ماہرین نے عراق کی قدیم نہروں کا راز فاش کر دیا، حیران کن انکشاف

یہ نہریں اور رجز زنج نامی غلاموں نے بنائے۔ زنج، جو مشرقی افریقی سواہلی ساحل سے لائے گئے

4 جون 2025 کو ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے جنوبی عراق میں رجز (طویل ابھار) اور نہروں کے وسیع نیٹ ورک کی اصل دریافت کر لی، جو صدیوں سے زرعی نظام کی باقیات سمجھی جاتی تھیں۔ نئی تحقیق سے پتہ چلا کہ یہ ڈھانچے نویں صدی عیسوی میں زنج غلاموں نے بنائے، جنہوں نے 869 سے 883 عیسوی تک عباسیوں کے خلاف زنج بغاوت کی۔ یہ غلام مشرقی افریقی سواہلی ساحل سے لائے گئے تھے، اور ان کی نسلیں آج بصرہ میں رہتی ہیں۔ بین الاقوامی ٹیم کی تحقیق، جو جرنل اینٹیکٹی میں شائع ہوئی، نے ڈیٹنگ کے ذریعے ثابت کیا کہ یہ تعمیرات کئی صدیوں پر محیط ہیں۔

زنج غلاموں کی تعمیرات
بین الاقوامی ماہرین کی ایک ٹیم نے نئے شواہد اکٹھے کیے، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نہریں اور رجز زنج نامی غلاموں نے بنائے۔ زنج، جو مشرقی افریقی سواہلی ساحل سے لائے گئے، عباسی دور میں سخت محنت کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ تحقیق سے پتہ چلا کہ ان ڈھانچوں کی تعمیر کئی صدیوں تک جاری رہی، جو نویں صدی میں زنج بغاوت کے وقت سے شروع ہوئی۔ یہ ڈھانچے زراعت کے ساتھ ساتھ سماجی کنٹرول کے نظام کی عکاسی کرتے ہیں۔

زنج بغاوت کی کہانی
869 عیسوی میں زنج غلاموں نے عباسی خلافت کے خلاف ایک عظیم بغاوت کی، جو تاریخ میں "زنج بغاوت” کے نام سے مشہور ہے۔ یہ سرکشی ایک دہائی سے زائد عرصے تک جاری رہی، جس نے عباسیوں کے اقتدار کو شدید چیلنج کیا۔ 883 عیسوی میں عباسیوں نے اس علاقے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کیا، لیکن زنج کی یہ جدوجہد جنوبی عراق کی تاریخ کا ایک اہم باب بن گئی۔ یہ بغاوت غلاموں کی مزاحمت اور ان کے سماجی کردار کو نمایاں کرتی ہے۔

تعمیرات کی ڈیٹنگ
ماہرین نے جدید ڈیٹنگ تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے ثابت کیا کہ یہ نہریں اور رجز متعدد صدیوں پر محیط ہیں۔ یہ ڈھانچے نویں صدی عیسوی سے شروع ہو کر بعد کی صدیوں تک بنائے جاتے رہے، جو اس دور کے وسیع زرعی اور سماجی نظام کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ شواہد اس نظریے کی نفی کرتے ہیں کہ یہ محض زرعی باقیات ہیں، بلکہ یہ ایک منظم غلامی کے نظام کی پیداوار ہیں۔

زنج کی اصلیت پر بحث
زنج کی اصلیت کے بارے میں تاریخی اختلافات موجود ہیں۔ اگرچہ انہیں عام طور پر مشرقی افریقی سواہلی ساحل سے جوڑا جاتا ہے، لیکن کچھ مورخین کا خیال ہے کہ ان کا تعلق افریقہ کے دیگر حصوں سے بھی ہو سکتا ہے۔ قرونِ وسطیٰ کی اصطلاح "زنج” اس مخصوص جغرافیائی خطے کی نشاندہی کرتی ہے، لیکن ان کی اصل نسل ابھی تک مکمل طور پر واضح نہیں۔ یہ تحقیق اس بحث کو مزید آگے بڑھاتی ہے، جو مستقبل کی تحقیقات کے لیے ایک اہم نقطہ آغاز ہے۔

آج کے زنج نسل
زنج غلاموں کی نسلیں آج بھی عراق کے جنوبی بندرگاہی شہر بصرہ میں آباد ہیں۔ ان کی موجودگی اس تاریخی جدوجہد کی زندہ یادگار ہے، جو عباسی دور کی سماجی ساخت اور غلامی کے نظام کی پیچیدگیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ ان کمیونٹیز کی ثقافت اور تاریخ اس تحقیق کے ذریعے نئے سرے سے توجہ حاصل کر رہی ہے، جو ان کے ماضی کو عالمی سطح پر اجاگر کرتی ہے۔

تحقیق کی اشاعت
یہ اہم تحقیق جرنل اینٹیکٹی میں شائع ہوئی، جو آثارِ قدیمہ کے میدان میں ایک معتبر پلیٹ فارم ہے۔ اس مطالعے نے نہ صرف جنوبی عراق کے نہری نظام کے راز کو کھولا بلکہ عباسی دور کی سماجی اور معاشی ڈھانچے پر بھی نئی روشنی ڈالی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق مستقبل میں مزید تاریخی انکشافات کی راہ ہموار کرے گی، جو عراق کی قدیم تہذیبوں کو سمجھنے میں مدد دے گی۔

ایکس پر عوامی ردعمل
ایکس پر اس دریافت نے تاریخ اور آثارِ قدیمہ کے شائقین میں زبردست دلچسپی پیدا کی۔ ایک صارف نے لکھا، "زنج بغاوت کی یہ کہانی عراق کی تاریخ کا ایک سنسنی خیز باب ہے۔” دوسرے نے کہا، "یہ دریافت ثابت کرتی ہے کہ ہمارا ماضی کتنا پیچیدہ تھا۔” تاہم، کچھ صارفین نے زنج کی اصلیت پر مزید تحقیق کا مطالبہ کیا، جبکہ دیگر نے اسے عباسی دور کی غلامی کے نظام پر ایک اہم تبصرہ قرار دیا۔

جنوبی عراق کی تاریخی اہمیت
جنوبی عراق، جو قدیم میسوپوٹیمیا کا حصہ ہے، ہزاروں سال سے تہذیبوں کا گہوارہ رہا ہے۔ یہ تحقیق اس خطے کی زرعی اور سماجی ترقی کو سمجھنے کے لیے ایک نیا زاویہ فراہم کرتی ہے۔ نہروں کا یہ نیٹ ورک نہ صرف زراعت کے لیے بلکہ غلاموں کے کنٹرول اور معاشی استحکام کے لیے بھی بنایا گیا تھا، جو اس دور کے پیچیدہ سماجی ڈھانچے کی عکاسی کرتا ہے۔

تاریخ کا ایک نیا باب
ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی اس تحقیق نے جنوبی عراق کے نہری نظام اور رجز کے راز کو کھول کر تاریخ کے ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے۔ زنج غلاموں کی محنت اور ان کی بغاوت کی کہانی نہ صرف عباسی دور کی سماجی پیچیدگیوں کو ظاہر کرتی ہے بلکہ آج کے بصرہ میں ان کی نسلوں کی موجودگی کو بھی معنویت دیتی ہے۔ ایکس پر جاری بحث اور جرنل اینٹیکٹی میں اس کی اشاعت اس دریافت کی عالمگیر اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ مطالعہ مستقبل میں عراق کی قدیم تہذیبوں کے مزید راز کھولنے کی راہ ہموار کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین