک کر لیں تاکہ نمی باقی نہ رہے۔
اسے چھوٹے حصوں میں کاٹ کر پلاسٹک بیگز یا ایئرٹائٹ کنٹینرز میں بند کریں تاکہ ہوا اندر داخل نہ ہو۔
فریزر پیپر یا پلاسٹک ریپ کا استعمال کریں تاکہ گوشت کے سلائس آپس میں جُڑیں نہیں اور علیحدہ رہیں۔
ہڈیوں کو نکالنا بہتر ہے کیونکہ یہ زیادہ جگہ گھیرتی ہیں اور فریزر کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔
فریزر کا درجہ حرارت 0°F (یعنی -18°C) ہونا ضروری ہے تاکہ بیکٹیریا کی افزائش مکمل طور پر رک جائے۔

گوشت کو فریزر میں کتنی دیر محفوظ رکھا جا سکتا ہے؟

کچا گوشت: 4 سے 12 ماہ
قیمہ: زیادہ سے زیادہ 3 ماہ
پکا ہوا گوشت: 2 سے 3 ماہ
یہ بات ذہن نشین رہے کہ منجمد گوشت کو دوبارہ فریز کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے استعمال سے پہلے اچھی طرح دیکھ بھال ضروری ہے۔

کولر کا استعمال

اگر کسی کے گھر فریزر موجود نہیں یا بجلی کی بندش کے سبب فریزر کام نہ کر رہا ہو، تو واٹر کولر ایک مؤثر متبادل ثابت ہو سکتا ہے:
کولر کی تہہ میں برف رکھیں، پھر گوشت رکھ کر اسے مزید برف سے ڈھانپ دیں۔
کوشش کریں کہ گوشت ہر وقت برف میں ڈوبا رہے۔
پگھلتی ہوئی برف کو وقتاً فوقتاً تبدیل کرتے رہیں تاکہ ٹھنڈک برقرار رہے۔
یہ طریقہ خاص طور پر ان علاقوں کے لیے مفید ہے جہاں لوڈ شیڈنگ عام ہو یا فریزر کی سہولت میسر نہ ہو۔

منجمد گوشت کو قابل استعمال کیسے بنایا جائے؟

اگر گوشت کو فریز کیا گیا ہو تو اسے استعمال کرنے سے پہلے محتاط طریقے سے ڈیفروسٹ کرنا ضروری ہے:
گوشت کو ایئرٹائٹ پیکج سمیت ٹھنڈے پانی میں رکھیں اور ہر 30 منٹ بعد پانی تبدیل کرتے رہیں۔
گوشت کی رنگت اور بو ضرور چیک کریں۔ اگر رنگت سیاہ یا سبز ہو یا بدبو آئے تو وہ گوشت استعمال کے قابل نہیں۔
اگر صرف اوپری حصہ متاثر ہو تو اسے کاٹ کر علیحدہ کیا جا سکتا ہے۔

نمک سے گوشت محفوظ کرنا: قدیم مگر مؤثر طریقہ

نمک (Curing Salt) سے گوشت محفوظ کرنا انسان کا صدیوں پرانا طریقہ ہے۔ اس طریقے میں:
گوشت کو نمک لگا کر ایئرٹائٹ بیگ یا برتن میں بند کر دیا جاتا ہے۔
برتن کو کسی ٹھنڈی جگہ (36°F سے 40°F) پر رکھ دیا جاتا ہے۔
ایک ماہ تک یہ گوشت محفوظ رہتا ہے، تاہم استعمال سے قبل نمک کو دھونا ضروری ہے۔
یہ طریقہ آج بھی ان علاقوں میں رائج ہے جہاں فریج یا فریزر دستیاب نہیں۔

عہدِ نبوی ﷺ میں گوشت کو محفوظ رکھنے کا طریقہ

حضور نبی کریم ﷺ کے دور میں چونکہ برقی سہولیات موجود نہیں تھیں، اس لیے لوگ گوشت کو محفوظ رکھنے کے لیے قدرتی اور سادہ طریقے اپناتے تھے۔
صحیح بخاری و مسلم کی احادیث کے مطابق تین دن سے زیادہ گوشت ذخیرہ کرنے کی ممانعت کی گئی تھی تاکہ معاشرے کے تمام افراد کو قربانی کا گوشت میسر آ سکے۔ تاہم، بعد میں حالات کے پیش نظر یہ اجازت دی گئی کہ گوشت کو زیادہ دنوں تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

اس دور میں لوگ:

گوشت کو دھوپ میں سکھا کر خشک کر لیا کرتے تھے (جسے آج jerky کہا جاتا ہے)
نمک لگا کر اسے محفوظ کرتے تھے
گھی یا چربی میں پکا کر اسے مٹی کے برتنوں میں ذخیرہ کرتے تھے
یہ تمام طریقے نہ صرف قدرتی تھے بلکہ گوشت کو کئی دنوں تک خراب ہونے سے بچاتے تھے۔

عید قربان صرف ایک مذہبی فریضہ نہیں، بلکہ ایک اجتماعی شعور کی علامت بھی ہے۔ گوشت کو محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنا نہ صرف ہماری صحت کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ اس عظیم نعمت کا احترام بھی ہے جو قربانی کی صورت ہمیں عطا ہوئی۔
لہٰذا، چاہے آپ کے پاس جدید فریزر ہو، یا صرف ایک سادہ کولر، یا نمک کا قدیم نسخہ — ان تمام طریقوں میں صفائی، احتیاط، اور شکرگزاری ہی اصل راز ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین